بیسویں صدی کی علمیاتی بحث اور حجیتِ سنت کا انکار

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

مولانا واصل واسطی ہم نے کچھ اوپرجناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے  جس میں انھوں نے سورت الاعلی اور سورت القیامہ کی آیات سے فقط ایک قراءت کے مسئلے پر استدلال کیا ہے ۔اس کے بعد انھوں نے تین نکات ان سےاخذ کیے ہیں ۔ جن کو ہم کچھ دیر بعد میں مالہ وماعلیہ کے ساتھ ذکر کریں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 18)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپرایک تواردو تفاسیر کے حوالے دیئے ہیں ، وجہ اس کی یہ ہے  کہ جناب غامدی اکثر انہیں تفاسیر کے حوالے دیتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی صرف قران کے ہمارے ہاں مروج قراءت ہی کو متواتر قراردیتے ہیں  باقی قراءتوں کو متواتر نہیں مانتے ہیں ۔ ہم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 17)

مولانا واصل واسطی  دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی نے قراءتِ قران کے متعلق دوآیتیں پیش کی ہیں جن کا سرے سے اس موضوع سے تعلق ہی نہیں ہے ، لطف اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ صاحب قران کو میزان اور فرقان بھی قراریتے ہیں  جن کا مفہوم ان کے نزدیک ،، قران کے الفاظ  کااپنے مفہوم...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

ڈاکٹر خضر یسین ایمان کی عمومی تعریف یہ کی گئی ہے: یہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب کا نام ہے۔ زبان سے اقرار اور دل سے سچ ماننے کا نام ہے۔ کس چیز کا زبان سے اقرار کرنا ہے اور دل سے سچ ماننا ہے؟ جواب ہے:"ما انزل اللہ علی نبیہ" کے سچ ہونے کا زبان سے اقرار کرنا ہے اور دل...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط یازدہم)

ڈاکٹر خضر یسین میں یہاں ایک بات عرض کر دوں: میرا مقصد غامدی صاحب کے دینی فکر کی نفی ہرگز نہیں ہے بلکہ کسی عالم، جماعت یا فرقے کی نفی میرا مقصود کبھی نہیں رہا۔ میرا مقصد "نبوت کماہی پر قناعت" کی دعوت و تبلیغ ہے، جس میں میں اپنے احباب سمیت مصروہوں اور صاحب شعور مسلمان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 16)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے دو باتیں پیچھے کہی ہیں جس کاخلاصہ یہ ہے  ،، کہ ایک تو ،، قران کی تحدید وتخصیص قران کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ہوسکتی۔ چاہے وہ قولِ پیغمبر علیہ السلام ہی کیوں نہ ہو ،، اور دوسری بات یہ کہی ہے کہ اس( قران ) کے الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر...

ڈاکٹر زاہد مغل

سنت کی حجیت کے انکار یا اس پر تحفظات و شبہات کے پس پشت انیسویں و بیسویں صدی کی علمیاتی بحثوں کا بھی عمل دخل ہے جہاں قطعی و آفاقی نوعیت کے علم پر زور دیا جاتا تھا اور گمان غالب کے درجے کی بات کو مفید نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹھیٹھ منکرین سنت ہوں یا مولانا اصلاحی و خضر یسین صاحب، سب کو ایک ہی شبہ یا فکر لاحق ہے کہ دین کو قطعی طریقے پر منتقل ہونا چاہئے اور اس کا حل ان حضرات نے “ثبوتاً متواتر چیز” کا پیمانہ رکھا ہے حالانکہ اس کے باوجود بھی ان کی مشکل حل نہیں ہوتی اس لئے کہ خدا کی مراد سے متعلق علم کے حوالے سے جس گمان غالب سے یہ بچنا چاہتے تھے وہ اگلے قدم پر انہیں الفاظ کی دلالت کی بحث میں آن لیتا ہے۔ قرآن کے الفاظ سے ثابت اپنی شاذ آراء تک جن احکام کو یہ اصل دین کہہ رہے ہوتے ہیں بذات خود ان معنی کا ثبوت امت میں متواتر نہیں ہوتا۔ مولانا فراہی و اصلاحی صاحب کا البتہ یہ گمان تھا کہ نظم قرآن کی دریافت کے بعد الفاظ کی دلالت کی ظنیت کے سب مسائل ختم ہوجائیں گے تاہم جلد ہی واضح ہوگیا کہ یہ غلط فہمی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ لسانیاتی طور پر کسی محکم بنیاد پر قائم نہیں تھا بلکہ کوئی نئی بات معلوم ہوجانے سے پیدا ہونے والی ایکسائیٹمنٹ پر مبنی تھا۔ حدیث کی حجیت سے متعلق بیسویں صدی میں ہونے والی یہ بحثیں کوئی نئی نہیں، اصول فقہ کی میسر قدیم ترین کتب میں ان پر مفصل بحثیں موجود ہیں اور اصولیین نے ایسے سب شبہات کا علمیاتی اصولوں پر تجزیہ کررکھا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…