حسان بن علی
اس کتاب کے دو باب ہیں۔ پہلے باب میں بیشتر کلام جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل شرعیہ اور فقہی اصولوں کی صحت سے متعلق ہے، چنانچہ بطور مختصر قرآن کی دیگر متواتر قراءات اور اجماع کے متعلق ان کے موقف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح حدیث کی حجیت کا دائرہ، قرآن کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، احکام کی تعلیل میں غامدی صاحب کا مقاصدِ شرعیہ کو منبعِ تعلیل قرار دینا، ان امور کو قدرے وضاحت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے وضع کردہ اصولوں کے پیش نظر جو انحرافات ثوابتِ دین سے متعلق ان کے ہاں در آئے ہیں، ان کو بھی کچھ عنوانات کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔
اسی طرح اس باب میں غامدی صاحب جہاں اپنے دیگر بزرگوں سے متفق ہیں یا مختلف ہیں، اس کے متعلق مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مولانا فراہی سے لے کر غامدی صاحب تک اگر کوئی ارتقاء ہوا تو صرف دو دواں ہو جاتا ہے بلکہ جو اطلاقات غامدی صاحب نے اس فکر پر اپنے اضافے کی روشنی میں کیے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے۔
دوسرے باب کا زیادہ تر حصہ تفسیری اصولوں سے متعلق ہے، جس میں مولانا فراہی کے تفسیری اصولوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح ان اصولوں کا جائزہ، ان کے اطلاقات کی صورت مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی تفاسیر میں سے منتخب مثالوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرآن بالقرآن میں لفظ کی معنی پر دلالت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ جو کہ مدرسہ فراہی کے ہاں کم یاب ہے، اس کو متشکل مثالوں کے ذریعے آشکار کیا گیا ہے۔ اور اس میں عنوانات کا قیام اصل مثالوں کو جمع کرنے سے متعلق ہے نہ کہ ہر مثال میں اس کے قائم کردہ عنوان کو کوئی اصل قرار دینے سے متعلق۔
اسی طرح کتاب میں مختلف مناہج اصولِ مدرسہ فراہی کے تقابل زیر بحث لانے کے لیے کچھ اصل متن میں لیکن تفصیلی حواشی میں، اسی طرح مکتبِ غامدی سے وابستہ دیگر صاحبِ علم کی آراء کو بھی ان حواشی میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں اصولِ دین (علمِ کلام) سے متعلق کچھ مباحث بھی ایک دو حواشی میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اگر کتاب کا اصل متن اہم ہے تو اس کے حواشی اہم تر ہیں۔
ویسے تو بیشتر ناقدینِ غامدی اور ان تین بزرگوں کے افکار پر ایک جامع جائزہ اور اس کی افادیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن خاص اس کتاب کے لکھنے کی وجہ کچھ تشنگی گوشوں کی تکمیل، کچھ نئے دلائل اور براہین کی تقریر اور ساتھ ہی مکتبِ فراہی کے اصولوں کا غیر محکم اور غیر معتبر ہونا عقلاً و نقلاً واضح کرنا ہے۔