پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

Published On March 27, 2026
غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

گل رحمان ہمدرد غامدی صاحب نے مقامات میں دبستانِ شبلی کے بارے بتایا ہے کہ اس کے دو اساسی اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ دین کی حقیقت جاننے کےلیۓ ہمیں پیچھے کی طرف جانا ہوگا ”یہاں تک کہ اُس دور میں پہنچ جاٸیں جب قرآن اتر رہا تھا اور جب خدا کا آخری پیغمبر خود انسانوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپر جناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے کہ ،، چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہوسکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیاجاسکتاہے (میزان ص15) میں نے کہیں جناب غامدی کا اپنا قول غالبا،، اشراق ،، کے کسی شمارے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی صاحب آگے اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں کہ  " دین لاریب انھی دوصورتوں میں ہے ۔ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جاسکتاہے ( میزان ص15)" ہم عرض کرتے ہیں کہ جناب غامدی نے دین کو بہت مختصر کر دیا ہے  کیونکہ جن 25 سنن کو انھوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 3)

مولانا واصل واسطی گذشتہ بحث سے معلوم ہوا کہ جناب غامدی نے ،، سنت ،، کی صرف الگ اصطلاح ہی نہیں بنائی ، بلکہ اس میں ایسے تصرفات بھی کیے ہیں جن کی بنا پر وہ بالکل الگ چیز بن گئی ہے ۔ دیکھئے کہ فقھاء اوراصولیین کی ایک جماعت نے بھی ،، حدیث ،، اور ،، سنت ،، میں فرق کیا ہے ۔...

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب  کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

وقار اکبر چیمہ   تعارف دینِ اسلام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انسان کو عطاء کئے گئے مال میں سے صرف ایک تہائی پر اسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کی وصیت جس کو چاہے کر سکتا ہے۔ جبکہ باقی مال اس کی موت کے بعد اسی وراثت کے قانون کے تحت تقسیم کیا جائے گا جسے اللہ نے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 2)

مولانا واصل واسطی ہم نے پہلی پوسٹ میں لکھاہے کہ جناب غامدی کلی طور پرمنکرِحدیث ہیں ، کہ وہ حدیث کو سرے سے ماخذِدین اور مصدرِشریعت نہیں مانتے ، انہوں نے اپنی فکرکی ترویج کے لیے جن اصطلاحات کو وضع کیاہے ان میں سے ایک اصطلاح  ،، سنت ،، کی بھی ہے ، عام علماء کرام ،، حدیث...

حسان بن علی

اس کتاب کے دو باب ہیں۔ پہلے باب میں بیشتر کلام جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل شرعیہ اور فقہی اصولوں کی صحت سے متعلق ہے، چنانچہ بطور مختصر قرآن کی دیگر متواتر قراءات اور اجماع کے متعلق ان کے موقف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح حدیث کی حجیت کا دائرہ، قرآن کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، احکام کی تعلیل میں غامدی صاحب کا مقاصدِ شرعیہ کو منبعِ تعلیل قرار دینا، ان امور کو قدرے وضاحت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح ان کے وضع کردہ اصولوں کے پیش نظر جو انحرافات ثوابتِ دین سے متعلق ان کے ہاں در آئے ہیں، ان کو بھی کچھ عنوانات کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔

اسی طرح اس باب میں غامدی صاحب جہاں اپنے دیگر بزرگوں سے متفق ہیں یا مختلف ہیں، اس کے متعلق مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مولانا فراہی سے لے کر غامدی صاحب تک اگر کوئی ارتقاء ہوا تو صرف دو دواں ہو جاتا ہے بلکہ جو اطلاقات غامدی صاحب نے اس فکر پر اپنے اضافے کی روشنی میں کیے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے۔

دوسرے باب کا زیادہ تر حصہ تفسیری اصولوں سے متعلق ہے، جس میں مولانا فراہی کے تفسیری اصولوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اسی طرح ان اصولوں کا جائزہ، ان کے اطلاقات کی صورت مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی تفاسیر میں سے منتخب مثالوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرآن بالقرآن میں لفظ کی معنی پر دلالت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ جو کہ مدرسہ فراہی کے ہاں کم یاب ہے، اس کو متشکل مثالوں کے ذریعے آشکار کیا گیا ہے۔ اور اس میں عنوانات کا قیام اصل مثالوں کو جمع کرنے سے متعلق ہے نہ کہ ہر مثال میں اس کے قائم کردہ عنوان کو کوئی اصل قرار دینے سے متعلق۔

اسی طرح کتاب میں مختلف مناہج اصولِ مدرسہ فراہی کے تقابل زیر بحث لانے کے لیے کچھ اصل متن میں لیکن تفصیلی حواشی میں، اسی طرح مکتبِ غامدی سے وابستہ دیگر صاحبِ علم کی آراء کو بھی ان حواشی میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں اصولِ دین (علمِ کلام) سے متعلق کچھ مباحث بھی ایک دو حواشی میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اگر کتاب کا اصل متن اہم ہے تو اس کے حواشی اہم تر ہیں۔

ویسے تو بیشتر ناقدینِ غامدی اور ان تین بزرگوں کے افکار پر ایک جامع جائزہ اور اس کی افادیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن خاص اس کتاب کے لکھنے کی وجہ کچھ تشنگی گوشوں کی تکمیل، کچھ نئے دلائل اور براہین کی تقریر اور ساتھ ہی مکتبِ فراہی کے اصولوں کا غیر محکم اور غیر معتبر ہونا عقلاً و نقلاً واضح کرنا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…