تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط چہارم

Published On September 27, 2025
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ

۔(8) غامدی صاحب نے بخاری شریف کی ایک روایت نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:
“إِنَّمَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
ترجمہ کیا: “آگاہ ہو کہ تم میں سے ہر شخص چرواہا ہے اور ہر ایک سے اس کے گلے کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔ غامدی صاحب نے “راعٍ” کو “چرواہا” اور “رعایا” کو “گلہ” لے کر ترجمہ کیا، حالانکہ اکثر مفسرین اور مترجمین نے “راعٍ” کو “حاکم/سرپرست” اور “رعية” کو “ماتحت/عوام” کے معنی میں لیا ہے، اور یہی معنی لغتِ عرب میں بھی عام طور پر مستعمل ہے۔ غامدی صاحب کا “رعیت” کو محض ‘گلہ’ سمجھ لینا اور “راع” کو محض ‘چرواہا’ مان لینا معنی کو محدود کر دیتا ہے۔ صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ماتحت یا اپنی ذمہ داری کے حوالے سے سوال کے قابل ہے، خواہ وہ چند افراد ہوں یا متعدد؛ ربط اور گستردگی کا مفہوم اسی معنی سے مراد ہوتا ہے۔

۔(9) غامدی صاحب نے حضرت ابن عباس کا ارشاد نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:
“حَدَّثَ النَّاسَ كُلَّ جُمْعَةٍ مَرَّةً”
ترجمہ کیا: “لوگوں کو ہر جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کیا کرو” (میزان: ۵۷۵)۔ غامدی صاحب کا “كل جمعة مرة” کا ترجمہ “ہر جمعہ کے دن” بالکل لغوی اور حرفی معلوم ہوتا ہے، حالانکہ مراد یہاں ہفتہ میں ایک مرتبہ ہے۔ جیسا کہ اگلے جملے میں خود غامدی صاحب نے “هفتہ میں دو مرتبہ” کے مقابلے میں “مرتين” کا ترجمہ دیا ہے، لہٰذا “كل جمعة مرة” کا مطلب ہفتہ میں ایک مرتبہ ہی بنتا ہے۔ اس لیے “ہر جمعہ کے دن” کا ترجمہ غیر مناسب اور غلط ہے۔

۔(10) ہم نے غامدی صاحب کی صرف ایک معرکہ الآراء کتاب سے چند مثالیں پیش کی ہیں جن سے ان کی عربی زبان میں دسترس کا انکشاف ہوتا ہے تاکہ عوام الناس جان لیں کہ عربی عبارات کا صحیح ترجمہ بھی نہ کر سکنے والے کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تفسیر کے کام کرنے کے اہل ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اُنہیں ناقلین کے زمرے میں شمار کرنا بھی بددیانتی ہے؛ پھر وہ اپنی مزعومہ استعداد و صلاحیت کے بل پر جو بعض گمراہ کن نظریات پھیلا رہے ہیں، ان کے اور ان جیسے دیگر باطل نظریات کے پرچار کرنے والوں کے شر سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…