سورۃ بقرۃ آیت 62 اور مدار نجات

Published On October 27, 2025
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ڈاکٹر زاہد مغل

سورۃ بقرۃ کی آیت 62 سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اخروی نجات کے لئے نبیﷺ کو ماننا ضروری نہیں بلکہ مسلمان، یہود، نصاری و صائبین میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اسے اجر ملے گا۔ آیت سے کئے جانے والے اس استدلال میں متعدد جھول ہیں:
1) پہلی بات یہ کہ متعدد متقدمین مفسرین کے مطابق آیت کی ابتدا میں “إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا” سے مراد محمدﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے اہل ایمان نہیں، بلکہ اس سے مراد یا وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے یہودیت و نصرانیت کی بگڑی ہوئی صورت سے خود کو علیحدہ رکھا، یا اس سے مراد منافقین ہیں جن کے بارے میں ابتدائے سورۃ میں “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا” کے الفاظ آئے۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چار گروہوں میں سے جو بھی الله پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کے لئے اجر ہے۔ یہ ایمان کیا ہے جو انہیں لانا ہے؟ آیت میں اس کی تفصیل مذکور نہیں بلکہ وہ دیگر آیات میں مذکور ہے جیسے سورۃ بقرۃ کے آخر میں آیا:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ
جبکہ یہود و نصاری انبیا پر ایمان لانے میں فرق کرتے تھے۔
2) اس عقدے کو مزید آسانی سے یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ الله پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل میں آئے وہ تصور باندھ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله کی ذات و صفات جیسی کہ وہ ہیں نیز اس کے افعال کی تصدیق کرنا۔ جیسے اس کی صفات کو جھٹلانے والا اس پر ایمان رکھنے والا نہیں، اسی طرح جو الله کے افعال کی تکذیب کرے وہ الله پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا۔ الله کے افعال میں محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کرنا اور ان سے کلام کرنا بھی شامل ہے۔ اب جو کوئی آپﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق نہیں کرتا وہ الله کے افعال میں سے بعض کے حقیقت و سچ ہونے کی تصدیق کرنے کے بجائے انہیں جھٹلا رہا ہے، بھلا وہ الله پر ایمان لانے والا کب ہوا؟ امام رازی اس مقام پر لکھتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِاللَّهِ الْإِيمَانُ بِمَا أَوْجَبَهُ، أَعْنِي الْإِيمَانَ بِرُسُلِهِ وَدَخَلَ فِي الْإِيمَانِ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جَمِيعُ أَحْكَامِ الْآخِرَةِ، فَهَذَانِ الْقَوْلَانِ قَدْ جَمَعَا كُلَّ مَا يَتَّصِلُ بِالْأَدْيَانِ فِي حَالِ التَّكْلِيفِ وَفِي حَالِ الْآخِرَةِ مِنْ ثَوَابٍ وَعِقَابٍ
مفہوم: جان لو کہ الله پر ایمان لانے میں ہر اس چیز پر ایمان لانا شامل ہے جسے اس نے لازم قرار دیا ہے یعنی اس کے رسولوں پر ایمان لانا، اور آخرت کے دن پر ایمان لانے میں آخرت کے تمام احکام داخل ہیں۔ پس یہ دو اقوال (الله پر ایمان اور آخرت پر ایمان) دین سے متعلق ہر اس چیز کو سمیٹے ہوئے ہیں جو حالت تکلیف میں اور حالت آخرت میں ثواب و عذاب کے اعتبار سے پیش آتی ہے۔
الغرض اس آیت کو محمدﷺ کو الله کا نبی مانے بغیر “نجات بطور اصول” اخذ کرنے یا کسی نام نہاد شعوری مرتد و ملحد کے کسی عام فاسق مؤمن سے ہزار درجہ بہتر ہونے کی بات کے تناظر میں استعمال کرنا غلط ہے۔ اس آیت کا سیاق و مضمون یہ نہیں کہ جو کوئی “شعوری” طور پر ایمان نہ لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…