نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

Published On October 27, 2025
قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

مولانا محبوب احمد سرگودھا   پہلی تحریر میں عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء" کے بارے میں غامدی صاحب کے نظریہ کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس تحریر میں  اُن کے نزول الی الارض کے بارے میں غامدی صاحب کا نظریہ پیش خدمت ہے:۔  اولاً غامدی صاحب کی عبارت ملاحظہ کی جائے ، اپنی...

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کا معروف موقف ہے کہ حکومت و سیاست سے متعلق شریعت نے بس چند احکام ہی دیے ہیں۔ بسا اوقات سورۃ الحج کی آیت 41 کا حوالہ دے کر ان چند احکام کو ’بس چار احکام‘ تک محدود کردیتے ہیں: نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے...

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

جہانگیر حنیف قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہے۔ قرآنِ مجید نے اپنا تعارف جن الفاظ میں کروایا ہے، اگر ان پر غور کیا جائے، تو قرآنِ مجید کا کتابِ ہدایت ہونا ان سب کو شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو اگر کسی ایک لفظ سے تعارف کروانے کی ضرورت پیش آجائے، تو کچھ اور کہنے کی...

ڈاکٹر زاہد مغل

مولانا اصلاحی صاحب مبادی تدبر حدیث میں نسخ القرآن بذریعہ سنت کی ممانعت پر حجت قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث میں ضعف کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کی یہ بات محض ایک خطابی انداز استدلال ہے اور ان لوگوں کے مقدمے کو ایڈریس نہیں کرتی جو اس کے قائل ہیں۔ آپ کی گفتگو میں نہ یہ بتایا گیا ہے کہ نسخ کا مفہوم کیا ہے اور نہ ہی آپ یہ بتاتے ہیں کہ نبی کی حین حیات کسی حکم کی تابید کیسے ثابت ہوتی ہے کہ ظنی دلیل اسے منسوخ نہیں کرسکتی، بس بلا دلیل خلاف عقل کا ایک دعوی کردیا گیا ہے۔ اصولی مباحث پر گفتگو کرنے کا یہ ایک غیر اصول طریقہ ہے۔ اگر نبی کی حین حیات قرآن میں حکم آئے “جو کوئی موت کے وقت کو پائے اسے چاہئے کہ اپنے مال سے متعلق وصیت کرے”، تو محض ان الفاظ کی بنا پر مخاطب کیا ابتدائے کلام سے یہ عقیدہ رکھے گا کہ حکم ہمیشہ کے لئے دے دیا گیا ہے؟ اگر ہاں، تو ان معین الفاظ میں اس مفروضے کو سپورٹ کرنے کی دلیل کیا ہے نیز اس کے بعد خود قرآن میں ناسخ آنے کا امکان بھی کیا ختم نہیں ہوگیا؟ اور اگر نہیں، تو وہ کیا عقیدہ رکھے گا؟ یہی کہ اس حکم کا ابدی ہونا ظنی ہے اس لئے کہ یہ ظنی دلیل (مثلا استصحاب حال) پر مبنی ہے اور شارع چاہے تو اسے ختم کردے، یعنی اس کی مدت انتہا ظاہر کردے۔ پس نبی کی حین حیات حکم کی تابید کا مفروضہ از خود ظنی ہوتا ہے (الا یہ کہ وہ حسن و قبح عقلی یا لفظ “ابدا” سے ثابت ہو، جو اس کے قائل ہیں) اور ظنی دلیل سے ثابت بات کے ظنی دلیل سے رفع ہونے کو عقل بالکل جائز کہتی ہے۔ الغرض مولانا اصلاحی صاحب یہاں اصل قانونی پہلو پر غور کرنے کے بجائے “قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز” کے دعوے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…