نسخ القرآن بذریعہ سنت : مولانا اصلاحی

Published On October 27, 2025
فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب کے شاگرد محترم ساجد حمید صاحب نے کسی قدر طنز سے کام لیتے ہوئے اصولیین کے اس تصور پر تنقید کی ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت ظنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بگاڑ کی اصل وجہ امام شافعی ہی سے شروع ہوجاتی ہے جس میں اصولیین، فلاسفہ و صوفیا نے بقدر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

مولانا واصل واسطی ہم نے یہ بات اپنی مختلف پوسٹوں میں صراحت سے بیان کی ہے ، کہ جناب جاوید غامدی، غلام احمدپرویز کی طرح  بالکل منکرِحدیث ہیں ۔البتہ ان کا یہ فلسفہ پیچ درپیچ ہے ، وہ اس لیے کہ انھوں نے پرویز وغیرہ کا انجام دیکھ لیا ہے ، اب اس برے انجام سے وہ بچنا چاھتے...

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل جناب ساجد حمید صاحب نے اپنی تحریر “قرآن کیوں قطعی الدلالۃ نہیں؟”میں فرمایا ہے کہ امت میں یہ نظریہ امام شافعی اور ان سے متاثر دیگر اصولیین کی آرا کی وجہ سے راہ پا گیا ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت قطعی نہیں۔ آپ نے امام شافعی کی کتاب الرسالۃ سے یہ تاثر دینے...

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل اہل علم متکلمین و اصولیین کے ہاں “قانون کلی ” کی بحث سے واقف ہیں۔ اس بحث کو لے کر شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے امام غزالی رحمہ اللہ کو ضمناً  جبکہ امام رازی  رحمہ اللہ  کو بالخصوص  شد و مد سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امام رازی پر اعتراض یہ ہے کہ ان کے...

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

خضر یسین ہر بامعنی لفظ، ایک اسم ہوتا ہے۔ جس کا مسمی ذہن میں ہو تو معنی یا موضوع اور خارج میں ہو تو مدلول یا معروض کہلاتا ہے۔ لفظ کے بغیر ذہن میں تصور تشکیل نہیں پا سکتا ہے اور نہ تفہیم و تفکر کا عمل ممکن ہو سکتا ہے۔ الفاظ کا مجموعہ کلام نہیں ہوتا، بامعنی الفاظ کی...

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

جہانگیر حنیف نظمِ قرآن، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت کا نظریہ ایک ہی پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ وہ پراجیکٹ قرآن مجید کے متن کو ایک نئی ہرمیونیٹکس دینا ہے۔ یہ خیال اس احساس سے پیدا ہوا کہ روایتی اور مروج و متداول اصولِ تفسیر قرآن مجید میں اپنی بنیاد نہیں رکھتے۔ ان کا اطلاق قرآن...

ڈاکٹر زاہد مغل

مولانا اصلاحی صاحب مبادی تدبر حدیث میں نسخ القرآن بذریعہ سنت کی ممانعت پر حجت قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث میں ضعف کے اتنے پہلو ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کی یہ بات محض ایک خطابی انداز استدلال ہے اور ان لوگوں کے مقدمے کو ایڈریس نہیں کرتی جو اس کے قائل ہیں۔ آپ کی گفتگو میں نہ یہ بتایا گیا ہے کہ نسخ کا مفہوم کیا ہے اور نہ ہی آپ یہ بتاتے ہیں کہ نبی کی حین حیات کسی حکم کی تابید کیسے ثابت ہوتی ہے کہ ظنی دلیل اسے منسوخ نہیں کرسکتی، بس بلا دلیل خلاف عقل کا ایک دعوی کردیا گیا ہے۔ اصولی مباحث پر گفتگو کرنے کا یہ ایک غیر اصول طریقہ ہے۔ اگر نبی کی حین حیات قرآن میں حکم آئے “جو کوئی موت کے وقت کو پائے اسے چاہئے کہ اپنے مال سے متعلق وصیت کرے”، تو محض ان الفاظ کی بنا پر مخاطب کیا ابتدائے کلام سے یہ عقیدہ رکھے گا کہ حکم ہمیشہ کے لئے دے دیا گیا ہے؟ اگر ہاں، تو ان معین الفاظ میں اس مفروضے کو سپورٹ کرنے کی دلیل کیا ہے نیز اس کے بعد خود قرآن میں ناسخ آنے کا امکان بھی کیا ختم نہیں ہوگیا؟ اور اگر نہیں، تو وہ کیا عقیدہ رکھے گا؟ یہی کہ اس حکم کا ابدی ہونا ظنی ہے اس لئے کہ یہ ظنی دلیل (مثلا استصحاب حال) پر مبنی ہے اور شارع چاہے تو اسے ختم کردے، یعنی اس کی مدت انتہا ظاہر کردے۔ پس نبی کی حین حیات حکم کی تابید کا مفروضہ از خود ظنی ہوتا ہے (الا یہ کہ وہ حسن و قبح عقلی یا لفظ “ابدا” سے ثابت ہو، جو اس کے قائل ہیں) اور ظنی دلیل سے ثابت بات کے ظنی دلیل سے رفع ہونے کو عقل بالکل جائز کہتی ہے۔ الغرض مولانا اصلاحی صاحب یہاں اصل قانونی پہلو پر غور کرنے کے بجائے “قرآن جیسی قطعی الدلالت چیز” کے دعوے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…