علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

Published On October 27, 2025
کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ علم کلام ناگزیر علم نہیں اس لئے کہ قرآن تک پہنچنے کے جس استدلال کی متکلمین بات کرتے ہیں وہ قرآن سے ماخوذ نہیں نیز قرآن نے اس بارے میں خود ہی طریقہ بتا دیا ہے۔ مزید یہ کہ علم کلام کا حاصل دلیل حدوث ہے جس کا پہلا مقدمہ (عالم حادث...

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (2)

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (2)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ڈاکٹر اسرار احمد پر طنز اور استہزا کا اسلوب اب اس باب سے اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں جو غامدی صاحب نے ’احساسِ ذمہ داری‘ کے ساتھ ڈاکٹر اسرار صاحب پر تنقید میں لکھا۔ یہاں بھی انھیں بقول ان کے شاگردوں کے، کم از کم یہ تو خیال رکھنا چاہیے تھا کہ ڈاکٹر...

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (1)

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (1)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے داماد نے یکسر جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، نہایت بے دردی کے ساتھ، اور ہاتھ نچا نچا کر جس طرح فلسطین کے مسئلے پر ہفوات پیش کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی، اس پر گرفت کریں، تو غامدی صاحب کے مریدانِ باصفا اخلاقیات کی دُہائی...

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ!۔ فلسطین کے مسئلے پر غامدی صاحب اور ان کے داماد جناب حسن الیاس نے جس طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو حیرت کے ساتھ دکھ میں مبتلا کیا ہے، غزہ میں ہونے والی بدترین نسل کشی پر پوری دنیا مذمت...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

حسان بن علی جیسا کہ عرض کیا کہ غامدی صاحب احکام میں حدیث کی استقلالی حجیت کے قائل نہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں "یہ چیز حدیث کے دائرے میں ہی نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے" (ميزان) جیسے سود دینے والے کی مذمت میں اگرچہ حدیث صراحتا بیان ہوئی ليكن غامدی...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

حسان بن علی اور یہ واضح رہے کہ انکارِ حجیتِ حدیث کے حوالے سے غلام احمد پرویز، اسی طرح عبداللہ چکڑالوی کا درجہ ایک سا ہے کہ وہ اسے کسی طور دین میں حجت ماننے کے لیے تیار نہیں (غلام احمد پرویز حديث کو صرف سیرت کی باب میں قبول کرتے ہیں، دیکھیے کتاب مقام حدیث) اور اس سے کم...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ آرائی ہے۔
غامدی صاحب جسے قرآن کی شرح و وضاحت کہتے ہیں، ان کے اس تصور کا اس تصور شرح و وضاحت سے تعلق نہیں جسے احناف و جمہور اصولیین شرح (یعنی بیان بنائی) کہتے ہیں۔ موخر الذکر کے نزدیک سنت علمی اصطلاحات کی رو سے قرآن کا بیان تفسیر، بیان تخصیص و بیان نسخ و بیان قیاس سب معنی میں شرح و وضاحت ہے جبکہ غامدی صاحب حدیث کو قرآن کے صرف بیان قیاس کے مفہوم میں شرح کہتے ہیں (اور جس کے اصطلاحی طور پر بیان ہونے میں ہی اختلاف ہے اس لئے کہ یہ لغوی معاملہ نہیں)۔ ان کے تصور شرح کے مطابق قرآن و اصل دین کی تفہیم حدیث کی تفہیم پر موقوف نہیں۔ ایسے میں اس شرح و وضاحت کے انکار کو اصل کا انکار نہیں کہا جاسکتا (اسلامی تاریخ میں بھی منکرین قیاس کو اصل حکم کا انکار کرنے والا نہیں کہا گیا)۔ حدیث میں مذکور احکام کے انکار سے قرآن کا انکار تب لازم آتا ہے جب یہ مانا جائے کہ قرآن میں مذکور احکام پر عمل احادیث میں مذکور احکام پر موقوف ہے (اسے قرآن کا سنت کی طرف مفتقر الی البیان ہونا کہتے ہیں) اور غامدی صاحب اس کے قائل نہیں بلکہ اسے قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…