اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

Published On March 27, 2026
غامدی حلقے سے ایک سوال

غامدی حلقے سے ایک سوال

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

پہلی وحی ، غامدی صاحب اور غالی مریدین

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

مدرسہ فراہی  کے اصولوں کا تحقیقی جائزہ

مدرسہ فراہی کے اصولوں کا تحقیقی جائزہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

جہانگیر حنیف

اجماع کو بطور مصدر غامدی صاحب نے یوں پیش کیا ہے، جیسے ہماری فقہی روایت میں اس پر ہر لحاظ سے کامل اتفاق ہو۔ نہ کسی نے کوئی سوال پوچھا اور نہ اِس امر میں کوئی اختلافِ رائے ہوا۔ ’بالعموم‘ کے مبہم صیغہ کے ساتھ غامدی صاحب نے اپنے لیے جگہ بنائی ہے، تاکہ وہ بلا خوفِ تردید مبالغہ آرائی کر سکیں۔ لیکن یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ کیونکہ ’اجماع‘ کی تنقیح کا کام دورِ فقہاء ہی میں نہ صرف شروع ہوا، بلکہ اپنے تمام اطراف سمیت بخوبی پایۂ تکمیل کو بھی پہنچا۔ اِس اصول کے اطلاق میں مسائل دور فقہاء کے بعد شروع ہوئے۔ امام شوکانی کی عبارت سے اِس چیز کے قوی شواہد میسر آتے ہیں: یعنی اجماع پر فقہاء کا موقف بہت واضح اور دو ٹوک تھا اور بالکل دورِ اول ہی میں اِس مبحث کے تمام ضروری اطراف کا جائزہ لیا جا چکا تھا۔ کچھ چیزوں پر کلی اتفاق تھا۔ باقی امور پر اختلاف سامنے آیا اور ہر کسی نے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو اختیار کیا۔ غامدی صاحب اس کے بالکل برعکس تصویر کشی کرتے ہیں: ”لیکن جب دور فقہاء شروع ہوا، تو اس کے ساتھ ایک چوتھی چیز کا اضافہ کردیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
غامدی صاحب کے کہنے کا مطلب ہے کہ اجماع کے حوالے سے تمام فقہاء یکساں پوزیشن کے حامل تھے اور اُنھوں نے بغیر نقد و تمحیص اجماع کو اسلامی شریعت میں چوتھے مصدر کی حیثیت میں قبول کر لیا۔ ’بالعموم‘ سے ان کی یہی مراد ہے کہ ماسوائے معدودے چند کے تمام فقہاء اس پر یک زبان تھے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور غامدی صاحب جیسی شخصیت سے اس کی توقع نہیں تھی۔ غامدی صاحب تھوڑی زحمت فرماتے اور شوکانی ہی کی اجماع کی پر بحث کو دیکھ لیتے، تو بات بالکل واضح ہو جاتی۔ ’ارشاد الفحول‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع کا حجت ہونا زیر غور مسئلہ کی محض ایک جہت ہے۔ حجت کی نوعیت دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ اجماع کیا واقعتاً دین کی کسی بھی دور سے مناسبت میں رکاوٹ بنا ہے۔
فقہاء جن کے بارے میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے ’مسلمانوں کے اجماع‘ کو دین کا چوتھا ماخذ بنا دیا، اُن کی اجماع کے بارے میں رائے کیا ہے۔ شوکانی بتاتے ہیں کہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق تھا۔ لیکن حجت کی نوعیت میں آرا مختلف تھی۔ ایک جماعت کے نزدیک یہ قطعی حجت ہے۔ اس جماعت میں صیرفی، ابن برھان اور احناف میں سے دبوسی اور سرخسی شامل ہیں۔ دوسری جماعت جس میں رازی اور آمدی شامل ہیں، اُن کے نزدیک یہ ظنی حجت ہے۔ ایک تیسرا موقف اجماع کی حجیت کو اقسام میں تفصیل دیتا ہے۔ اُن کے نزدیک معتبرین کا اتفاق قطعی حجت ہوتا ہے اور اجماع سکوتی اور وہ اجماع جس سے شاذ و نادر اختلاف کیا گیا ہو، اس کی حجت ظنی ہوتی ہے۔
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماعِ صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی طرح ہے۔ اُن کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبر واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
