علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

مولانا واصل واسطی آج اس سلسلے کی تیسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں" وامآتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا "( الحشر 7) یعنی  جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں  اس سے رک جاؤ " اس آیت کو سمجھنے کے لیے چند باتوں کاجاننا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 95)

مولانا واصل واسطی اب دوسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ  سورہِ النساء میں ہے ۔ آیت ہے " یاایہاالذین امنوا اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامرمنکم" ( النساء 59) یعنی   اے ایمان والو!  اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اوران کی جوتم میں معاملات کے ذمہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 94)

مولانا واصل واسطی اب ایک دوباتیں جناب غامدی کی بھی ہوجائیں ۔ قران مجید   میں بعض آیات ہیں   جن کو اگر کماحقہ سمجھا جائے   تو پھر بندہ کبھی منکرِحدیث نہیں بنتا ۔ لیکن جب ان آیات کے مطالب میں بندہ ڈنڈی مارتا ہے  یاکم ازکم اس سے کنی کتراکے گذر جاتا ہے   تو پھراس کے لیے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 93)

مولانا واصل واسطی آج ہم دوتین مزید مقامات کامطالعہ کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی حقیقت خوب احباب کے سامنے واضح ہو سکے ۔ پہلے  جناب غامدی کے  استاد امام کی عربی تحقیق کی ایک مثال دیکھ لیتے ہیں ۔ وہ " نبا "کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ   لفظ نبا  کی تحقیق اس کے محل میں ہم بیان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 92)

مولانا واصل واسطی لغت وادب پرنظر رکھنا سلفی نوجوانوں کے لیے تو ہرلحاظ سے بہت ضروری ہے ۔ دیکھو فقہ میں وہ کیسے کام آتا ہے ۔ ایک حدیث شریف میں جمعہ کے باب میں  لوگوں کے متعلق وارد ہے " عن عائشة زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کان الناس ینتابون یوم الجمعة من منازلہم ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 91)

مولانا واصل واسطی ایک بات جس کو ہم اپنے احباب کے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں   اور جو بات آج تک ضروری ہونے کے باوجود نظر انداز ہوتی چلی جارہی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کے جواب میں جس طرح تاریخ کی تمام کتابوں کو کھنگالنا ضروری ہے بالکل اسی طرح بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ آرائی ہے۔
غامدی صاحب جسے قرآن کی شرح و وضاحت کہتے ہیں، ان کے اس تصور کا اس تصور شرح و وضاحت سے تعلق نہیں جسے احناف و جمہور اصولیین شرح (یعنی بیان بنائی) کہتے ہیں۔ موخر الذکر کے نزدیک سنت علمی اصطلاحات کی رو سے قرآن کا بیان تفسیر، بیان تخصیص و بیان نسخ و بیان قیاس سب معنی میں شرح و وضاحت ہے جبکہ غامدی صاحب حدیث کو قرآن کے صرف بیان قیاس کے مفہوم میں شرح کہتے ہیں (اور جس کے اصطلاحی طور پر بیان ہونے میں ہی اختلاف ہے اس لئے کہ یہ لغوی معاملہ نہیں)۔ ان کے تصور شرح کے مطابق قرآن و اصل دین کی تفہیم حدیث کی تفہیم پر موقوف نہیں۔ ایسے میں اس شرح و وضاحت کے انکار کو اصل کا انکار نہیں کہا جاسکتا (اسلامی تاریخ میں بھی منکرین قیاس کو اصل حکم کا انکار کرنے والا نہیں کہا گیا)۔ حدیث میں مذکور احکام کے انکار سے قرآن کا انکار تب لازم آتا ہے جب یہ مانا جائے کہ قرآن میں مذکور احکام پر عمل احادیث میں مذکور احکام پر موقوف ہے (اسے قرآن کا سنت کی طرف مفتقر الی البیان ہونا کہتے ہیں) اور غامدی صاحب اس کے قائل نہیں بلکہ اسے قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…