پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

Published On March 27, 2026
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی کےاس کلیہ پرہم نےمختصر بحث گذشتہ مضمون میں کی تھی ۔مگر احبابِ کرام اس کو تازہ کرنے کے لیے ذرا جناب غامدی کی عبارت کا وہ ٹکڑا ایک بار پھر دیکھ لیں وہ لکھتے ہیں ۔"پہلی ( بات) یہ کہ قران کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کے خداکا وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 9)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے دوسری ایک ایسی بات لکھی ہے کہ جس کو ہم جیسے گناہ گار بندوں کو بھی کہنے سے ڈرلگتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ،، یہاں تک کہ خداکا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ (قران) نازل ہواہے ، اس کےکسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اس میں کوئی ترمیم وتغیرنہیں کرسکتا ۔ پتہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 8)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے جو تیسری آیت اس سلسلہ میں استدلال کے لیے پیش کی ہے  وہ سورۃ المائدہ کی 48 نمبر آیت ہے ۔وہ پھر ان تین آیتوں سے کچھ  مصنوعی قواعد بناتے ہیں ۔ جس کا ہم آگے چل کر تجزیہ پیش کرینگے ۔ مگر اس آیت کا تعلق  ماضی کے صحیفوں سے ہے ۔کہ قرآن ان پر...

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

دورانِ عدت نکاح پر غامدی صاحب کی غلط فہمیاں

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 7)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے قرآن مجید کے متعلق بھی مختصر سی بحث کی ہے ۔جس پر بہت کچھ کہنے کے لیے موجود ہے  مگر ہم اس کی تفصیل کرنے سے بقصدِ اختصار اعراض کرتے ہیں ۔ جناب نے قرآن کے اوصاف میں ایک وصف ،، فرقان ،،  ذکر کیاہے ۔اور دوسرا وصف ،، میزان ،، ذکرکیاہے ۔پھراس...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 10)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

مولانا واصل واسطی ہم اس وقت ،، حدیث وسنت ،، کے موضوع سے ایک اور بحث کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جناب غامدی نے ،، حدیث اور سنت ،، نے مبحث کو مختلف مقامات میں پھیلا رکھاہے۔درمیان میں دیگر مباحث چھیڑ دیئے ہیں ، ہم بھی انہیں کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جاوید غامدی نے...

حسان بن علی

اس کتاب کے دو باب ہیں۔ پہلے باب میں بیشتر کلام جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل شرعیہ اور فقہی اصولوں کی صحت سے متعلق ہے، چنانچہ بطور مختصر قرآن کی دیگر متواتر قراءات اور اجماع کے متعلق ان کے موقف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح حدیث کی حجیت کا دائرہ، قرآن کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، احکام کی تعلیل میں غامدی صاحب کا مقاصدِ شرعیہ کو منبعِ تعلیل قرار دینا، ان امور کو قدرے وضاحت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے وضع کردہ اصولوں کے پیش نظر جو انحرافات ثوابتِ دین سے متعلق ان کے ہاں در آئے ہیں، ان کو بھی کچھ عنوانات کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔

اسی طرح اس باب میں غامدی صاحب جہاں اپنے دیگر بزرگوں سے متفق ہیں یا مختلف ہیں، اس کے متعلق مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مولانا فراہی سے لے کر غامدی صاحب تک اگر کوئی ارتقاء ہوا تو صرف دو دواں ہو جاتا ہے بلکہ جو اطلاقات غامدی صاحب نے اس فکر پر اپنے اضافے کی روشنی میں کیے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے۔

دوسرے باب کا زیادہ تر حصہ تفسیری اصولوں سے متعلق ہے، جس میں مولانا فراہی کے تفسیری اصولوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح ان اصولوں کا جائزہ، ان کے اطلاقات کی صورت مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی تفاسیر میں سے منتخب مثالوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرآن بالقرآن میں لفظ کی معنی پر دلالت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ جو کہ مدرسہ فراہی کے ہاں کم یاب ہے، اس کو متشکل مثالوں کے ذریعے آشکار کیا گیا ہے۔ اور اس میں عنوانات کا قیام اصل مثالوں کو جمع کرنے سے متعلق ہے نہ کہ ہر مثال میں اس کے قائم کردہ عنوان کو کوئی اصل قرار دینے سے متعلق۔

اسی طرح کتاب میں مختلف مناہج اصولِ مدرسہ فراہی کے تقابل زیر بحث لانے کے لیے کچھ اصل متن میں لیکن تفصیلی حواشی میں، اسی طرح مکتبِ غامدی سے وابستہ دیگر صاحبِ علم کی آراء کو بھی ان حواشی میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں اصولِ دین (علمِ کلام) سے متعلق کچھ مباحث بھی ایک دو حواشی میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اگر کتاب کا اصل متن اہم ہے تو اس کے حواشی اہم تر ہیں۔

ویسے تو بیشتر ناقدینِ غامدی اور ان تین بزرگوں کے افکار پر ایک جامع جائزہ اور اس کی افادیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن خاص اس کتاب کے لکھنے کی وجہ کچھ تشنگی گوشوں کی تکمیل، کچھ نئے دلائل اور براہین کی تقریر اور ساتھ ہی مکتبِ فراہی کے اصولوں کا غیر محکم اور غیر معتبر ہونا عقلاً و نقلاً واضح کرنا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…