سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

ڈاکٹر زاہد مغل

سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:
1) پہلی بات یہ کہ متعدد متقدمین مفسرین کے مطابق آیت کی ابتدا میں “إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا” سے مراد محمدﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے اہل ایمان نہیں، بلکہ اس سے مراد یا وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے یہودیت و نصرانیت کی بگڑی ہوئی صورت سے خود کو علیحدہ رکھا، یا اس سے مراد منافقین ہیں جن کے بارے میں ابتدائے سورۃ میں “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا” کے الفاظ آئے۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چار گروہوں میں سے جو بھی الله پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کے لئے اجر ہے۔ یہ ایمان کیا ہے جو انہیں لانا ہے؟ آیت میں اس کی تفصیل مذکور نہیں بلکہ وہ دیگر آیات میں مذکور ہے جیسے سورۃ بقرۃ کے آخر میں آیا:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ
جبکہ یہود و نصاری انبیا پر ایمان لانے میں فرق کرتے تھے۔
2) اس عقدے کو مزید آسانی سے یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ الله پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل میں آئے وہ تصور باندھ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله کی ذات و صفات جیسی کہ وہ ہیں نیز اس کے افعال کی تصدیق کرنا۔ جیسے اس کی صفات کو جھٹلانے والا اس پر ایمان رکھنے والا نہیں، اسی طرح جو الله کے افعال کی تکذیب کرے وہ الله پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا۔ الله کے افعال میں محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کرنا اور ان سے کلام کرنا بھی شامل ہے۔ اب جو کوئی آپﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق نہیں کرتا وہ الله کے افعال میں سے بعض کے حقیقت و سچ ہونے کی تصدیق کرنے کے بجائے انہیں جھٹلا رہا ہے، بھلا وہ الله پر ایمان لانے والا کب ہوا؟ امام رازی اس مقام پر لکھتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِاللَّهِ الْإِيمَانُ بِمَا أَوْجَبَهُ، أَعْنِي الْإِيمَانَ بِرُسُلِهِ وَدَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جَمِيعُ أَحْكَامِ الْآخِرَةِ، فَهَذَانِ الْقَوْلَانِ قَدْ جَمَعَا كُلَّ مَا يَتَّصِلُ بِالْأَدْيَانِ فِي حَالِ التَّكْلِيفِ وَفِي حَالِ الْآخِرَةِ مِنْ ثَوَابٍ وَعِقَابٍ
مفہوم: جان لو کہ الله پر ایمان لانے میں ہر اس چیز پر ایمان لانا شامل ہے جسے اس نے لازم قرار دیا ہے یعنی اس کے رسولوں پر ایمان لانا، اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں آخرت کے تمام احکام داخل ہیں۔ پس یہ دو اقوال (الله پر ایمان اور آخرت پر ایمان) دین سے متعلق ہر اس چیز کو سمیٹے ہوئے ہیں جو حالت تکلیف میں اور حالت آخرت میں ثواب و عذاب کے اعتبار سے پیش آتی ہے۔
الغرض اس آیت کو محمدﷺ کو الله کا نبی مانے بغیر “نجات بطور اصول” اخذ کرنے یا کسی نام نہاد شعوری مرتد و ملحد کے کسی عام فاسق مؤمن سے ہزار درجہ بہتر ہونے کی بات کے تناظر میں استعمال کرنا غلط ہے۔ اس آیت کا سیاق و مضمون یہ نہیں کہ جو کوئی “شعوری” طور پر ایمان نہ لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…