وَقَالَ الْبَزْدَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ: الْإِجْمَاعُ مَرَاتِبُ، فَإِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ مِثْلُ الْكِتَابِ وَالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ، وَإِجْمَاعُ مَنْ بَعْدَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمَشْهُورِ مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَالْإِجْمَاعُ الَّذِي سَبَقَ فِيهِ الْخِلَافُ فِي الْعَصْرِ السَّابِقِ بِمَنْزِلَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ فِي الْكُلِّ أَنَّهُ مَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لَا الْعِلْمَ
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماع صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی مانند ہے۔ ان کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبرِ واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
پھر اسی پر اجماع کے خبر واحد یا ظواہر سے ثابت ہونے کا مسئلہ متفرع ہوتا ہے۔ جمہور کا موقف ہے کہ اجماع ان دونوں سے ثابت نہیں ہوتا. چونکہ جمہور کے نزدیک اجماع کی حجت قطعی ہے، لہذا اجماع خود ظنی واسطہ سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن جن اصحاب نے اس کی حجت کو ظنی قرار دیا، ان کے نزدیک اجماع بطریق آحاد بھی موجبِ عمل ہے۔ جمہور اجماع کو آحاد پر قیاس کرنے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ اصول کو اصول پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ اصول شرعیہ اپنا اثبات محض قیاس سے حاصل نہیں کرتے۔ اسی موقف کی ترجمانی قاضی عبد الجبار اور امام غزالی نے کی ہے۔ امام رازی نے المحصول میں البتہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اجماع جو بطریق آحاد ثابت ہو، وہ بھی عمل کے حق میں حجت ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ایک ظنی ضرر رفع ہوتا ہے۔
علامہ آمدی کے الفاظ میں مذکورہ مسئلہ میں بنیادی حیثیت اجماع کو ثابت کرنی والی شرط کو حاصل ہے۔ جس نے اس شرط کے قطعی ہونے کو لازمی قرار دیا، اُس نے اجماع کے خبرِ واحد سے نقل ہونے کو ممتنع بتایا اور جس نے قطعیت کو لازمی شرط نہیں بنایا، اس نے خبرِ واحد سے منقول اجماع کو بھی حجت مانا۔ امام الحرمین کا کہنا ہے کہ خبر واحد سے اجماع کو نقل کرنے پر اختلاف اس کی ظنی دلیل کے باوجود قائم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجماع غیر اجماع سے کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ اختلاف کی وجہ خبر واحد پر قیاس ہے۔ کیونکہ خبرِ واحد سے ظنی علم روایوں کی عدالت سے مشروط ہوتا ہے۔ یہ ظن، حالات و وقائع سے حاصل ظن سے اپنی نوع میں مختلف ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارے فقہاء اجماع کے موضوع پر متنوع آراء کے حامل تھے۔ البتہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق ہے۔ غامدی صاحب خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کس گروہ میں شامل ہیں۔ ہماری ادنی رائے میں اُن کا الگ فرقہ بنتا ہے، کیونکہ منکرینِ اجماع (نظام، شیعہ میں سے بعض حضرات اور خوارج) نے اجماع کے حجت ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے بدعت قرار نہیں دیا۔ جب کہ غامدی صاحب نے اِسے بدعت قرار دیا ہے۔ لہذا منکرین اجماع کی فہرست میں جاوید احمد صاحب غامدی کا نام الگ سے شامل کرلینا چاہیے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

مدرسہ فراہی  کے اصولوں کا تحقیقی جائزہ

مدرسہ فراہی کے اصولوں کا تحقیقی جائزہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

بیانِ دین یا بیانِ فطرت : غامدی صاحب کا ایک فکری مغالطہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

غامدی صاحب اور مارٹن لوتھر

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE