سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کے جوابی بیانیے پر کچھ گزارشات

غامدی صاحب کے جوابی بیانیے پر کچھ گزارشات

سید ظفر احمد روزنامہ جنگ کی اشاعت بروز جمعرات 22 جنوری 2015ء میں ممتاز مفکر محترم جاوید احمد صاحب غامدی کا مضمون بعنوان ’’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘ شائع ہوا ہے، جس میں انہوں نے اس موضوع پر اپنے فکر کا خلاصہ بیان کردیا ہے جو وہ اس سے پہلے اپنی کئی کتب و...

نسخ القرآن بالسنة” ناجائز ہونے پر غامدی صاحب کے استدلال میں اضطراب

نسخ القرآن بالسنة” ناجائز ہونے پر غامدی صاحب کے استدلال میں اضطراب

ڈاکٹر زاہد مغل نفس مسئلہ پر جناب غامدی صاحب بیان کے مفہوم سے استدلال وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کا استدلال لفظ “بیان” سے کسی صورت تام نہیں۔ یہاں ہم اسے واضح کرتے ہیں۔ قرآن اور نبی کا باہمی تعلق کس اصول پر استوار ہے؟ کتاب “برھان” میں غامدی صاحب اس سوال کا یہ...

مرزا قادیانی کو مسلم منوانا، جاوید غامدی صاحب کی سعیِ نامشکور

مرزا قادیانی کو مسلم منوانا، جاوید غامدی صاحب کی سعیِ نامشکور

حامد کمال الدین  پاکستان میں قادیانی ٹولے کو غیر مسلم ڈیکلیئر کرنے کا دن آج گرم جوشی سے منایا جا رہا ہے۔ اتفاق سے آج ہی ’دلیل‘ پر جاوید احمد غامدی صاحب کا یہ مضمون نظر سے گزرا۔ اس موضوع پر باقی سب نزاعات کو ہم کسی اور وقت کےلیے اٹھا رکھتے ہیں اور مضمون کے آخری جملوں...

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے

سید خالد جامعی ہمارے محترم دوست جناب سمیع اللہ سعدی صاحب نے تکفیر کے مسئلے پر غامدی صاحب کا ایک مضمون کل ارسال فرمایا اور ہمارا نقطہ نظر جاننے کی خواہش ظاہر کی. اس کا تفصیلی جواب زیرتحریر ہے. ان کی خواہش کی تعمیل تکمیل میں ایک مختصر تحریر میرے محترم غامدی صاحب کے غور...

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

تجلی خان میراموضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ...

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عزت مآب جناب عزیز ابن الحسن صاحب نے ایک صاحبِ علم کی تحریر پر میری رائے مانگی ہے۔ چند نکات پیش ِخدمت ہیںاول ۔ یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کے لیے قرآن ہی کی آیات سے استدلال مصادرہ مطلوب کا مغالطہ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جن آیات سے آپ قطعیت...

ڈاکٹر زاہد مغل

سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:
1) پہلی بات یہ کہ متعدد متقدمین مفسرین کے مطابق آیت کی ابتدا میں “إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا” سے مراد محمدﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے اہل ایمان نہیں، بلکہ اس سے مراد یا وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے یہودیت و نصرانیت کی بگڑی ہوئی صورت سے خود کو علیحدہ رکھا، یا اس سے مراد منافقین ہیں جن کے بارے میں ابتدائے سورۃ میں “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا” کے الفاظ آئے۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چار گروہوں میں سے جو بھی الله پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کے لئے اجر ہے۔ یہ ایمان کیا ہے جو انہیں لانا ہے؟ آیت میں اس کی تفصیل مذکور نہیں بلکہ وہ دیگر آیات میں مذکور ہے جیسے سورۃ بقرۃ کے آخر میں آیا:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ
جبکہ یہود و نصاری انبیا پر ایمان لانے میں فرق کرتے تھے۔
2) اس عقدے کو مزید آسانی سے یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ الله پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل میں آئے وہ تصور باندھ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله کی ذات و صفات جیسی کہ وہ ہیں نیز اس کے افعال کی تصدیق کرنا۔ جیسے اس کی صفات کو جھٹلانے والا اس پر ایمان رکھنے والا نہیں، اسی طرح جو الله کے افعال کی تکذیب کرے وہ الله پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا۔ الله کے افعال میں محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کرنا اور ان سے کلام کرنا بھی شامل ہے۔ اب جو کوئی آپﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق نہیں کرتا وہ الله کے افعال میں سے بعض کے حقیقت و سچ ہونے کی تصدیق کرنے کے بجائے انہیں جھٹلا رہا ہے، بھلا وہ الله پر ایمان لانے والا کب ہوا؟ امام رازی اس مقام پر لکھتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِاللَّهِ الْإِيمَانُ بِمَا أَوْجَبَهُ، أَعْنِي الْإِيمَانَ بِرُسُلِهِ وَدَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جَمِيعُ أَحْكَامِ الْآخِرَةِ، فَهَذَانِ الْقَوْلَانِ قَدْ جَمَعَا كُلَّ مَا يَتَّصِلُ بِالْأَدْيَانِ فِي حَالِ التَّكْلِيفِ وَفِي حَالِ الْآخِرَةِ مِنْ ثَوَابٍ وَعِقَابٍ
مفہوم: جان لو کہ الله پر ایمان لانے میں ہر اس چیز پر ایمان لانا شامل ہے جسے اس نے لازم قرار دیا ہے یعنی اس کے رسولوں پر ایمان لانا، اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں آخرت کے تمام احکام داخل ہیں۔ پس یہ دو اقوال (الله پر ایمان اور آخرت پر ایمان) دین سے متعلق ہر اس چیز کو سمیٹے ہوئے ہیں جو حالت تکلیف میں اور حالت آخرت میں ثواب و عذاب کے اعتبار سے پیش آتی ہے۔
الغرض اس آیت کو محمدﷺ کو الله کا نبی مانے بغیر “نجات بطور اصول” اخذ کرنے یا کسی نام نہاد شعوری مرتد و ملحد کے کسی عام فاسق مؤمن سے ہزار درجہ بہتر ہونے کی بات کے تناظر میں استعمال کرنا غلط ہے۔ اس آیت کا سیاق و مضمون یہ نہیں کہ جو کوئی “شعوری” طور پر ایمان نہ لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

اشراق کا استشراق

اشراق کا استشراق

حافظ محمد ریحان جاید احمد غامدی اور ان کے مکتبہء فکر سے تقریباً ہر پڑھا...