اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

Published On March 27, 2026
غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب سے جہاد کی فرضیت کے متعلق علماے کرام کے فتوی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے تین صورتیں ذکر کیں:۔ایک یہ کہ جب کامیابی کا یقین ہو، تو جہاد یقینا واجب ہے؛دوسری یہ کہ جب جیتنے کا امکان ہو، تو بھی لڑنا واجب ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نصرت...

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اپنی ملامت کا رخ مسلسل مسلمانوں کی طرف کرنے پر جب غامدی صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ظالموں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے، تو فرماتے ہیں کہ میری مذمت سے کیا ہوتا ہے؟ اور پھر اپنے اس یک رخے پن کےلیے جواز تراشتے ہوئے انبیاے بنی اسرائیل کی مثال دیتے ہیں...

فکرِ فراہی کا سقم

فکرِ فراہی کا سقم

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ روایتی علوم کی متداول تنقید میں ان جواب تھا۔ لیکن وہ تمام فکری تسامحات ان میں پوری قوت کے ساتھ موجود تھے جو روایتی مذہبی علوم اور ان کے ماہرین میں پائے جاتے ہیں۔ عربی زبان و بیان کے تناظر میں قرآن...

استفتاء اور فتوی سے اتنی وحشت کیوں؟

استفتاء اور فتوی سے اتنی وحشت کیوں؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   وہی ہوا جس کی توقع تھی! کل رات کچھ سوالات اہلِ علم کے سامنے رکھے، اور آج صبح بعض مخصوص حلقوں سے اس طرح کی چیخ و پکار شروع ہوگئی ہے: آپ غزہ کے متعلق دینی رہنمائی حاصل کرنے کےلیے سوالات کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اسی طرح کے سوالات پر فتوی دیا گیا،...

نائن الیون اور ماڈریٹ اسلام

نائن الیون اور ماڈریٹ اسلام

احمد الیاس نائین الیون کے بعد امریکہ نے کئی مسلمان ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر 'ماڈریٹ اسلام' کے پروجیکٹس شروع کیے۔ برنارڈ لوئیس، جان ایسپسیٹو جیسے مستشرقین اور 'اسلام ایکسپرٹس' کی رہنمائی بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کو حاصل تھی۔ پاکستان میں بھی مشرف رجیم کی معاونت...

اہل غزہ کے خلاف بے بنیاد فتوی

اہل غزہ کے خلاف بے بنیاد فتوی

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اس”فتویٰ“ میں سورۃ الانفال کی آیت 72 سے کیا گیا استدلال بالکل ہی غلط ہے۔ پہلے یہ آیت پوری پڑھ لیجیے (اس آیت کا اور نیچے دی گئی تمام آیات کا ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی کا ہے):۔إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ...

