غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

Published On March 27, 2026
فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب کے شاگرد محترم ساجد حمید صاحب نے کسی قدر طنز سے کام لیتے ہوئے اصولیین کے اس تصور پر تنقید کی ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت ظنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بگاڑ کی اصل وجہ امام شافعی ہی سے شروع ہوجاتی ہے جس میں اصولیین، فلاسفہ و صوفیا نے بقدر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

مولانا واصل واسطی ہم نے یہ بات اپنی مختلف پوسٹوں میں صراحت سے بیان کی ہے ، کہ جناب جاوید غامدی، غلام احمدپرویز کی طرح  بالکل منکرِحدیث ہیں ۔البتہ ان کا یہ فلسفہ پیچ درپیچ ہے ، وہ اس لیے کہ انھوں نے پرویز وغیرہ کا انجام دیکھ لیا ہے ، اب اس برے انجام سے وہ بچنا چاھتے...

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل جناب ساجد حمید صاحب نے اپنی تحریر “قرآن کیوں قطعی الدلالۃ نہیں؟”میں فرمایا ہے کہ امت میں یہ نظریہ امام شافعی اور ان سے متاثر دیگر اصولیین کی آرا کی وجہ سے راہ پا گیا ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت قطعی نہیں۔ آپ نے امام شافعی کی کتاب الرسالۃ سے یہ تاثر دینے...

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل اہل علم متکلمین و اصولیین کے ہاں “قانون کلی ” کی بحث سے واقف ہیں۔ اس بحث کو لے کر شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے امام غزالی رحمہ اللہ کو ضمناً  جبکہ امام رازی  رحمہ اللہ  کو بالخصوص  شد و مد سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امام رازی پر اعتراض یہ ہے کہ ان کے...

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

خضر یسین ہر بامعنی لفظ، ایک اسم ہوتا ہے۔ جس کا مسمی ذہن میں ہو تو معنی یا موضوع اور خارج میں ہو تو مدلول یا معروض کہلاتا ہے۔ لفظ کے بغیر ذہن میں تصور تشکیل نہیں پا سکتا ہے اور نہ تفہیم و تفکر کا عمل ممکن ہو سکتا ہے۔ الفاظ کا مجموعہ کلام نہیں ہوتا، بامعنی الفاظ کی...

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

جہانگیر حنیف نظمِ قرآن، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت کا نظریہ ایک ہی پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ وہ پراجیکٹ قرآن مجید کے متن کو ایک نئی ہرمیونیٹکس دینا ہے۔ یہ خیال اس احساس سے پیدا ہوا کہ روایتی اور مروج و متداول اصولِ تفسیر قرآن مجید میں اپنی بنیاد نہیں رکھتے۔ ان کا اطلاق قرآن...

