غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

Published On March 27, 2026
غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ بقرۃ پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل کچھ عرصہ قبل ایک تحریر میں متعدد مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ اصولیین جسے نسخ، تقیید و تخصیص (اصطلاحاً بیان تبدیل و تغییر) کہتے ہیں، قرآن کے محاورے میں وہ سب “بیان” ہی کہلاتا ہے اور اس حوالے سے محترم مولانا اصلاحی صاحب اور محترم جاوید احمد...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے اپنی دینی فکر میں بہت ساری باتیں، خود سے وضع کی ہیں۔ ان کے تصورات درحقیقت مقدمات ہیں، جن سے اپنے من پسند نتائج تک وہ رسائی چاہتے ہیں۔ "قیامِ شھادت" کا تصور درحقیقت ایک اور تصور کی بنیاد ہے۔ اسی طرح نبوت و رسالت کے فرق کا مقدمہ بھی ایک اور...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط سوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب نے بعض دینی تصورات خود سے وضع کئے ہیں یا پھر ان کی تعریف ایسی کی ہے جو خانہ زاد ہے۔ ان تصورات میں "نبوت" اور "رسالت" سب سے نمایاں ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء و رسل دونوں کا فارسی متبادل "پیغمبر" ہے۔ نبی بھی پیغمبر ہے اور رسول بھی پیغمبر ہے۔ مگر...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی کے تصور "سنت" کے متعلق غلط فہمی  پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے اور نہ غلط بیانی ہمارے مقصد کو باریاب کر سکتی ہے۔ اگر غامدی صاحب کے پیش نظر "سنت" منزل من اللہ اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال آنجناب علیہ السلام پر اسی طرح وحی ہوئے ہیں جیسے قرآن مجید ہوا ہے...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط چہارم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط اول)

ڈاکٹر خضر یسین یہ خالصتا علمی انتقادی معروضات ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنی تحریر و تقریر میں جو بیان کیا ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کے موقف کو بیان کرنے میں یا سمجھنے میں غلطی ممکن ہے۔ غامدی صاحب کے متبعین سے توقع کرتا ہوں،...

جناب جاوید احمد غامدی کی  دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

جناب جاوید احمد غامدی کی دینی سیاسی فکرکا ارتقائی جائزہ

 ڈاکٹر سید متین احمد شاہ بیسویں صدی میں مسلم دنیا کی سیاسی بالادستی کے اختتام اور نوآبادیاتی نظام کی تشکیل کے بعد جہاں ہماری سیاسی اور مغرب کے ساتھ تعامل کی پالیسیوں پر عملی فرق پڑا ، وہاں ہماری دینی فکر میں بھی دور رس تبدیلیاں آئیں۔دینی سیاسی فکر میں سب سے بڑی تبدیلی...

