پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

Published On March 27, 2026
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

حسان بن علی

اس کتاب کے دو باب ہیں۔ پہلے باب میں بیشتر کلام جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل شرعیہ اور فقہی اصولوں کی صحت سے متعلق ہے، چنانچہ بطور مختصر قرآن کی دیگر متواتر قراءات اور اجماع کے متعلق ان کے موقف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح حدیث کی حجیت کا دائرہ، قرآن کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، احکام کی تعلیل میں غامدی صاحب کا مقاصدِ شرعیہ کو منبعِ تعلیل قرار دینا، ان امور کو قدرے وضاحت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے وضع کردہ اصولوں کے پیش نظر جو انحرافات ثوابتِ دین سے متعلق ان کے ہاں در آئے ہیں، ان کو بھی کچھ عنوانات کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔

اسی طرح اس باب میں غامدی صاحب جہاں اپنے دیگر بزرگوں سے متفق ہیں یا مختلف ہیں، اس کے متعلق مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مولانا فراہی سے لے کر غامدی صاحب تک اگر کوئی ارتقاء ہوا تو صرف دو دواں ہو جاتا ہے بلکہ جو اطلاقات غامدی صاحب نے اس فکر پر اپنے اضافے کی روشنی میں کیے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے۔

دوسرے باب کا زیادہ تر حصہ تفسیری اصولوں سے متعلق ہے، جس میں مولانا فراہی کے تفسیری اصولوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح ان اصولوں کا جائزہ، ان کے اطلاقات کی صورت مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی تفاسیر میں سے منتخب مثالوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرآن بالقرآن میں لفظ کی معنی پر دلالت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ جو کہ مدرسہ فراہی کے ہاں کم یاب ہے، اس کو متشکل مثالوں کے ذریعے آشکار کیا گیا ہے۔ اور اس میں عنوانات کا قیام اصل مثالوں کو جمع کرنے سے متعلق ہے نہ کہ ہر مثال میں اس کے قائم کردہ عنوان کو کوئی اصل قرار دینے سے متعلق۔

اسی طرح کتاب میں مختلف مناہج اصولِ مدرسہ فراہی کے تقابل زیر بحث لانے کے لیے کچھ اصل متن میں لیکن تفصیلی حواشی میں، اسی طرح مکتبِ غامدی سے وابستہ دیگر صاحبِ علم کی آراء کو بھی ان حواشی میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں اصولِ دین (علمِ کلام) سے متعلق کچھ مباحث بھی ایک دو حواشی میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اگر کتاب کا اصل متن اہم ہے تو اس کے حواشی اہم تر ہیں۔

ویسے تو بیشتر ناقدینِ غامدی اور ان تین بزرگوں کے افکار پر ایک جامع جائزہ اور اس کی افادیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن خاص اس کتاب کے لکھنے کی وجہ کچھ تشنگی گوشوں کی تکمیل، کچھ نئے دلائل اور براہین کی تقریر اور ساتھ ہی مکتبِ فراہی کے اصولوں کا غیر محکم اور غیر معتبر ہونا عقلاً و نقلاً واضح کرنا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…