بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کا تصور سنت

غامدی صاحب کا تصور سنت

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کا اپریل ۲۰۰۸ء کا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں غامدی صاحب کے رفیق کار جناب محمد رفیع مفتی نے سوال و جواب کے باب میں دو سوالوں کے جواب میں سنت نبوی کے بارے میں غامدی...

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

مولانا واصل واسطی پانچویں بات اس سلسلے میں یہ ہے ۔ کہ جناب نے جوکچھ اوپر مبحوث فیہ عبارت میں لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ   ہم اس  فہرستِ سنت میں سے جس کا ذکر قران مجید میں آیا ہے ۔ اس کے مفہوم کاتعین ان روایات ہی کی روشنی میں کرتے ہیں محض قران مجید پراکتفاء نہیں کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 87)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اس عبارت میں جناب غامدی نے یہ لکھی ہے کہ "قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہواہے ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواترپر مبنی روایت سے متعین ہو ں گی ۔ انہیں قران سے براہِ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں جائے گی " ( میزان ص 47) اس بات پر بھی جناب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 86)

مولانا واصل واسطی اب دوسری مستثنی صورت کو دیکھتے ہیں: جناب غامدی لکھتے ہیں" دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگرقحبہ عورتیں ہوں توان سے نمٹنے کے لیے قران مجید کی روسے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں ۔ جو اس بات پر گواہی دیں کہ فلان عورت فی الواقع زنا کی عادی ایک...

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن...

ڈاکٹر زاہد مغل

سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا مولانا اصلاحی و خضر یسین صاحب، سب کو ایک ہی شبہ یا فکر لاحق ہے کہ دین کو قطعی طریقے پر منتقل ہونا چاہئے اور اس کا حل ان حضرات نے “ثبوتاً متواتر چیز” کا پیمانہ رکھا ہے حالانکہ اس کے باوجود بھی ان کی مشکل حل نہیں ہوتی اس لئے کہ خدا کی مراد سے متعلق علم کے حوالے سے جس گمان غالب سے یہ بچنا چاہتے تھے وہ اگلے قدم پر انہیں الفاظ کی دلالت کی بحث میں آن لیتا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے ثابت اپنی شاذ آراء تک جن احکام کو یہ اصل دین کہہ رہے ہوتے ہیں بذات خود ان معنی کا ثبوت امت میں متواتر نہیں ہوتا۔ مولانا فراہی و اصلاحی صاحب کا البتہ یہ گمان تھا کہ نظم قرآن کی دریافت کے بعد الفاظ کی دلالت کی ظنیت کے سب مسائل ختم ہوجائیں گے تاہم جلد ہی واضح ہوگیا کہ یہ غلط فہمی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ لسانیاتی طور پر کسی محکم بنیاد پر قائم نہیں تھا بلکہ کوئی نئی بات معلوم ہوجانے سے پیدا ہونے والی ایکسائیٹمنٹ پر مبنی تھا۔ حدیث کی حجیت سے متعلق بیسویں صدی میں ہونے والی یہ بحثیں کوئی نئی نہیں، اصول فقہ کی میسر قدیم ترین کتب میں ان پر مفصل بحثیں موجود ہیں اور اصولیین نے ایسے سب شبہات کا علمیاتی اصولوں پر تجزیہ کررکھا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…