غامدی حلقے سے ایک سوال

Published On March 27, 2026
بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط سوم

ڈاکٹر محمد مشتاق بادشاہ کے بجائے بادشاہ گر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اسلامک فرنٹ کے تجربے کی ناکامی کے بعد بھی غامدی صاحب اور آپ کے ساتھی عملی سیاست سے یکسر الگ تھلگ نہیں ہوئے اور اگلے تجربے کےلیے انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی طرف رخ کیا۔ ڈاکٹر...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق اتمامِ حجت اور تاویل کی غلطی ۔1980ء کی دہائی کے وسط میں جناب غامدی نے ’نبی اور رسول‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو اس وقت میزان حصۂ اول میں شائع کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل مولانا اصلاحی کے تصور ’اتمامِ حجت‘ کی توضیح پر مبنی تھا اور اس میں انھوں نے مولانا...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق ۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اپنے استاذ امام مولانا اصلاحی کی اتباع میں غامدی صاحب بھی سورۃ العلق کی پہلی 5 آیات کو پہلی وحی نہیں مانتے۔
جن دنوں میرا غامدی صاحب کے پاس آنا جانا تھا، میں نے ان سے پوچھا تھا اور انھوں نے جواب دیا تھا کہ ان کے نزدیک سورۃ الفاتحہ ہی پہلی وحی ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی تفسیر البیان میں آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کی سورتوں کو اس طرح تقسیم مانا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے تمام مراحل تدریج کے ساتھ اس میں سامنے آجاتے ہیں: انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت، براءت و ہجرت اور مابعد ہجرت۔
سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک کی سورتوں کو وہ مرحلۂ انذار کی سورتیں مانتے ہیں۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ الفاتحہ پہلی سورۃ ہے اور سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک مرحلۂ انذار کی سورتیں ہیں (اور باقی سورتیں ان سورتوں کے بعد کی سورتیں ہیں)، تو کیا وہ اس کے قائل ہیں کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الملک کے درمیان کوئی اور سورۃ نازل نہیں ہوئی؟
اس سوال کا جواب ان کی تحریرات میں سے مل جائے، تو بہت بہتر ہے، ورنہ (مجبوراً) ان کے کسی کلپ کا بھی آپ حوالہ دے سکتے ہیں، اگر انھوں نے خصوصاً اس سوال پر کہیں بات کی ہے۔
برسوں پہلے میں نے ان سے پوچھا تھا کہ مرحلۂ انذار سے مراد اگر پہلے تین سال ہیں، تو ان سورتوں کے مباحث تو پہلے تین سالوں کے نہیں معلوم ہوتے۔ انھوں نے ان مراحل کی سالوں میں تقسیم سے گریز کیا تھا۔ بعض سورتوں کے متعلق میں نے خصوصاً کچھ سوالات کیے تھے۔ ان پر ان کے جوابات بھی ذکر کروں گا، لیکن پہلے اس سوال کا جواب مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
از راہِ کرم اس سوال کے جواب میں اپنی تحقیق یا اپنے اندازے پیش کرنے کے بجاے غامدی صاحب ہی کی تحریر (یا تقریر) کا حوالہ دیں۔ بہت شکریہ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…