جہانگیر حنیف

مارٹن لوتھر کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس نے اصلاحِ مذہب کی زبردست تحریک چلائی، جس کے نتیجہ میں عیسائیت میں ایک نئے فرقہ نے جنم لیا اور پھر کئی دوسری ذیلی شاخیں وجود میں آئیں اور آج تک وجود پذیر ہو رہی ہیں۔ مارٹن لوتھر نے اصلاحِ مذہب کے غرض سے بائبل کے متن کا سہارا لیا۔ وہ متن پر جیسے جم کر بیٹھ گیا۔ اس نے Sola Scriptura کا نعرہ لگایا۔ یعنی by the scripture alone. سولا اسکرپٹورا کے دو معانی تھے۔ پہلا یہ کہ بائبل کے متن کو بائبل کے متن ہی سے سمجھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ بائبل سے خارج کسی بھی اتھارٹی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ گویا ایک ہی سکہ کے دو رخ تھے۔ بائبل کی بائبل سے تفھیم کے معانی ہی یہ ہیں کہ بائبل کے علاوہ ہر کسی ماخذ کا انکار کیا جائے گا۔ یعنی ایجاب میں بھی انکار ہے اور سلب کا انکار تو پہلے سے واضح ہے۔ سولا اسکرپٹورا کا فارمولہ اس لحاظ سے جامع و مانع تھا۔
لوتھر اس موقف پر کھڑا ہوگیا کہ بائبل کو بائبل ہی سے سمجھا جائے، جسے ہم یوں بھی ادا کرسکتے ہیں: تفسیر البائبل بالبائبل۔ اس نے کہا کہ بائبل کا متن اپنے معانی کی ادائیگی میں خود مکتفی ہے۔ جو معانی ہمیں بائبل سے سمجھ آتے ہیں، وہ حجت ہیں۔ باقی سب کچھ اس کے ماتحت ہے۔ گویا بائبل آج کے متجددین کی زبان میں میزان و فرقان ہے۔ ہر چیز کو بائبل کی میزان پر تولا جائے گا۔ جسے بائبل کا متن قبول کرلے گا، اسے حق اور دین کی حیثیت میں مان لیا جائے گا اور جو چیز بائبل کی میزان پر پوری نہیں اُترتی، اُسے رد کر دیا جائے گا۔ یوں لوتھر نے مذہب کی اصلاح کا راستہ ہموار کیا۔
لوتھر سے پہلے دین کے دو منابع تسلیم کیے جاتے تھے۔ عیسائیت کو ایک الہامی مذہب مانا جاتا تھا۔ یہ الہام دو طرح سے منکشف ہوا تھا۔ ایک خدا کے کلام کی صورت میں اور دوسرا روایت کے تسلسل میں۔ یہ دونوں مآخذ مل کر عیسائیت کی مجموعی صورت مکمل کرتے تھے۔ لوتھر نے کلیسا کی بالخصوص اور روایت کی بالعموم حجیت پر سوالات قائم کردیے۔ اُس نے کہا خدا کا کلام قطعی اور یقینی ہے۔ روایت ظنی ہے۔ ظن سے اُس کی مراد خطا کا امکان تھا۔ خدا کے کلام میں خطا کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہر طرح سے محفوظ اور یقینی ہے۔ خدا کی super intendedness نے بائبل میں خدا کے پیغام کو محفوظ رکھا ہے۔ بھلے یہ انسانوں کی ہاتھوں سے لکھی گئی تحریر ہو، یہ کلام خدا کا یے۔ انسانی زبان میں ہونے کے باوجود اِس کلام میں الوہی صفات پائی جاتی ہے۔ اِس کی کُلیت میں خدا کا پیغام محفوظ و مامون ہے۔ لہذا یہ قطعی اور یقینی ہے۔ روایت اس کے برعکس act of man ہے۔ لہذا word of God کو act of man سے خلط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خدا کا کلام امکانِ خطا سے پاک ہے اور انسانی علم و عمل غلطیوں سے پاک نہیں۔ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ قطعی اور یقینی ہو، لہذا دین کو بائبل سے اخذ کیا جائے گا۔ روایت کو اس حد تک قبول کیا جائے گا، جہاں تک وہ بائبل کی موافقت میں ہے۔ جہاں روایت بائبل سے ٹکراتی ہو، اُسے ترک کر دیا جائے گا۔ لہذا لوتھر نے کہا کہ دنیا و آخرت کی فلاح خدا کے کلام پر منحصر ہے۔ خدا کا کلام بائبل میں مرقوم ہے۔ یہ قطعی اور یقینی کلام ہے۔ اس کلام کو سمجھنے میں خارج سے کسی مدد و استعانت کی ضرورت نہیں۔ لفظوں سے خدا کا جو منشاء معلوم ہوتا ہے، وہی رب کا حکم ہے۔ باقی سب کچھ غیر ضروری بلکہ مردود ہے۔
اس دراز نفسی سے مقصود متجددین کی حالتِ زار پر ماتم ہے۔ اِن سطور میں جہاں جہاں لوتھر لکھا ہے، وہاں آپ ’غامدی صاحب‘ لکھ دیں اور ان کے ارشادات گرامی کو میزان سے اقتباس کرلیں، یعنی جو اُنھوں نے الفاظ کی دلالت کے مبحث میں رقم کیا ہے اور قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کے تحت لکھا ہے۔ آپ کو واضح مماثلتیں دکھائی دیں گی۔ غامدی صاحب نے دین کی قبولیت اور عدم قبولیت میں قطعیت کو معیار بنایا۔ [١] اُن کے معیارِ قطعیت اور جس طرح لوتھر نے بائبل کے حق میں قطعیت کا استدلال کیا ہے، کوئی خاص امتیاز نہیں پایا جاتا۔ یہ لوگ الفاظ کی ان کے معانی پر قطعی دلالت کے قائل ہیں اور وہ مجموعہ صحائف میں خدا کے پیغام کے قطعی ہونے کا بیانیہ رکھتا تھا۔ البتہ یہ امتیاز ضرور پایا جاتا ہے کہ ہمارے متجددین نے قطعیت کے حصول میں ہر اس چیز کا انکار کیا ہے، جس پر ظنیت کا شائبہ بھی اُنھیں نظر آیا۔ جب کہ لوتھر نے ظنی الثبوت متن کو بھی خدا کی حفاظت کے تحت قطعیت کا حامل قرار دے دیا۔ ہمارے متجددین نے احادیث مبارکہ کا انکار کیا۔ انھوں نے قرآن مجید کی قراءتوں کا انکار کیا۔ لوتھر نے بائبل کے کچھ صحائف کو غیر مستند قرار دیا۔ بائبل کے متن کا وہ حصہ جو لوتھر کے نظریات کے خلاف تھا، اُس نے اِس کا بھی انکار کیا اور الوہی متن سے خارج کر دیا۔
