علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

Published On October 27, 2025
قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

محمد خزیمہ الظاہری منکرین حدیث جس تواتر کا چرچا کرتے ہیں یہ از خود ہمیشہ ان اخبار و روایات کا محتاج ہوتا ہے جسے ظن و آحاد قرار دے کر انکی اہمیت گھٹائی جاتی ہے۔ متواتر چیز سے متعلق جب تک روایات اور اخبار کے ذریعے سے یہ بات معلوم نا ہو کہ گزشتہ تمام زمانوں میں وہ بات...

پردہ اور غامدی صاحب

پردہ اور غامدی صاحب

حسان بن عل اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (سورۃ المائدہ آیت 50)تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے...

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

حسان بن علی اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اسے (درایتا) غیر معتبر ٹھہرایا جاتا ہے لیکن یہ تعین کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ آيا حدیث واقعتا قرآن کے خلاف ہے یا آپ کے فہم قرآن کے خلاف۔ غزوہ بدر سے متعلق مولانا اصلاحی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمان ابتدا ہی سے قریش...

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کئی احباب نے حدیث کے متعلق غامدی صاحب کے داماد کی چھوڑی گئی نئی پھلجڑیوں پر راے مانگی، تو عرض کیا کہ غامدی صاحب اور ان کے داماد آج کل میری کتاب کا نام لیے بغیر ان میں مذکور مباحث اور تنقید کا جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھیں یہ کوشش کرنے دیں۔...

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

حسن بن علی ياأيها الذين آمنوا كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنآن قوم ألا تعدلوا اعدلوا هو أقرب للتقوى ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ...

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

حسن بن عل غامدی صاحب کے اصول حدیث قرآن میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل نہیں کر سکتی (یعنی نہ تنسیخ کر سکتی ہے نہ تخصیص اور یہی معاملہ مطلق کی تقيید كا بھی ہے) کی روشنی میں حدیث قرآن کے مطلق (لفظ) کی تقيید نہیں کر سکتی یعنی ان کے اصول کی روشنی میں مطلق (لفظ) کی تقيید بھی...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ آرائی ہے۔
غامدی صاحب جسے قرآن کی شرح و وضاحت کہتے ہیں، ان کے اس تصور کا اس تصور شرح و وضاحت سے تعلق نہیں جسے احناف و جمہور اصولیین شرح (یعنی بیان بنائی) کہتے ہیں۔ موخر الذکر کے نزدیک سنت علمی اصطلاحات کی رو سے قرآن کا بیان تفسیر، بیان تخصیص و بیان نسخ و بیان قیاس سب معنی میں شرح و وضاحت ہے جبکہ غامدی صاحب حدیث کو قرآن کے صرف بیان قیاس کے مفہوم میں شرح کہتے ہیں (اور جس کے اصطلاحی طور پر بیان ہونے میں ہی اختلاف ہے اس لئے کہ یہ لغوی معاملہ نہیں)۔ ان کے تصور شرح کے مطابق قرآن و اصل دین کی تفہیم حدیث کی تفہیم پر موقوف نہیں۔ ایسے میں اس شرح و وضاحت کے انکار کو اصل کا انکار نہیں کہا جاسکتا (اسلامی تاریخ میں بھی منکرین قیاس کو اصل حکم کا انکار کرنے والا نہیں کہا گیا)۔ حدیث میں مذکور احکام کے انکار سے قرآن کا انکار تب لازم آتا ہے جب یہ مانا جائے کہ قرآن میں مذکور احکام پر عمل احادیث میں مذکور احکام پر موقوف ہے (اسے قرآن کا سنت کی طرف مفتقر الی البیان ہونا کہتے ہیں) اور غامدی صاحب اس کے قائل نہیں بلکہ اسے قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…