جہانگیر حنیف

مارٹن لوتھر کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس نے اصلاحِ مذہب کی زبردست تحریک چلائی، جس کے نتیجہ میں عیسائیت میں ایک نئے فرقہ نے جنم لیا اور پھر کئی دوسری ذیلی شاخیں وجود میں آئیں اور آج تک وجود پذیر ہو رہی ہیں۔ مارٹن لوتھر نے اصلاحِ مذہب کے غرض سے بائبل کے متن کا سہارا لیا۔ وہ متن پر جیسے جم کر بیٹھ گیا۔ اس نے Sola Scriptura کا نعرہ لگایا۔ یعنی by the scripture alone. سولا اسکرپٹورا کے دو معانی تھے۔ پہلا یہ کہ بائبل کے متن کو بائبل کے متن ہی سے سمجھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ بائبل سے خارج کسی بھی اتھارٹی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ گویا ایک ہی سکہ کے دو رخ تھے۔ بائبل کی بائبل سے تفھیم کے معانی ہی یہ ہیں کہ بائبل کے علاوہ ہر کسی ماخذ کا انکار کیا جائے گا۔ یعنی ایجاب میں بھی انکار ہے اور سلب کا انکار تو پہلے سے واضح ہے۔ سولا اسکرپٹورا کا فارمولہ اس لحاظ سے جامع و مانع تھا۔
لوتھر اس موقف پر کھڑا ہوگیا کہ بائبل کو بائبل ہی سے سمجھا جائے، جسے ہم یوں بھی ادا کرسکتے ہیں: تفسیر البائبل بالبائبل۔ اس نے کہا کہ بائبل کا متن اپنے معانی کی ادائیگی میں خود مکتفی ہے۔ جو معانی ہمیں بائبل سے سمجھ آتے ہیں، وہ حجت ہیں۔ باقی سب کچھ اس کے ماتحت ہے۔ گویا بائبل آج کے متجددین کی زبان میں میزان و فرقان ہے۔ ہر چیز کو بائبل کی میزان پر تولا جائے گا۔ جسے بائبل کا متن قبول کرلے گا، اسے حق اور دین کی حیثیت میں مان لیا جائے گا اور جو چیز بائبل کی میزان پر پوری نہیں اُترتی، اُسے رد کر دیا جائے گا۔ یوں لوتھر نے مذہب کی اصلاح کا راستہ ہموار کیا۔
لوتھر سے پہلے دین کے دو منابع تسلیم کیے جاتے تھے۔ عیسائیت کو ایک الہامی مذہب مانا جاتا تھا۔ یہ الہام دو طرح سے منکشف ہوا تھا۔ ایک خدا کے کلام کی صورت میں اور دوسرا روایت کے تسلسل میں۔ یہ دونوں مآخذ مل کر عیسائیت کی مجموعی صورت مکمل کرتے تھے۔ لوتھر نے کلیسا کی بالخصوص اور روایت کی بالعموم حجیت پر سوالات قائم کردیے۔ اُس نے کہا خدا کا کلام قطعی اور یقینی ہے۔ روایت ظنی ہے۔ ظن سے اُس کی مراد خطا کا امکان تھا۔ خدا کے کلام میں خطا کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہر طرح سے محفوظ اور یقینی ہے۔ خدا کی super intendedness نے بائبل میں خدا کے پیغام کو محفوظ رکھا ہے۔ بھلے یہ انسانوں کی ہاتھوں سے لکھی گئی تحریر ہو، یہ کلام خدا کا یے۔ انسانی زبان میں ہونے کے باوجود اِس کلام میں الوہی صفات پائی جاتی ہے۔ اِس کی کُلیت میں خدا کا پیغام محفوظ و مامون ہے۔ لہذا یہ قطعی اور یقینی ہے۔ روایت اس کے برعکس act of man ہے۔ لہذا word of God کو act of man سے خلط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خدا کا کلام امکانِ خطا سے پاک ہے اور انسانی علم و عمل غلطیوں سے پاک نہیں۔ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ قطعی اور یقینی ہو، لہذا دین کو بائبل سے اخذ کیا جائے گا۔ روایت کو اس حد تک قبول کیا جائے گا، جہاں تک وہ بائبل کی موافقت میں ہے۔ جہاں روایت بائبل سے ٹکراتی ہو، اُسے ترک کر دیا جائے گا۔ لہذا لوتھر نے کہا کہ دنیا و آخرت کی فلاح خدا کے کلام پر منحصر ہے۔ خدا کا کلام بائبل میں مرقوم ہے۔ یہ قطعی اور یقینی کلام ہے۔ اس کلام کو سمجھنے میں خارج سے کسی مدد و استعانت کی ضرورت نہیں۔ لفظوں سے خدا کا جو منشاء معلوم ہوتا ہے، وہی رب کا حکم ہے۔ باقی سب کچھ غیر ضروری بلکہ مردود ہے۔
اس دراز نفسی سے مقصود متجددین کی حالتِ زار پر ماتم ہے۔ اِن سطور میں جہاں جہاں لوتھر لکھا ہے، وہاں آپ ’غامدی صاحب‘ لکھ دیں اور ان کے ارشادات گرامی کو میزان سے اقتباس کرلیں، یعنی جو اُنھوں نے الفاظ کی دلالت کے مبحث میں رقم کیا ہے اور قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کے تحت لکھا ہے۔ آپ کو واضح مماثلتیں دکھائی دیں گی۔ غامدی صاحب نے دین کی قبولیت اور عدم قبولیت میں قطعیت کو معیار بنایا۔ [١] اُن کے معیارِ قطعیت اور جس طرح لوتھر نے بائبل کے حق میں قطعیت کا استدلال کیا ہے، کوئی خاص امتیاز نہیں پایا جاتا۔ یہ لوگ الفاظ کی ان کے معانی پر قطعی دلالت کے قائل ہیں اور وہ مجموعہ صحائف میں خدا کے پیغام کے قطعی ہونے کا بیانیہ رکھتا تھا۔ البتہ یہ امتیاز ضرور پایا جاتا ہے کہ ہمارے متجددین نے قطعیت کے حصول میں ہر اس چیز کا انکار کیا ہے، جس پر ظنیت کا شائبہ بھی اُنھیں نظر آیا۔ جب کہ لوتھر نے ظنی الثبوت متن کو بھی خدا کی حفاظت کے تحت قطعیت کا حامل قرار دے دیا۔ ہمارے متجددین نے احادیث مبارکہ کا انکار کیا۔ انھوں نے قرآن مجید کی قراءتوں کا انکار کیا۔ لوتھر نے بائبل کے کچھ صحائف کو غیر مستند قرار دیا۔ بائبل کے متن کا وہ حصہ جو لوتھر کے نظریات کے خلاف تھا، اُس نے اِس کا بھی انکار کیا اور الوہی متن سے خارج کر دیا۔