آئیں دیکھیں، غامدی صاحب کیا فرماتے ہیں:
”پہلی یہ کہ قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔“
میزان، ص 25
مزید فرماتے ہیں:
”دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے ۔۔۔اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اِس سے مختلف ہے نہ متبائن۔“
میزان، ص 25
غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کا لازمی نتیجہ ہے۔ یعنی یہ کہ قرآن سے باہر کسی چیز کو قرآن مجید کی تفھیم میں حجت تسلیم نہ کیا جائے۔ قرآن مجید سے باہر وحی جلی کے کیا معنی ہیں، یہ سمجھ سے باہر کی چیز ہے۔ قرآن مجید خود وحی جلی ہے۔ پھر قرآن سے باہر وحی کیسے وحی جلی ہو سکتی ہے۔ اِس سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ ذکر غامدی صاحب کی یہ بات ہے کہ پیغمبر ﷺ بھی اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے۔ اذعان کی یہ کیفیت دیدنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت قرآن مجید کے احکامات کو تحدید و تخصیص سے بڑھ کر پوری ہیئت دے دیتی ہے۔ وہ سنت ساری کی ساری قرآن مجید سے باہر ہے۔ لیکن اِس سے نچلے درجے کے امور یعنی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتی۔ نماز، روزہ اور حج زکاۃ وغیرہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کی تعیین کرتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ سنتِ ابراہیمی کا تسلسل ہے یا آپ ﷺ نے اِن سنن کا آغاز و اعادہ فرمایا اور اِن میں ترمیم و اضافہ کیا۔ جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کو متعین کرتی ہیں۔ خود قرآن مجید کے الفاظ سے ان کی ہیئت و کیفیت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ یہ کلِ حکم کی تشکیل ہے۔
پھر جیسے عیدین کی نمازیں ہیں، جن کے بیان سے قرآن مجید یکسر خالی ہے۔ رمضان کا ذکر موجود ہے۔ لیکن عید الفطر کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ آپ ﷺ بطور شارع اس کا اجراء فرماتے ہیں۔ جو ہستی مستقل شریعت کا ماخذ ہو، اُس کے بارے میں تحدید و تخصیص کے مانع ہونے کی بات کیسے کہی جا سکتی ہے۔ کلِ حکم کی تشکیل اور نئے حکم کا اجراء کرنے والی ہستی کے بارے میں جزوی ترمیمات جیسے تحدید و تخصیص کے اختیار کی نفی کیسے کی جاسکتی ہے۔ ان سنن کو غامدی صاحب بھی مانتے ہیں۔ لیکن اُن کے اصلاح و تجدد کے عزائم انھیں روکتے ہیں کہ وہ اِن کے لوازم کا اقرار کریں۔ پھر تحدید و تخصیص محض ایک پہلو ہے، اِس کے دوسری طرف تعمیم ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے: کیا تعمیم و توسیع ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی اثبات میں ہے۔ احادیث مبارکہ سے قرآن مجید کے احکامات میں توسیع ممکن ہے۔ خود غامدی صاحب اسے ’بیان‘ کے تحت قبول کرتے ہیں۔ غامدی صاحب نے خالہ و بھانجی اور پھوپھی و بھتیجی کے ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بربنائے حدیث قبول کیا ہے۔ لہذا یہ مقدمہ قرآن مجید کے احکام میں تحدید و تخصیص پیغمبر ﷺ کے اختیار سے باہر ہے۔ درست نہیں ہوسکتا۔
افسوس یہ ہے کہ غامدی صاحب بطور خاص پیغمبر ﷺ کے اختیار کی نفی کرتے ہیں۔
لوتھر نے روایت کی اتھارٹی کا انکار کیا، غامدی صاحب نے پیغمبرِ اسلام ﷺ ہی کی اتھارٹی کا انکار کردیا۔ پیغمبر وحی میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔ غامدی صاحب نے اس مسلمہ کو خدائی منشاء کے ابلاغ میں پیغمبر ﷺ کے کردار ہی کو محدود کرنے میں صرف کردیا۔ بالفاظِ دیگر، یہ قدغن خدائے بزرگ و برتر پر عائد کردی کہ جو حکم قرآن مجید میں نازل ہوا ہے، ویسا ہی دوسرا حکم لاؤ، پھر ہم قبول کریں گے۔ اگر پیغمبر کی زبان سے کوئی تحدید و تخصیص پیش فرمائی، تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہذا یہ قدغن پیغمبر ﷺ سے بڑھ کر پیغمبر کو مبعوث کرنے والی ہستی پر لاگو کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١] غامدی صاحب میزان میں لکھتے ہیں: اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔
میزان، ص 15

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…