تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط چہارم

Published On September 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی صاحب آگے اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں کہ  " دین لاریب انھی دوصورتوں میں ہے ۔ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جاسکتاہے ( میزان ص15)" ہم عرض کرتے ہیں کہ جناب غامدی نے دین کو بہت مختصر کر دیا ہے  کیونکہ جن 25 سنن کو انھوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 3)

مولانا واصل واسطی گذشتہ بحث سے معلوم ہوا کہ جناب غامدی نے ،، سنت ،، کی صرف الگ اصطلاح ہی نہیں بنائی ، بلکہ اس میں ایسے تصرفات بھی کیے ہیں جن کی بنا پر وہ بالکل الگ چیز بن گئی ہے ۔ دیکھئے کہ فقھاء اوراصولیین کی ایک جماعت نے بھی ،، حدیث ،، اور ،، سنت ،، میں فرق کیا ہے ۔...

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب  کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

وقار اکبر چیمہ   تعارف دینِ اسلام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انسان کو عطاء کئے گئے مال میں سے صرف ایک تہائی پر اسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کی وصیت جس کو چاہے کر سکتا ہے۔ جبکہ باقی مال اس کی موت کے بعد اسی وراثت کے قانون کے تحت تقسیم کیا جائے گا جسے اللہ نے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 2)

مولانا واصل واسطی ہم نے پہلی پوسٹ میں لکھاہے کہ جناب غامدی کلی طور پرمنکرِحدیث ہیں ، کہ وہ حدیث کو سرے سے ماخذِدین اور مصدرِشریعت نہیں مانتے ، انہوں نے اپنی فکرکی ترویج کے لیے جن اصطلاحات کو وضع کیاہے ان میں سے ایک اصطلاح  ،، سنت ،، کی بھی ہے ، عام علماء کرام ،، حدیث...

فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب کے شاگرد محترم ساجد حمید صاحب نے کسی قدر طنز سے کام لیتے ہوئے اصولیین کے اس تصور پر تنقید کی ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت ظنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بگاڑ کی اصل وجہ امام شافعی ہی سے شروع ہوجاتی ہے جس میں اصولیین، فلاسفہ و صوفیا نے بقدر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

مولانا واصل واسطی ہم نے یہ بات اپنی مختلف پوسٹوں میں صراحت سے بیان کی ہے ، کہ جناب جاوید غامدی، غلام احمدپرویز کی طرح  بالکل منکرِحدیث ہیں ۔البتہ ان کا یہ فلسفہ پیچ درپیچ ہے ، وہ اس لیے کہ انھوں نے پرویز وغیرہ کا انجام دیکھ لیا ہے ، اب اس برے انجام سے وہ بچنا چاھتے...

مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ

۔(8) غامدی صاحب نے بخاری شریف کی ایک روایت نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:
“إِنَّمَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
ترجمہ کیا: “آگاہ ہو کہ تم میں سے ہر شخص چرواہا ہے اور ہر ایک سے اس کے گلے کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔ غامدی صاحب نے “راعٍ” کو “چرواہا” اور “رعایا” کو “گلہ” لے کر ترجمہ کیا، حالانکہ اکثر مفسرین اور مترجمین نے “راعٍ” کو “حاکم/سرپرست” اور “رعية” کو “ماتحت/عوام” کے معنی میں لیا ہے، اور یہی معنی لغتِ عرب میں بھی عام طور پر مستعمل ہے۔ غامدی صاحب کا “رعیت” کو محض ‘گلہ’ سمجھ لینا اور “راع” کو محض ‘چرواہا’ مان لینا معنی کو محدود کر دیتا ہے۔ صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ماتحت یا اپنی ذمہ داری کے حوالے سے سوال کے قابل ہے، خواہ وہ چند افراد ہوں یا متعدد؛ ربط اور گستردگی کا مفہوم اسی معنی سے مراد ہوتا ہے۔

۔(9) غامدی صاحب نے حضرت ابن عباس کا ارشاد نقل کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے:
“حَدَّثَ النَّاسَ كُلَّ جُمْعَةٍ مَرَّةً”
ترجمہ کیا: “لوگوں کو ہر جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کیا کرو” (میزان: ۵۷۵)۔ غامدی صاحب کا “كل جمعة مرة” کا ترجمہ “ہر جمعہ کے دن” بالکل لغوی اور حرفی معلوم ہوتا ہے، حالانکہ مراد یہاں ہفتہ میں ایک مرتبہ ہے۔ جیسا کہ اگلے جملے میں خود غامدی صاحب نے “هفتہ میں دو مرتبہ” کے مقابلے میں “مرتين” کا ترجمہ دیا ہے، لہٰذا “كل جمعة مرة” کا مطلب ہفتہ میں ایک مرتبہ ہی بنتا ہے۔ اس لیے “ہر جمعہ کے دن” کا ترجمہ غیر مناسب اور غلط ہے۔

۔(10) ہم نے غامدی صاحب کی صرف ایک معرکہ الآراء کتاب سے چند مثالیں پیش کی ہیں جن سے ان کی عربی زبان میں دسترس کا انکشاف ہوتا ہے تاکہ عوام الناس جان لیں کہ عربی عبارات کا صحیح ترجمہ بھی نہ کر سکنے والے کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تفسیر کے کام کرنے کے اہل ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اُنہیں ناقلین کے زمرے میں شمار کرنا بھی بددیانتی ہے؛ پھر وہ اپنی مزعومہ استعداد و صلاحیت کے بل پر جو بعض گمراہ کن نظریات پھیلا رہے ہیں، ان کے اور ان جیسے دیگر باطل نظریات کے پرچار کرنے والوں کے شر سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…