بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی انہی مذکورہ مردوں اورعورتوں کے متعلق آگے  لکھتے ہیں کہ ،، اس لیے ان میں سے جو اپنے حالات کے لحاظ سے نرمی کی مستحق ہیں ، انہیں زنا کے جرم میں سورہِ نور کی آیت (2) کے تحت سوکوڑے اور معاشرے کو ان کے شروفساد سے بچانے کےلیے ان کی اوباشی کی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 45)

مولانا واصل واسطی اس کے بعد جناب غامدی نے حدیث ،، لایرث المسلم الکافر ولاالکافرالمسلم ،، کے متعلق اپنے خیالات پیش کیے ہیں مگر ہم نے اس پرپہلے لکھا ہے  اس لیےاگے بڑھتے ہیں   اور دوسرے مسئلے کاجائزہ لیتے ہیں ۔ اس دوسرے مسئلے کے بارے میں جناب لکھتے ہیں کہ ،،  سورتِ مائدہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 44)

مولانا واصل واسطی ہم یہاں دوباتیں کریں گے ۔جناب غامدی کی اوپر مذکور بات سے پہلے ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے   جو رضاعت کے مسئلے سے ہی متعلق ہے وہ پہلی بات ہے اور یہ ہے کہ جناب غامدی اور ان کے ،، استادامام ،، کو چونکہ رضاعت کے مسئلے میں امام ابوحنیفہ کا مسلک منظور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 43)

مولانا واصل واسطی  پہلی بات اس مورد میں یہ ہے کہ جناب غامدی نے اوپر اس بات پر سورتِ النساء کی آیت (23) سے استدلال کیاہے  کہ قران کی اس آیت کی روسے رضاعت سے بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہیں   جو نسب سے ہوتی ہیں   اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیتِ سورتِ النساء سے استنباط...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 42)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی آگےان محذوفات کے مقامات اورمواضع کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ،، مقسم علیہ ، جوابِ شرط ، جملہ معللہ کے معطوف علیہ اورتقابل کے اسلوب میں جملے کے بعض اجزا کا حذف اس کی عام مثالیں ہیں ( میزان ص 37 ) ان مواضع اورمقامات میں اختلاف کرنا ہمارے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 46)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 41)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس سلسلے میں یہ ہے  کہ جناب غامدی نے یہاں ،، بیانِ فطرت ،، کو آحادیث تک ہی محدود کرلیاہے  جیساکہ اس کی پہلی تحریر  سے معلوم ہوتاہے ۔ایک بار پھر اس عبارت کا یہ حصہ دیکھ لیتے ہیں ۔ ان کا فرمان ہے کہ ،، لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نےاسے بیانِ...

ڈاکٹر زاہد مغل

سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا مولانا اصلاحی و خضر یسین صاحب، سب کو ایک ہی شبہ یا فکر لاحق ہے کہ دین کو قطعی طریقے پر منتقل ہونا چاہئے اور اس کا حل ان حضرات نے “ثبوتاً متواتر چیز” کا پیمانہ رکھا ہے حالانکہ اس کے باوجود بھی ان کی مشکل حل نہیں ہوتی اس لئے کہ خدا کی مراد سے متعلق علم کے حوالے سے جس گمان غالب سے یہ بچنا چاہتے تھے وہ اگلے قدم پر انہیں الفاظ کی دلالت کی بحث میں آن لیتا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے ثابت اپنی شاذ آراء تک جن احکام کو یہ اصل دین کہہ رہے ہوتے ہیں بذات خود ان معنی کا ثبوت امت میں متواتر نہیں ہوتا۔ مولانا فراہی و اصلاحی صاحب کا البتہ یہ گمان تھا کہ نظم قرآن کی دریافت کے بعد الفاظ کی دلالت کی ظنیت کے سب مسائل ختم ہوجائیں گے تاہم جلد ہی واضح ہوگیا کہ یہ غلط فہمی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ لسانیاتی طور پر کسی محکم بنیاد پر قائم نہیں تھا بلکہ کوئی نئی بات معلوم ہوجانے سے پیدا ہونے والی ایکسائیٹمنٹ پر مبنی تھا۔ حدیث کی حجیت سے متعلق بیسویں صدی میں ہونے والی یہ بحثیں کوئی نئی نہیں، اصول فقہ کی میسر قدیم ترین کتب میں ان پر مفصل بحثیں موجود ہیں اور اصولیین نے ایسے سب شبہات کا علمیاتی اصولوں پر تجزیہ کررکھا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…