سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

Published On October 27, 2025
تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں "قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر...

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

ڈاکٹر زاہد مغل حدیث کی کتاب کو جس معنی میں تاریخ کی کتاب کہا گیا کہ اس میں آپﷺ کے اقوال و افعال اور ان کے دور کے بعض احوال کا بیان ہے، تو اس معنی میں قرآن بھی تاریخ کی کتاب ہے کہ اس میں انبیا کے قصص کا بیان ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ...

کیا غامدی صاحب منکرِ حدیث نہیں ؟

کیا غامدی صاحب منکرِ حدیث نہیں ؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے جو غالی معتقدین ان کی عذر خواہی کی کوشش کررہے ہیں، وہ پرانا آموختہ دہرانے کے بجاے درج ذیل سوالات کے جواب دیں جو میں نے پچھلی سال غامدی صاحب کی فکر پر اپنی کتاب میں دیے ہیں اور اب تک غامدی صاحب اور ان کے داماد نے ان کے جواب میں کوئی...

حدیث کی نئی تعیین

حدیث کی نئی تعیین

محمد دین جوہر   میں ایک دفعہ برہان احمد فاروقی مرحوم کا مضمون پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا ”قرآن مجید تاریخ ہے“۔ اب محترم غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ بخاری شریف تاریخ کی کتاب ہے۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو محترم غامدی صاحب قرآن مجید کو بھی تاریخ (سرگزشت انذار) ہی...

ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

محمد خزیمہ الظاہری پہلے بھی عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے باقاعدہ طور پر دو چہرے رکھے ہوئے ہیں. ایک انہیں دکھانے کے لئے جو آپ کو منکر حدیث کہتے ہیں اور یہ چہرہ دکھا کر انکار حدیث کے الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میزان میں بارہ سو روایتیں ہیں وغیرہ...

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد پچھلی قسط کے اختتام پر لکھا گیا کہ ابھی یہ بحث پوری نہیں ہوئی، لیکن غامدی صاحب کے حلقے سے فوراً ہی جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر جواب کی طرف لپکنے کے بجاے وہ کچھ صبر سے کام لیتے اور اگلی قسط پڑھ لیتے، تو ان حماقتوں میں مبتلا نہ ہوتے جن میں...

ڈاکٹر زاہد مغل

سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:
1) پہلی بات یہ کہ متعدد متقدمین مفسرین کے مطابق آیت کی ابتدا میں “إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا” سے مراد محمدﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے اہل ایمان نہیں، بلکہ اس سے مراد یا وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے یہودیت و نصرانیت کی بگڑی ہوئی صورت سے خود کو علیحدہ رکھا، یا اس سے مراد منافقین ہیں جن کے بارے میں ابتدائے سورۃ میں “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا” کے الفاظ آئے۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چار گروہوں میں سے جو بھی الله پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کے لئے اجر ہے۔ یہ ایمان کیا ہے جو انہیں لانا ہے؟ آیت میں اس کی تفصیل مذکور نہیں بلکہ وہ دیگر آیات میں مذکور ہے جیسے سورۃ بقرۃ کے آخر میں آیا:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ
جبکہ یہود و نصاری انبیا پر ایمان لانے میں فرق کرتے تھے۔
2) اس عقدے کو مزید آسانی سے یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ الله پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل میں آئے وہ تصور باندھ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله کی ذات و صفات جیسی کہ وہ ہیں نیز اس کے افعال کی تصدیق کرنا۔ جیسے اس کی صفات کو جھٹلانے والا اس پر ایمان رکھنے والا نہیں، اسی طرح جو الله کے افعال کی تکذیب کرے وہ الله پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا۔ الله کے افعال میں محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کرنا اور ان سے کلام کرنا بھی شامل ہے۔ اب جو کوئی آپﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق نہیں کرتا وہ الله کے افعال میں سے بعض کے حقیقت و سچ ہونے کی تصدیق کرنے کے بجائے انہیں جھٹلا رہا ہے، بھلا وہ الله پر ایمان لانے والا کب ہوا؟ امام رازی اس مقام پر لکھتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِاللَّهِ الْإِيمَانُ بِمَا أَوْجَبَهُ، أَعْنِي الْإِيمَانَ بِرُسُلِهِ وَدَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جَمِيعُ أَحْكَامِ الْآخِرَةِ، فَهَذَانِ الْقَوْلَانِ قَدْ جَمَعَا كُلَّ مَا يَتَّصِلُ بِالْأَدْيَانِ فِي حَالِ التَّكْلِيفِ وَفِي حَالِ الْآخِرَةِ مِنْ ثَوَابٍ وَعِقَابٍ
مفہوم: جان لو کہ الله پر ایمان لانے میں ہر اس چیز پر ایمان لانا شامل ہے جسے اس نے لازم قرار دیا ہے یعنی اس کے رسولوں پر ایمان لانا، اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں آخرت کے تمام احکام داخل ہیں۔ پس یہ دو اقوال (الله پر ایمان اور آخرت پر ایمان) دین سے متعلق ہر اس چیز کو سمیٹے ہوئے ہیں جو حالت تکلیف میں اور حالت آخرت میں ثواب و عذاب کے اعتبار سے پیش آتی ہے۔
الغرض اس آیت کو محمدﷺ کو الله کا نبی مانے بغیر “نجات بطور اصول” اخذ کرنے یا کسی نام نہاد شعوری مرتد و ملحد کے کسی عام فاسق مؤمن سے ہزار درجہ بہتر ہونے کی بات کے تناظر میں استعمال کرنا غلط ہے۔ اس آیت کا سیاق و مضمون یہ نہیں کہ جو کوئی “شعوری” طور پر ایمان نہ لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…