نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

ڈاکٹر خضر یسین حدیث کے متعلق غامدی صاحب کا موقف کسی اصول پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ حدیث کی فنی حیثیت متعین کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ حدیث کا مدار اعتبار "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" ہے، نہ کہ "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے یہ بات تولکھی ہے کہ ،، تخصیص وتحدیدِ قران کسی قسم کی وحی سے نہیں ہوسکتی ، اورنہ پیغمبر ہی اس میں کوئی ترمیم وتغیرکرسکتاہے (میزان ص 24) مگر تخصیص اورنسخ میں کوئی فرق وہ بیان نہیں کرتے ہیں حالانکہ اہلِ علم دونوں کے درمیان بہت سے فروق بیان...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہفتم)

ڈاکٹر خضر یسین قرآن مجید کے متعلق غامدی صاحب کی تحریر و تقریر سے یہ تاثر لئے بغیر، آپ نہیں رہ سکتے کہ وہ کسی ادبی کتاب کے متعلق اپنی انتقادی تحسین بیان کر رہے ہیں۔ الوہی ہدایت کے مقابل، ہدایت وصول کرنے والے انسان کا طرزعمل اور احساس و تاثر ایک نقاد کا کبھی نہیں ہوتا۔...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 11)

مولانا واصل واسطی احبابِ کرام جناب غامدی کی توجیہِ حدیث سے پہلے اس حدیث کا ترجمہ ان کے قلم سے پڑھ لیں ، جوکل کی پوسٹ میں گذرگئی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبدالرحمن بن الزبیر قرظی نے نکاح کرلیا ، سیدہ عائشہ...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ششم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب کی دینی فکر اور اس کے پورے تنظیمی ڈھانچے کو سمجھنا خاصہ دشوار کام ہے کیونکہ ان کا بیان ایک منظم فکر کی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور نہ دین اور دینی شعور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ ممکن ہے، میرا یہ تبصرہ بعض احباب کو سخت گیری کا مظہر لگے۔ لیکن...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

ڈاکٹر خضر یسین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، خاتم الوحی ہے اور آنجناب علیہ السلام کی ذات، خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کے بعد نہ ایسی وحی ممکن ہے جو انسانیت پر واجب الایمان و العمل ہو اور نہ آنجناب علیہ السلام کے بعد کوئی نبی و رسول ممکن ہے۔ آنجناب علیہ...

ڈاکٹر زاہد مغل

مولانا اصلاحی صاحب مبادی تدبر حدیث میں نسخ القرآن بذریعہ سنت کی ممانعت پر حجت قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث میں ضعف کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کی یہ بات محض ایک خطابی انداز استدلال ہے اور ان لوگوں کے مقدمے کو ایڈریس نہیں کرتی جو اس کے قائل ہیں۔ آپ کی گفتگو میں نہ یہ بتایا گیا ہے کہ نسخ کا مفہوم کیا ہے اور نہ ہی آپ یہ بتاتے ہیں کہ نبی کی حین حیات کسی حکم کی تابید کیسے ثابت ہوتی ہے کہ ظنی دلیل اسے منسوخ نہیں کرسکتی، بس بلا دلیل خلاف عقل کا ایک دعوی کردیا گیا ہے۔ اصولی مباحث پر گفتگو کرنے کا یہ ایک غیر اصول طریقہ ہے۔ اگر نبی کی حین حیات قرآن میں حکم آئے “جو کوئی موت کے وقت کو پائے اسے چاہئے کہ اپنے مال سے متعلق وصیت کرے”، تو محض ان الفاظ کی بنا پر مخاطب کیا ابتدائے کلام سے یہ عقیدہ رکھے گا کہ حکم ہمیشہ کے لئے دے دیا گیا ہے؟ اگر ہاں، تو ان معین الفاظ میں اس مفروضے کو سپورٹ کرنے کی دلیل کیا ہے نیز اس کے بعد خود قرآن میں ناسخ آنے کا امکان بھی کیا ختم نہیں ہوگیا؟ اور اگر نہیں، تو وہ کیا عقیدہ رکھے گا؟ یہی کہ اس حکم کا ابدی ہونا ظنی ہے اس لئے کہ یہ ظنی دلیل (مثلا استصحاب حال) پر مبنی ہے اور شارع چاہے تو اسے ختم کردے، یعنی اس کی مدت انتہا ظاہر کردے۔ پس نبی کی حین حیات حکم کی تابید کا مفروضہ از خود ظنی ہوتا ہے (الا یہ کہ وہ حسن و قبح عقلی یا لفظ “ابدا” سے ثابت ہو، جو اس کے قائل ہیں) اور ظنی دلیل سے ثابت بات کے ظنی دلیل سے رفع ہونے کو عقل بالکل جائز کہتی ہے۔ الغرض مولانا اصلاحی صاحب یہاں اصل قانونی پہلو پر غور کرنے کے بجائے “قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز” کے دعوے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…