آئیں دیکھیں، غامدی صاحب کیا فرماتے ہیں:
”پہلی یہ کہ قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔“
میزان، ص 25
مزید فرماتے ہیں:
”دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے ۔۔۔اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اِس سے مختلف ہے نہ متبائن۔“
میزان، ص 25
غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات قرآن مجید کے میزان و فرقان ہونے کا لازمی نتیجہ ہے۔ یعنی یہ کہ قرآن سے باہر کسی چیز کو قرآن مجید کی تفھیم میں حجت تسلیم نہ کیا جائے۔ قرآن مجید سے باہر وحی جلی کے کیا معنی ہیں، یہ سمجھ سے باہر کی چیز ہے۔ قرآن مجید خود وحی جلی ہے۔ پھر قرآن سے باہر وحی کیسے وحی جلی ہو سکتی ہے۔ اِس سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ ذکر غامدی صاحب کی یہ بات ہے کہ پیغمبر ﷺ بھی اِس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے۔ اذعان کی یہ کیفیت دیدنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت قرآن مجید کے احکامات کو تحدید و تخصیص سے بڑھ کر پوری ہیئت دے دیتی ہے۔ وہ سنت ساری کی ساری قرآن مجید سے باہر ہے۔ لیکن اِس سے نچلے درجے کے امور یعنی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتی۔ نماز، روزہ اور حج زکاۃ وغیرہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کی تعیین کرتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ سنتِ ابراہیمی کا تسلسل ہے یا آپ ﷺ نے اِن سنن کا آغاز و اعادہ فرمایا اور اِن میں ترمیم و اضافہ کیا۔ جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کے باہر سے قرآن مجید کے احکامات کو متعین کرتی ہیں۔ خود قرآن مجید کے الفاظ سے ان کی ہیئت و کیفیت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ یہ کلِ حکم کی تشکیل ہے۔
پھر جیسے عیدین کی نمازیں ہیں، جن کے بیان سے قرآن مجید یکسر خالی ہے۔ رمضان کا ذکر موجود ہے۔ لیکن عید الفطر کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ آپ ﷺ بطور شارع اس کا اجراء فرماتے ہیں۔ جو ہستی مستقل شریعت کا ماخذ ہو، اُس کے بارے میں تحدید و تخصیص کے مانع ہونے کی بات کیسے کہی جا سکتی ہے۔ کلِ حکم کی تشکیل اور نئے حکم کا اجراء کرنے والی ہستی کے بارے میں جزوی ترمیمات جیسے تحدید و تخصیص کے اختیار کی نفی کیسے کی جاسکتی ہے۔ ان سنن کو غامدی صاحب بھی مانتے ہیں۔ لیکن اُن کے اصلاح و تجدد کے عزائم انھیں روکتے ہیں کہ وہ اِن کے لوازم کا اقرار کریں۔ پھر تحدید و تخصیص محض ایک پہلو ہے، اِس کے دوسری طرف تعمیم ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے: کیا تعمیم و توسیع ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی اثبات میں ہے۔ احادیث مبارکہ سے قرآن مجید کے احکامات میں توسیع ممکن ہے۔ خود غامدی صاحب اسے ’بیان‘ کے تحت قبول کرتے ہیں۔ غامدی صاحب نے خالہ و بھانجی اور پھوپھی و بھتیجی کے ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بربنائے حدیث قبول کیا ہے۔ لہذا یہ مقدمہ قرآن مجید کے احکام میں تحدید و تخصیص پیغمبر ﷺ کے اختیار سے باہر ہے۔ درست نہیں ہوسکتا۔
افسوس یہ ہے کہ غامدی صاحب بطور خاص پیغمبر ﷺ کے اختیار کی نفی کرتے ہیں۔
لوتھر نے روایت کی اتھارٹی کا انکار کیا، غامدی صاحب نے پیغمبرِ اسلام ﷺ ہی کی اتھارٹی کا انکار کردیا۔ پیغمبر وحی میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔ غامدی صاحب نے اس مسلمہ کو خدائی منشاء کے ابلاغ میں پیغمبر ﷺ کے کردار ہی کو محدود کرنے میں صرف کردیا۔ بالفاظِ دیگر، یہ قدغن خدائے بزرگ و برتر پر عائد کردی کہ جو حکم قرآن مجید میں نازل ہوا ہے، ویسا ہی دوسرا حکم لاؤ، پھر ہم قبول کریں گے۔ اگر پیغمبر کی زبان سے کوئی تحدید و تخصیص پیش فرمائی، تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہذا یہ قدغن پیغمبر ﷺ سے بڑھ کر پیغمبر کو مبعوث کرنے والی ہستی پر لاگو کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[١] غامدی صاحب میزان میں لکھتے ہیں: اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔
میزان، ص 15

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.