سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون کے جواب میں غامدی صاحب کی تائید میں لکھی جانے والی دو تحریریں نظر سے گزریں ، جن کے حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جناب طالب محسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے سنت کے متعلق رقم طراز ہے کہ " دوم یہ کہ سنت قران کے بعد نہیں   بلکہ قران سے مقدم ہے ۔ اس لیے وہ لازما اس کے حاملین کے اجماع وتواتر ہی سے اخذ کی جائے گی ۔ قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہوا ہے   ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 84)

مولانا واصل واسطی تیسری وجہ اس بنیاد کے غلط ہونے کی یہ ہے   کہ جناب غامدی نے قران مجید کی جن آیات کو اس کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیاہے اس کو تسلیم کرنے کے بعد بھی انسان یہ سمجھتاہے   کہ اس کو جو  ہدایت   دی گئی ہے اور جو " شعور " عطا کیاگیا ہے وہ محض اجمالی " معرفت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 83)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس خلل کے متعلق یہ ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ " شعورِخوب وناخوب کو اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے اور اسے ان کی فطرت میں رکھا ہے " اس بات تک وہ انسانی فطرت کے براہِ راست مطالعے کے نتیجے میں نہیں پہنچے ۔ نہ ان لوگوں نے براہِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 81)

مولانا واصل واسطی رسولوں کے اتمامِ حجت کے خود ساختہ قاعدے کے متعلق ہم نے ان حضرات کے چاراصولوں کا تجزیہ گذشتہ مباحث میں کرکے دکھایا ہے کہ ان چار باتوں سے اس مدعا کا اثبات قطعا نہیں ہوتا ۔ آج اس سلسلے کی آخری اصول کے بابت ہم بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بات کو ہم تین شقوں...

ڈاکٹر زاہد مغل

سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:
1) پہلی بات یہ کہ متعدد متقدمین مفسرین کے مطابق آیت کی ابتدا میں “إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا” سے مراد محمدﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے اہل ایمان نہیں، بلکہ اس سے مراد یا وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے یہودیت و نصرانیت کی بگڑی ہوئی صورت سے خود کو علیحدہ رکھا، یا اس سے مراد منافقین ہیں جن کے بارے میں ابتدائے سورۃ میں “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا” کے الفاظ آئے۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چار گروہوں میں سے جو بھی الله پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کے لئے اجر ہے۔ یہ ایمان کیا ہے جو انہیں لانا ہے؟ آیت میں اس کی تفصیل مذکور نہیں بلکہ وہ دیگر آیات میں مذکور ہے جیسے سورۃ بقرۃ کے آخر میں آیا:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ
جبکہ یہود و نصاری انبیا پر ایمان لانے میں فرق کرتے تھے۔
2) اس عقدے کو مزید آسانی سے یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ الله پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل میں آئے وہ تصور باندھ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله کی ذات و صفات جیسی کہ وہ ہیں نیز اس کے افعال کی تصدیق کرنا۔ جیسے اس کی صفات کو جھٹلانے والا اس پر ایمان رکھنے والا نہیں، اسی طرح جو الله کے افعال کی تکذیب کرے وہ الله پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا۔ الله کے افعال میں محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کرنا اور ان سے کلام کرنا بھی شامل ہے۔ اب جو کوئی آپﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق نہیں کرتا وہ الله کے افعال میں سے بعض کے حقیقت و سچ ہونے کی تصدیق کرنے کے بجائے انہیں جھٹلا رہا ہے، بھلا وہ الله پر ایمان لانے والا کب ہوا؟ امام رازی اس مقام پر لکھتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِاللَّهِ الْإِيمَانُ بِمَا أَوْجَبَهُ، أَعْنِي الْإِيمَانَ بِرُسُلِهِ وَدَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جَمِيعُ أَحْكَامِ الْآخِرَةِ، فَهَذَانِ الْقَوْلَانِ قَدْ جَمَعَا كُلَّ مَا يَتَّصِلُ بِالْأَدْيَانِ فِي حَالِ التَّكْلِيفِ وَفِي حَالِ الْآخِرَةِ مِنْ ثَوَابٍ وَعِقَابٍ
مفہوم: جان لو کہ الله پر ایمان لانے میں ہر اس چیز پر ایمان لانا شامل ہے جسے اس نے لازم قرار دیا ہے یعنی اس کے رسولوں پر ایمان لانا، اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں آخرت کے تمام احکام داخل ہیں۔ پس یہ دو اقوال (الله پر ایمان اور آخرت پر ایمان) دین سے متعلق ہر اس چیز کو سمیٹے ہوئے ہیں جو حالت تکلیف میں اور حالت آخرت میں ثواب و عذاب کے اعتبار سے پیش آتی ہے۔
الغرض اس آیت کو محمدﷺ کو الله کا نبی مانے بغیر “نجات بطور اصول” اخذ کرنے یا کسی نام نہاد شعوری مرتد و ملحد کے کسی عام فاسق مؤمن سے ہزار درجہ بہتر ہونے کی بات کے تناظر میں استعمال کرنا غلط ہے۔ اس آیت کا سیاق و مضمون یہ نہیں کہ جو کوئی “شعوری” طور پر ایمان نہ لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…