ڈاکٹر زاہد مغل
مقامات میں اپنی تحریر “قطعی و ظنی” میں جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ائمہ اصول کے ہاں قطعیت احتمال کی نفی کا نام ہے اور یہ نفی دو طرح کی ہے:
1) جب سرے سے احتمال نہ ہو، (حنفی اصطلاحات کی رعایت کرتے ہوئے) اس کی مثال محکم و متواتر ہیں،
2)
جب احتمال کے لئے پیش کردہ دلیل ناقابل التفات ہو (اسے غیر ناشی عن دلیل احتمال کہتے ہیں)، اس کی مثال ظاہر، نص و خبر مشہور ہیں۔
چنانچہ قطعی کا مطلب وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہو جائے کہ نقیض کا احتمال نہ رہے۔
یہاں تک بات ٹھیک ہوگئی۔ تاہم آگے جاکر اسے قرآنی آیات سے متعلق کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
“ان کے الفاظ ہی ان کی تفسیر ہیں اور ان میں نسخ، تخصیص یا تبدیلی اور تغیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔
یہاں انہوں نے قطعیت کے درج بالا تصورات کو جس طرح نسخ پر لاگو کردیا ہے یہ خلط مبحث ہے اس لئے کہ احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات قرآن میں مذکور “محکم” کے سوا ہر حکم کو نسخ کا احتمال لاحق رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ محکم دو طرح کا ہے:
(الف) حسن و قبح عقلی سے ثابت مقدمات جیسے شکر منعم کا حسن اور جھوٹ وغیرہ کا قبیح ہونا،
(ب) وہ احکام جو لفظ “ہمیشگی” کے مفہوم کا فائدہ دینے والے الفاظ (جیسے “ابدا”) کے ساتھ نازل ہوئے ہوں،
ان کے سوا مفسر، نص و ظاہر سب کو نسخ کا صرف احتمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ناشی عن دلیل احتمال ہوتا ہے اور اسی لئے احناف کے نزدیک نبیﷺ کی حین حیات خبر واحد تک سے نسخ جائز ہوتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک حکم کی تابید صرف استصحاب حال پر مبنی ہوتی ہے جو کہ ظنی دلیل ہے۔ چنانچہ وہ احکام جو نسخ کا احتمال نہ ہونے کی بنا پر درج بالا مفہوم میں قطعی ہیں، احناف کے نزدیک وہ گنتی کے چند احکام ہیں۔ البتہ عام کی دلالت چونکہ اعیان یا افراد پر احناف کے نزدیک قطعی ہے، لہذا متصل تخصیص ہوئے بغیر وہ دوسرے معنی (ناشی عن دلیل احتمال سے پاک ہونے کے مفہوم) میں قطعی ہے۔ رہ گئے احناف کے سوا دیگر جمہور اصولیین، تو ان کے نزدیک چونکہ حسن و قبح عقلی معتبر نہیں اور راجح رائے کے مطابق لفظ “ابدا” کی دلالت بھی تخصیص قبول کرتی ہے لہذا ان کے نزدیک حنفی اصطلاح محکم کے درجے پر کوئی آیت نہیں جو سرے سے نسخ کے احتمال سے منزہ ہوسکے۔ رہا تخصیص کا احتمال، تو اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ عام کی دلالت ظنی ہے۔
الغرض غامدی صاحب نے یہاں بھی اصولیین کے کچھ تصورات کو لے کر ان کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نسخ سے متعلق درج بالا سطور لکھتے ہوئے وہ اس حقیقت پر بھی غور نہ کرسکے کہ اگر آیات قرآنیہ کو ناشی عن دلیل نسخ کا احتمال لاحق ہی نہیں تو بعض قرآنی احکام منسوخ کیسے ہوئے، چاہے قرآن سے ہوئے ہوں؟
یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ احناف کے نزدیک بھی سارا قرآن درج بالا دوسرے معنی میں قطعی نہیں اس لئے کہ وہ الفاظ کی دلالتوں کے فرق کو بخوبی جانتے تھے اور انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔ البتہ مولانا فراہی صاحب نے کسی لسانیاتی اصول کی نشاندہی کے بغیر نظم قرآن کے تصور کے زور پر سارے قرآن کو قطعی قرار دے دیا ہے حالانکہ جزوی مسائل میں زیر بحث احتمالات جس قسم کے لسانیاتی امور سے جنم لیتے ہیں انہیں حل کرنے میں سورتوں کے جوڑے، سورت کا عمود، سورت کے مضامین وغیرہ جیسے استقرائی امور اکثر و بیشتر غیر متعلق ہوتے ہیں۔