بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

Published On October 27, 2025
خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

مولانا محبوب احمد سرگودھا   پہلی تحریر میں عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء" کے بارے میں غامدی صاحب کے نظریہ کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس تحریر میں  اُن کے نزول الی الارض کے بارے میں غامدی صاحب کا نظریہ پیش خدمت ہے:۔  اولاً غامدی صاحب کی عبارت ملاحظہ کی جائے ، اپنی...

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کا معروف موقف ہے کہ حکومت و سیاست سے متعلق شریعت نے بس چند احکام ہی دیے ہیں۔ بسا اوقات سورۃ الحج کی آیت 41 کا حوالہ دے کر ان چند احکام کو ’بس چار احکام‘ تک محدود کردیتے ہیں: نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے...

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

جہانگیر حنیف قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہے۔ قرآنِ مجید نے اپنا تعارف جن الفاظ میں کروایا ہے، اگر ان پر غور کیا جائے، تو قرآنِ مجید کا کتابِ ہدایت ہونا ان سب کو شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو اگر کسی ایک لفظ سے تعارف کروانے کی ضرورت پیش آجائے، تو کچھ اور کہنے کی...

قانونِ اتمامِ حجت : ناسخِ قرآن و سنت

قانونِ اتمامِ حجت : ناسخِ قرآن و سنت

ڈاکٹر خضر یسین قانون اتمام حجت ایک ایسا مابعد الطبیعی نظریہ ہے جو ناسخ قرآن و سنت ہے۔اس "عظیم" مابعد الطبیعی مفروضے نے سب سے پہلے جس ایمانی محتوی پر ضرب لگائی ہے وہ یہ ہے کہ اب قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تصدیق روئے زمین پر افضل ترین ایمانی اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا مولانا اصلاحی و خضر یسین صاحب، سب کو ایک ہی شبہ یا فکر لاحق ہے کہ دین کو قطعی طریقے پر منتقل ہونا چاہئے اور اس کا حل ان حضرات نے “ثبوتاً متواتر چیز” کا پیمانہ رکھا ہے حالانکہ اس کے باوجود بھی ان کی مشکل حل نہیں ہوتی اس لئے کہ خدا کی مراد سے متعلق علم کے حوالے سے جس گمان غالب سے یہ بچنا چاہتے تھے وہ اگلے قدم پر انہیں الفاظ کی دلالت کی بحث میں آن لیتا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے ثابت اپنی شاذ آراء تک جن احکام کو یہ اصل دین کہہ رہے ہوتے ہیں بذات خود ان معنی کا ثبوت امت میں متواتر نہیں ہوتا۔ مولانا فراہی و اصلاحی صاحب کا البتہ یہ گمان تھا کہ نظم قرآن کی دریافت کے بعد الفاظ کی دلالت کی ظنیت کے سب مسائل ختم ہوجائیں گے تاہم جلد ہی واضح ہوگیا کہ یہ غلط فہمی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ لسانیاتی طور پر کسی محکم بنیاد پر قائم نہیں تھا بلکہ کوئی نئی بات معلوم ہوجانے سے پیدا ہونے والی ایکسائیٹمنٹ پر مبنی تھا۔ حدیث کی حجیت سے متعلق بیسویں صدی میں ہونے والی یہ بحثیں کوئی نئی نہیں، اصول فقہ کی میسر قدیم ترین کتب میں ان پر مفصل بحثیں موجود ہیں اور اصولیین نے ایسے سب شبہات کا علمیاتی اصولوں پر تجزیہ کررکھا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…