مقرر : مولانا طارق مسعود تلخیص : زید حسن اول - جاوید احمد غامدی نے رجم کا انکار کیا ہے ۔ رجم کا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد زنا کریں تو انہیں سنگسار...
مقرر : مولانا طارق مسعود تلخیص : زید حسن اول - جاوید احمد غامدی نے رجم کا انکار کیا ہے ۔ رجم کا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد زنا کریں تو انہیں سنگسار...
مقرر : مولانا طارق مسعود تلخیص : زید حسن جسمانی معراج کے انکار پر غامدی صاحب کا استدلال " وما جعلنا الرؤیا التی" کے لفظ رویا سے ہے ۔حالانکہ یہاں...
مقرر : مولانا الیاس گھمن تلخیص : زید حسن غامدی صاحب کہتے ہیں : اللہ تعالی نے فرمایا ہے "اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک " قرآن کی...
مقرر : مفتی منیر اخون تلخیص : زید حسن سائل : ہمارے ہاں عموما سمجھا جاتا ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور قربِ قیامت تشریف لائیں گے لیکن بعض لوگ...
مقرر : مفتی منیر اخون تلخیص : زید حسن سائل : ہر مسلمان سمجھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیقِ کائنات ہیں لیکن ایک اسکالر کا کہنا ہے کہ آپ...
مقرر : مفتی منیر اخون تلخیص : زید حسن سائل : ڈاڑھی کے بارے میں غامدی صاحب کہتے ہیں کہ وہ دین کا حصہ نہیں ہے اور انکا استدلال یہ ہے کہ اسکا قرآن میں...
مولانا عبد الحق بشیر
چھٹا اختلاف کیا علماء کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے؟
ان کے ساتھ ہمارا چھٹا اختلاف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ : علمائے کرام جو دین پڑھانے والے ہیں اُن کے لیے سیاست کرنا حرام ہے۔ اور وجہ کیا ہے؟ وہ بھی لکھتے ہیں۔ اس لیے کہ امت کا جو مذہبی طبقہ ہے اُس کے اندر حکمت اور بصیرت ہے ہی نہیں۔ اُمت کے مذہبی طبقے کے اندر نہ حکمت ہے، نہ بصیرت ہے۔
غامدی صاحب دستور پاکستان کے منکر ہیں:۔
اور دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ علماء پر سیاست کرنے کی اس لیے پابندی ہے کہ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ یہ کہا جائے کہ یہ مسلم ریاست ہے، یہ اسلامی ریاست ہے۔ یہ ہندو ریاست ہے، یہ عیسائی ریاست ہے، نہیں ! ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں وہ پاکستان کے دستور کا صاف لفظوں میں انکار کر رہے ہیں جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ: اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہے، سرکاری مذہب ہے۔ غامدی صاحب کا نظریہ یہ ہے کہ: علماء کو سیاست کا حق نہیں۔ ایک تو اس لیے کہ اُن کے اندر بصیرت ہی نہیں۔ اور ایک اس لیے کہ مذہب کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مذہب کو حالات کے مطابق ڈھالنے کا ایک سچا واقعہ:۔
میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ کچھ لوگوں نے فہم قرآن کے لیے ایک اُصول بتایا ہے کہ فہم قرآن کا تعلق حالات اور ماحول سے ہے۔ حالات جیسے ہوں قرآن کو ویسے ڈھال دو۔ ماحول جیسا ہو قرآن کو اس کے مطابق ڈھال دو۔
یہاں میں آپ کو لطیفہ نہیں سچا واقعہ سنا رہا ہوں۔ برطانیہ کے اندر کسی دور میں پابندی تھی۔ بلکہ آج بھی ہے کہ وہاں زنا بالرضا قانونا جرم نہیں ہے۔ وہاں کے (عیسائی) مذہبی طبقات نے ایک مسئلہ اٹھایا کہ چونکہ معاشرے کے اندر اکثریت ان لوگوں کی ہے جو زنا کرتے ہیں، اس سے پہلے زنا گناہ تھا، قانونا جرم نہیں تھا۔ لیکن چوں کہ سوسائٹی کے اندر اکثریت زنا کرنے والوں کی ہے، لہذا زنا گناہ بھی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے احکامات کو اللہ کے قانون کو سوسائٹی کے تابع کر دیا۔ اسلام اور ان غیر مسلموں کے اندر فرق یہی ہے۔ اسلام سوسائٹی کو اللہ کی وحی کے مطابق بناتا ہے اور یہ اللہ کی وحی کو سوسائٹی کے مطابق بناتے ہیں۔
جاری
All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!
We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف...
حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو...
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اپنی ملامت کا رخ مسلسل مسلمانوں کی طرف کرنے پر جب...