غامدی حلقے سے ایک سوال

Published On March 27, 2026
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اسلام کا جنگی نظام " جہاد " عرصہ دراز سے مخالفین اسلام کے طعن و تشنیع اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے۔ علماء امت ہر زمانے میں اس کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں لیکن ماضی قریب میں جب سے برقی ایجادات عام ہو ئیں ، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پوری...

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟ شهادت علی الناس:۔ شہادت علی الناس کا سیدھا اور سادہ معروف مطلب چھوڑ کر غامدی صاحب نے ایک اچھوتا مطلب لیا ہے جو یہ ہے کہ جیسے رسول اپنی قوم پر شاہد ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہ پر شاہد تھے ، ایسے ہی صحابہ کو اور صرف صحابہ کو دیگر محدود...

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟  غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ:۔ ویسے تو کسی نظریے کے غلط ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ امت کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے سے متصادم ہے، لیکن اگر کچھ نادان امت کے اجتماعی ضمیر کو اتھارٹی ہی تسلیم نہ کرتے ہوں اور اپنے دلائل پر نازاں ہوں تو...

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد غامدی تصور جہاد کی سنگینی اور انوکھا پن:۔ پوری اسلامی تاریخ میں اہل سنت کا کوئی قابل ذکر فقیہ مجتہد، محدث اور مفسر اس اچھوتے اور قطعی تصور جہاد کا قائل نہیں گذرا، البتہ ماضی قریب میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمدقادیانی نے اس قبیل کی...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اپنے استاذ امام مولانا اصلاحی کی اتباع میں غامدی صاحب بھی سورۃ العلق کی پہلی 5 آیات کو پہلی وحی نہیں مانتے۔
جن دنوں میرا غامدی صاحب کے پاس آنا جانا تھا، میں نے ان سے پوچھا تھا اور انھوں نے جواب دیا تھا کہ ان کے نزدیک سورۃ الفاتحہ ہی پہلی وحی ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی تفسیر البیان میں آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کی سورتوں کو اس طرح تقسیم مانا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے تمام مراحل تدریج کے ساتھ اس میں سامنے آجاتے ہیں: انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت، براءت و ہجرت اور مابعد ہجرت۔
سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک کی سورتوں کو وہ مرحلۂ انذار کی سورتیں مانتے ہیں۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ الفاتحہ پہلی سورۃ ہے اور سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک مرحلۂ انذار کی سورتیں ہیں (اور باقی سورتیں ان سورتوں کے بعد کی سورتیں ہیں)، تو کیا وہ اس کے قائل ہیں کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الملک کے درمیان کوئی اور سورۃ نازل نہیں ہوئی؟
اس سوال کا جواب ان کی تحریرات میں سے مل جائے، تو بہت بہتر ہے، ورنہ (مجبوراً) ان کے کسی کلپ کا بھی آپ حوالہ دے سکتے ہیں، اگر انھوں نے خصوصاً اس سوال پر کہیں بات کی ہے۔
برسوں پہلے میں نے ان سے پوچھا تھا کہ مرحلۂ انذار سے مراد اگر پہلے تین سال ہیں، تو ان سورتوں کے مباحث تو پہلے تین سالوں کے نہیں معلوم ہوتے۔ انھوں نے ان مراحل کی سالوں میں تقسیم سے گریز کیا تھا۔ بعض سورتوں کے متعلق میں نے خصوصاً کچھ سوالات کیے تھے۔ ان پر ان کے جوابات بھی ذکر کروں گا، لیکن پہلے اس سوال کا جواب مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
از راہِ کرم اس سوال کے جواب میں اپنی تحقیق یا اپنے اندازے پیش کرنے کے بجاے غامدی صاحب ہی کی تحریر (یا تقریر) کا حوالہ دیں۔ بہت شکریہ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…