غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

Published On March 27, 2026
کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

جہانگیر حنیف

مارٹن لوتھر کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس نے اصلاحِ مذہب کی زبردست تحریک چلائی، جس کے نتیجہ میں عیسائیت میں ایک نئے فرقہ نے جنم لیا اور پھر کئی دوسری ذیلی شاخیں وجود میں آئیں اور آج تک وجود پذیر ہو رہی ہیں۔ مارٹن لوتھر نے اصلاحِ مذہب کے غرض سے بائبل کے متن کا سہارا لیا۔ وہ متن پر جیسے جم کر بیٹھ گیا۔ اس نے Sola Scriptura کا نعرہ لگایا۔ یعنی by the scripture alone. سولا اسکرپٹورا کے دو معانی تھے۔ پہلا یہ کہ بائبل کے متن کو بائبل کے متن ہی سے سمجھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ بائبل سے خارج کسی بھی اتھارٹی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ گویا ایک ہی سکہ کے دو رخ تھے۔ بائبل کی بائبل سے تفھیم کے معانی ہی یہ ہیں کہ بائبل کے علاوہ ہر کسی ماخذ کا انکار کیا جائے گا۔ یعنی ایجاب میں بھی انکار ہے اور سلب کا انکار تو پہلے سے واضح ہے۔ سولا اسکرپٹورا کا فارمولہ اس لحاظ سے جامع و مانع تھا۔
لوتھر اس موقف پر کھڑا ہوگیا کہ بائبل کو بائبل ہی سے سمجھا جائے، جسے ہم یوں بھی ادا کرسکتے ہیں: تفسیر البائبل بالبائبل۔ اس نے کہا کہ بائبل کا متن اپنے معانی کی ادائیگی میں خود مکتفی ہے۔ جو معانی ہمیں بائبل سے سمجھ آتے ہیں، وہ حجت ہیں۔ باقی سب کچھ اس کے ماتحت ہے۔ گویا بائبل آج کے متجددین کی زبان میں میزان و فرقان ہے۔ ہر چیز کو بائبل کی میزان پر تولا جائے گا۔ جسے بائبل کا متن قبول کرلے گا، اسے حق اور دین کی حیثیت میں مان لیا جائے گا اور جو چیز بائبل کی میزان پر پوری نہیں اُترتی، اُسے رد کر دیا جائے گا۔ یوں لوتھر نے مذہب کی اصلاح کا راستہ ہموار کیا۔
لوتھر سے پہلے دین کے دو منابع تسلیم کیے جاتے تھے۔ عیسائیت کو ایک الہامی مذہب مانا جاتا تھا۔ یہ الہام دو طرح سے منکشف ہوا تھا۔ ایک خدا کے کلام کی صورت میں اور دوسرا روایت کے تسلسل میں۔ یہ دونوں مآخذ مل کر عیسائیت کی مجموعی صورت مکمل کرتے تھے۔ لوتھر نے کلیسا کی بالخصوص اور روایت کی بالعموم حجیت پر سوالات قائم کردیے۔ اُس نے کہا خدا کا کلام قطعی اور یقینی ہے۔ روایت ظنی ہے۔ ظن سے اُس کی مراد خطا کا امکان تھا۔ خدا کے کلام میں خطا کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہر طرح سے محفوظ اور یقینی ہے۔ خدا کی super intendedness نے بائبل میں خدا کے پیغام کو محفوظ رکھا ہے۔ بھلے یہ انسانوں کی ہاتھوں سے لکھی گئی تحریر ہو، یہ کلام خدا کا یے۔ انسانی زبان میں ہونے کے باوجود اِس کلام میں الوہی صفات پائی جاتی ہے۔ اِس کی کُلیت میں خدا کا پیغام محفوظ و مامون ہے۔ لہذا یہ قطعی اور یقینی ہے۔ روایت اس کے برعکس act of man ہے۔ لہذا word of God کو act of man سے خلط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خدا کا کلام امکانِ خطا سے پاک ہے اور انسانی علم و عمل غلطیوں سے پاک نہیں۔ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ قطعی اور یقینی ہو، لہذا دین کو بائبل سے اخذ کیا جائے گا۔ روایت کو اس حد تک قبول کیا جائے گا، جہاں تک وہ بائبل کی موافقت میں ہے۔ جہاں روایت بائبل سے ٹکراتی ہو، اُسے ترک کر دیا جائے گا۔ لہذا لوتھر نے کہا کہ دنیا و آخرت کی فلاح خدا کے کلام پر منحصر ہے۔ خدا کا کلام بائبل میں مرقوم ہے۔ یہ قطعی اور یقینی کلام ہے۔ اس کلام کو سمجھنے میں خارج سے کسی مدد و استعانت کی ضرورت نہیں۔ لفظوں سے خدا کا جو منشاء معلوم ہوتا ہے، وہی رب کا حکم ہے۔ باقی سب کچھ غیر ضروری بلکہ مردود ہے۔
اس دراز نفسی سے مقصود متجددین کی حالتِ زار پر ماتم ہے۔ اِن سطور میں جہاں جہاں لوتھر لکھا ہے، وہاں آپ ’غامدی صاحب‘ لکھ دیں اور ان کے ارشادات گرامی کو میزان سے اقتباس کرلیں، یعنی جو اُنھوں نے الفاظ کی دلالت کے مبحث میں رقم کیا ہے اور قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کے تحت لکھا ہے۔ آپ کو واضح مماثلتیں دکھائی دیں گی۔ غامدی صاحب نے دین کی قبولیت اور عدم قبولیت میں قطعیت کو معیار بنایا۔ [١] اُن کے معیارِ قطعیت اور جس طرح لوتھر نے بائبل کے حق میں قطعیت کا استدلال کیا ہے، کوئی خاص امتیاز نہیں پایا جاتا۔ یہ لوگ الفاظ کی ان کے معانی پر قطعی دلالت کے قائل ہیں اور وہ مجموعہ صحائف میں خدا کے پیغام کے قطعی ہونے کا بیانیہ رکھتا تھا۔ البتہ یہ امتیاز ضرور پایا جاتا ہے کہ ہمارے متجددین نے قطعیت کے حصول میں ہر اس چیز کا انکار کیا ہے، جس پر ظنیت کا شائبہ بھی اُنھیں نظر آیا۔ جب کہ لوتھر نے ظنی الثبوت متن کو بھی خدا کی حفاظت کے تحت قطعیت کا حامل قرار دے دیا۔ ہمارے متجددین نے احادیث مبارکہ کا انکار کیا۔ انھوں نے قرآن مجید کی قراءتوں کا انکار کیا۔ لوتھر نے بائبل کے کچھ صحائف کو غیر مستند قرار دیا۔ بائبل کے متن کا وہ حصہ جو لوتھر کے نظریات کے خلاف تھا، اُس نے اِس کا بھی انکار کیا اور الوہی متن سے خارج کر دیا۔
آئیں دیکھیں، غامدی صاحب کیا فرماتے ہیں:
”پہلی یہ کہ قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔“
میزان، ص 25
مزید فرماتے ہیں:
”دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے ۔۔۔اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اِس سے مختلف ہے نہ متبائن۔“
میزان، ص 25
غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کا لازمی نتیجہ ہے۔ یعنی یہ کہ قرآن سے باہر کسی چیز کو قرآن مجید کی تفھیم میں حجت تسلیم نہ کیا جائے۔ قرآن مجید سے باہر وحی جلی کے کیا معنی ہیں، یہ سمجھ سے باہر کی چیز ہے۔ قرآن مجید خود وحی جلی ہے۔ پھر قرآن سے باہر وحی کیسے وحی جلی ہو سکتی ہے۔ اِس سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ ذکر غامدی صاحب کی یہ بات ہے کہ پیغمبر ﷺ بھی اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے۔ اذعان کی یہ کیفیت دیدنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت قرآن مجید کے احکامات کو تحدید و تخصیص سے بڑھ کر پوری ہیئت دے دیتی ہے۔ وہ سنت ساری کی ساری قرآن مجید سے باہر ہے۔ لیکن اِس سے نچلے درجے کے امور یعنی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتی۔ نماز، روزہ اور حج زکاۃ وغیرہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کی تعیین کرتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ سنتِ ابراہیمی کا تسلسل ہے یا آپ ﷺ نے اِن سنن کا آغاز و اعادہ فرمایا اور اِن میں ترمیم و اضافہ کیا۔ جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کو متعین کرتی ہیں۔ خود قرآن مجید کے الفاظ سے ان کی ہیئت و کیفیت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ یہ کلِ حکم کی تشکیل ہے۔
پھر جیسے عیدین کی نمازیں ہیں، جن کے بیان سے قرآن مجید یکسر خالی ہے۔ رمضان کا ذکر موجود ہے۔ لیکن عید الفطر کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ آپ ﷺ بطور شارع اس کا اجراء فرماتے ہیں۔ جو ہستی مستقل شریعت کا ماخذ ہو، اُس کے بارے میں تحدید و تخصیص کے مانع ہونے کی بات کیسے کہی جا سکتی ہے۔ کلِ حکم کی تشکیل اور نئے حکم کا اجراء کرنے والی ہستی کے بارے میں جزوی ترمیمات جیسے تحدید و تخصیص کے اختیار کی نفی کیسے کی جاسکتی ہے۔ ان سنن کو غامدی صاحب بھی مانتے ہیں۔ لیکن اُن کے اصلاح و تجدد کے عزائم انھیں روکتے ہیں کہ وہ اِن کے لوازم کا اقرار کریں۔ پھر تحدید و تخصیص محض ایک پہلو ہے، اِس کے دوسری طرف تعمیم ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے: کیا تعمیم و توسیع ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی اثبات میں ہے۔ احادیث مبارکہ سے قرآن مجید کے احکامات میں توسیع ممکن ہے۔ خود غامدی صاحب اسے ’بیان‘ کے تحت قبول کرتے ہیں۔ غامدی صاحب نے خالہ و بھانجی اور پھوپھی و بھتیجی کے ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بربنائے حدیث قبول کیا ہے۔ لہذا یہ مقدمہ قرآن مجید کے احکام میں تحدید و تخصیص پیغمبر ﷺ کے اختیار سے باہر ہے۔ درست نہیں ہوسکتا۔
افسوس یہ ہے کہ غامدی صاحب بطور خاص پیغمبر ﷺ کے اختیار کی نفی کرتے ہیں۔
لوتھر نے روایت کی اتھارٹی کا انکار کیا، غامدی صاحب نے پیغمبرِ اسلام ﷺ ہی کی اتھارٹی کا انکار کردیا۔ پیغمبر وحی میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔ غامدی صاحب نے اس مسلمہ کو خدائی منشاء کے ابلاغ میں پیغمبر ﷺ کے کردار ہی کو محدود کرنے میں صرف کردیا۔ بالفاظِ دیگر، یہ قدغن خدائے بزرگ و برتر پر عائد کردی کہ جو حکم قرآن مجید میں نازل ہوا ہے، ویسا ہی دوسرا حکم لاؤ، پھر ہم قبول کریں گے۔ اگر پیغمبر کی زبان سے کوئی تحدید و تخصیص پیش فرمائی، تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہذا یہ قدغن پیغمبر ﷺ سے بڑھ کر پیغمبر کو مبعوث کرنے والی ہستی پر لاگو کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١] غامدی صاحب میزان میں لکھتے ہیں: اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔
میزان، ص 15

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…