پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

Published On March 27, 2026
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

حسان بن علی

اس کتاب کے دو باب ہیں۔ پہلے باب میں بیشتر کلام جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل شرعیہ اور فقہی اصولوں کی صحت سے متعلق ہے، چنانچہ بطور مختصر قرآن کی دیگر متواتر قراءات اور اجماع کے متعلق ان کے موقف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح حدیث کی حجیت کا دائرہ، قرآن کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، احکام کی تعلیل میں غامدی صاحب کا مقاصدِ شرعیہ کو منبعِ تعلیل قرار دینا، ان امور کو قدرے وضاحت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے وضع کردہ اصولوں کے پیش نظر جو انحرافات ثوابتِ دین سے متعلق ان کے ہاں در آئے ہیں، ان کو بھی کچھ عنوانات کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔

اسی طرح اس باب میں غامدی صاحب جہاں اپنے دیگر بزرگوں سے متفق ہیں یا مختلف ہیں، اس کے متعلق مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مولانا فراہی سے لے کر غامدی صاحب تک اگر کوئی ارتقاء ہوا تو صرف دو دواں ہو جاتا ہے بلکہ جو اطلاقات غامدی صاحب نے اس فکر پر اپنے اضافے کی روشنی میں کیے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے۔

دوسرے باب کا زیادہ تر حصہ تفسیری اصولوں سے متعلق ہے، جس میں مولانا فراہی کے تفسیری اصولوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح ان اصولوں کا جائزہ، ان کے اطلاقات کی صورت مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی تفاسیر میں سے منتخب مثالوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرآن بالقرآن میں لفظ کی معنی پر دلالت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ جو کہ مدرسہ فراہی کے ہاں کم یاب ہے، اس کو متشکل مثالوں کے ذریعے آشکار کیا گیا ہے۔ اور اس میں عنوانات کا قیام اصل مثالوں کو جمع کرنے سے متعلق ہے نہ کہ ہر مثال میں اس کے قائم کردہ عنوان کو کوئی اصل قرار دینے سے متعلق۔

اسی طرح کتاب میں مختلف مناہج اصولِ مدرسہ فراہی کے تقابل زیر بحث لانے کے لیے کچھ اصل متن میں لیکن تفصیلی حواشی میں، اسی طرح مکتبِ غامدی سے وابستہ دیگر صاحبِ علم کی آراء کو بھی ان حواشی میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں اصولِ دین (علمِ کلام) سے متعلق کچھ مباحث بھی ایک دو حواشی میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اگر کتاب کا اصل متن اہم ہے تو اس کے حواشی اہم تر ہیں۔

ویسے تو بیشتر ناقدینِ غامدی اور ان تین بزرگوں کے افکار پر ایک جامع جائزہ اور اس کی افادیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن خاص اس کتاب کے لکھنے کی وجہ کچھ تشنگی گوشوں کی تکمیل، کچھ نئے دلائل اور براہین کی تقریر اور ساتھ ہی مکتبِ فراہی کے اصولوں کا غیر محکم اور غیر معتبر ہونا عقلاً و نقلاً واضح کرنا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…