غامدی حلقے سے ایک سوال

Published On March 27, 2026
قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

تجلی خان میراموضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ...

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عزت مآب جناب عزیز ابن الحسن صاحب نے ایک صاحبِ علم کی تحریر پر میری رائے مانگی ہے۔ چند نکات پیش ِخدمت ہیںاول ۔ یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کے لیے قرآن ہی کی آیات سے استدلال مصادرہ مطلوب کا مغالطہ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جن آیات سے آپ قطعیت...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ گروہ غامدی کی تاویلات (دوم

ڈاکٹر زاہد مغل ان مخالف دلائل کے بعد اب غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کی چند تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ حضرات اپنےدفاع کے لیے پیش کرتے ہیں۔اول: کفر کا جوہر: ’انکار ایمان‘ یا ’عدم اقرار‘؟ درحقیقت غامدی صاحب کے نظریہ کفر کی بنیاد ہی غلط تصور پر قائم ہے۔ چنانچہ گروہ...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اپنے استاذ امام مولانا اصلاحی کی اتباع میں غامدی صاحب بھی سورۃ العلق کی پہلی 5 آیات کو پہلی وحی نہیں مانتے۔
جن دنوں میرا غامدی صاحب کے پاس آنا جانا تھا، میں نے ان سے پوچھا تھا اور انھوں نے جواب دیا تھا کہ ان کے نزدیک سورۃ الفاتحہ ہی پہلی وحی ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی تفسیر البیان میں آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کی سورتوں کو اس طرح تقسیم مانا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے تمام مراحل تدریج کے ساتھ اس میں سامنے آجاتے ہیں: انذار، انذارِ عام، اتمامِ حجت، براءت و ہجرت اور مابعد ہجرت۔
سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک کی سورتوں کو وہ مرحلۂ انذار کی سورتیں مانتے ہیں۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ الفاتحہ پہلی سورۃ ہے اور سورۃ الملک سے سورۃ الجن تک مرحلۂ انذار کی سورتیں ہیں (اور باقی سورتیں ان سورتوں کے بعد کی سورتیں ہیں)، تو کیا وہ اس کے قائل ہیں کہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الملک کے درمیان کوئی اور سورۃ نازل نہیں ہوئی؟
اس سوال کا جواب ان کی تحریرات میں سے مل جائے، تو بہت بہتر ہے، ورنہ (مجبوراً) ان کے کسی کلپ کا بھی آپ حوالہ دے سکتے ہیں، اگر انھوں نے خصوصاً اس سوال پر کہیں بات کی ہے۔
برسوں پہلے میں نے ان سے پوچھا تھا کہ مرحلۂ انذار سے مراد اگر پہلے تین سال ہیں، تو ان سورتوں کے مباحث تو پہلے تین سالوں کے نہیں معلوم ہوتے۔ انھوں نے ان مراحل کی سالوں میں تقسیم سے گریز کیا تھا۔ بعض سورتوں کے متعلق میں نے خصوصاً کچھ سوالات کیے تھے۔ ان پر ان کے جوابات بھی ذکر کروں گا، لیکن پہلے اس سوال کا جواب مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
از راہِ کرم اس سوال کے جواب میں اپنی تحقیق یا اپنے اندازے پیش کرنے کے بجاے غامدی صاحب ہی کی تحریر (یا تقریر) کا حوالہ دیں۔ بہت شکریہ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…