علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

مولانا واصل واسطی ہم نے گزشتہ تحریر میں  جو چند عبارتیں ابن ہشام کے حوالے سے پیش کی تھیں  ان میں بعض پرابوالقاسم سہیلی نے جرح کی ہے ۔ ان میں ایک یہ ہے کہ جبریل نے وضو اورنماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی ۔ ممکن ہے کوئی شخص اس سے استفادہ کرلے ۔ تو ہم عرض کرتے ہیں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 51)

مولانا واصل واسطی اب ہم جناب غامدی کے پیش کردہ سنن پر ایک ایک کرکے کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں نماز کو دیکھتے ہیں جس کے بارے میں حافظ محب اور جناب غامدی  دونوں کا فرمان ہے کہ ،، اس سے عرب پوری طرح واقف تھے ، بلکہ وہ نماز ادا بھی کرتے تھے  جیساکہ سیدنا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 50)

مولانا واصل واسطی اگے جناب اس ،، اہتمامِ وقوع فعل ، سے چند اصول برآمد کرتے  ہوئے لکھتے ہیں کہ ،، چنانچہ کوئی بچہ اگر اپنے باپ یاکوئی عورت اپنے شوہر کی جیب سے چند روپے اڑالیتی ہے   یاکوئی شخص کسی کی بہت معمولی قدروقیمت کی کوئی چیز چرالے جاتاہے   یاکسی کے باغ سے کچھ پھل...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 49)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم ،، سرقہ ،، یعنی چوری کے متعلق جناب غامدی کے افکارکا تجزیہ کریں گے ۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ،، چوری کی سزا قران مجید کی سورہِ مائدہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے ،، والسارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما ، جزاء بماکسبا ، نکالا من اللہ ، واللہ عزیز...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 48)

مولانا واصل واسطی اس تحریر میں جناب غامدی کی اس نقل کردہ عبارت کا جائزہ لیتے ہیں   جو انہوں نے زمخشری کی ،، الکشاف ،، کے حوالے سے لکھی ہے ۔ اس عبارت میں زمخشری نے دعوی کیا ہے کہ ،، میتة ،،  کالفظ دیگر میتات مثلا مچھلی اورٹدی وغیرہ کو عرف اور عادت کی بنا پر شامل نہیں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 47)

مولانا واصل واسطی اس محفل میں جناب غامدی کی ایک اور تحقیق احبابِ کرام کے سامنے پیش کریں گے  جس میں جناب نے اپنے زعم کے مطابق یہ ثابت کیاہے   کہ اس ،، حدیث ،، سے بھی قران کی ،، تخصیص وتحدید ،، کا دعوی محض علماء میں ،، قلتِ تدبر یا سوء فہم ،، کا نتیجہ ہے ۔پہلے جناب کی...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ آرائی ہے۔
غامدی صاحب جسے قرآن کی شرح و وضاحت کہتے ہیں، ان کے اس تصور کا اس تصور شرح و وضاحت سے تعلق نہیں جسے احناف و جمہور اصولیین شرح (یعنی بیان بنائی) کہتے ہیں۔ موخر الذکر کے نزدیک سنت علمی اصطلاحات کی رو سے قرآن کا بیان تفسیر، بیان تخصیص و بیان نسخ و بیان قیاس سب معنی میں شرح و وضاحت ہے جبکہ غامدی صاحب حدیث کو قرآن کے صرف بیان قیاس کے مفہوم میں شرح کہتے ہیں (اور جس کے اصطلاحی طور پر بیان ہونے میں ہی اختلاف ہے اس لئے کہ یہ لغوی معاملہ نہیں)۔ ان کے تصور شرح کے مطابق قرآن و اصل دین کی تفہیم حدیث کی تفہیم پر موقوف نہیں۔ ایسے میں اس شرح و وضاحت کے انکار کو اصل کا انکار نہیں کہا جاسکتا (اسلامی تاریخ میں بھی منکرین قیاس کو اصل حکم کا انکار کرنے والا نہیں کہا گیا)۔ حدیث میں مذکور احکام کے انکار سے قرآن کا انکار تب لازم آتا ہے جب یہ مانا جائے کہ قرآن میں مذکور احکام پر عمل احادیث میں مذکور احکام پر موقوف ہے (اسے قرآن کا سنت کی طرف مفتقر الی البیان ہونا کہتے ہیں) اور غامدی صاحب اس کے قائل نہیں بلکہ اسے قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…