جہانگیر حنیف

اجماع کو بطور مصدر غامدی صاحب نے یوں پیش کیا ہے، جیسے ہماری فقہی روایت میں اس پر ہر لحاظ سے کامل اتفاق ہو۔ نہ کسی نے کوئی سوال پوچھا اور نہ اِس امر میں کوئی اختلافِ رائے ہوا۔ ’بالعموم‘ کے مبہم صیغہ کے ساتھ غامدی صاحب نے اپنے لیے جگہ بنائی ہے، تاکہ وہ بلا خوفِ تردید مبالغہ آرائی کر سکیں۔ لیکن یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ کیونکہ ’اجماع‘ کی تنقیح کا کام دورِ فقہاء ہی میں نہ صرف شروع ہوا، بلکہ اپنے تمام اطراف سمیت بخوبی پایۂ تکمیل کو بھی پہنچا۔ اِس اصول کے اطلاق میں مسائل دور فقہاء کے بعد شروع ہوئے۔ امام شوکانی کی عبارت سے اِس چیز کے قوی شواہد میسر آتے ہیں: یعنی اجماع پر فقہاء کا موقف بہت واضح اور دو ٹوک تھا اور بالکل دورِ اول ہی میں اِس مبحث کے تمام ضروری اطراف کا جائزہ لیا جا چکا تھا۔ کچھ چیزوں پر کلی اتفاق تھا۔ باقی امور پر اختلاف سامنے آیا اور ہر کسی نے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو اختیار کیا۔ غامدی صاحب اس کے بالکل برعکس تصویر کشی کرتے ہیں: ”لیکن جب دور فقہاء شروع ہوا، تو اس کے ساتھ ایک چوتھی چیز کا اضافہ کردیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
غامدی صاحب کے کہنے کا مطلب ہے کہ اجماع کے حوالے سے تمام فقہاء یکساں پوزیشن کے حامل تھے اور اُنھوں نے بغیر نقد و تمحیص اجماع کو اسلامی شریعت میں چوتھے مصدر کی حیثیت میں قبول کر لیا۔ ’بالعموم‘ سے ان کی یہی مراد ہے کہ ماسوائے معدودے چند کے تمام فقہاء اس پر یک زبان تھے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور غامدی صاحب جیسی شخصیت سے اس کی توقع نہیں تھی۔ غامدی صاحب تھوڑی زحمت فرماتے اور شوکانی ہی کی اجماع کی پر بحث کو دیکھ لیتے، تو بات بالکل واضح ہو جاتی۔ ’ارشاد الفحول‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع کا حجت ہونا زیر غور مسئلہ کی محض ایک جہت ہے۔ حجت کی نوعیت دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ اجماع کیا واقعتاً دین کی کسی بھی دور سے مناسبت میں رکاوٹ بنا ہے۔
فقہاء جن کے بارے میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے ’مسلمانوں کے اجماع‘ کو دین کا چوتھا ماخذ بنا دیا، اُن کی اجماع کے بارے میں رائے کیا ہے۔ شوکانی بتاتے ہیں کہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق تھا۔ لیکن حجت کی نوعیت میں آرا مختلف تھی۔ ایک جماعت کے نزدیک یہ قطعی حجت ہے۔ اس جماعت میں صیرفی، ابن برھان اور احناف میں سے دبوسی اور سرخسی شامل ہیں۔ دوسری جماعت جس میں رازی اور آمدی شامل ہیں، اُن کے نزدیک یہ ظنی حجت ہے۔ ایک تیسرا موقف اجماع کی حجیت کو اقسام میں تفصیل دیتا ہے۔ اُن کے نزدیک معتبرین کا اتفاق قطعی حجت ہوتا ہے اور اجماع سکوتی اور وہ اجماع جس سے شاذ و نادر اختلاف کیا گیا ہو، اس کی حجت ظنی ہوتی ہے۔
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماعِ صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی طرح ہے۔ اُن کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبر واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
وَقَالَ الْبَزْدَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ: الْإِجْمَاعُ مَرَاتِبُ، فَإِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ مِثْلُ الْكِتَابِ وَالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ، وَإِجْمَاعُ مَنْ بَعْدَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمَشْهُورِ مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَالْإِجْمَاعُ الَّذِي سَبَقَ فِيهِ الْخِلَافُ فِي الْعَصْرِ السَّابِقِ بِمَنْزِلَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ فِي الْكُلِّ أَنَّهُ مَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لَا الْعِلْمَ
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماع صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی مانند ہے۔ ان کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبرِ واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
پھر اسی پر اجماع کے خبر واحد یا ظواہر سے ثابت ہونے کا مسئلہ متفرع ہوتا ہے۔ جمہور کا موقف ہے کہ اجماع ان دونوں سے ثابت نہیں ہوتا. چونکہ جمہور کے نزدیک اجماع کی حجت قطعی ہے، لہذا اجماع خود ظنی واسطہ سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن جن اصحاب نے اس کی حجت کو ظنی قرار دیا، ان کے نزدیک اجماع بطریق آحاد بھی موجبِ عمل ہے۔ جمہور اجماع کو آحاد پر قیاس کرنے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ اصول کو اصول پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ اصول شرعیہ اپنا اثبات محض قیاس سے حاصل نہیں کرتے۔ اسی موقف کی ترجمانی قاضی عبد الجبار اور امام غزالی نے کی ہے۔ امام رازی نے المحصول میں البتہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اجماع جو بطریق آحاد ثابت ہو، وہ بھی عمل کے حق میں حجت ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ایک ظنی ضرر رفع ہوتا ہے۔
علامہ آمدی کے الفاظ میں مذکورہ مسئلہ میں بنیادی حیثیت اجماع کو ثابت کرنی والی شرط کو حاصل ہے۔ جس نے اس شرط کے قطعی ہونے کو لازمی قرار دیا، اُس نے اجماع کے خبرِ واحد سے نقل ہونے کو ممتنع بتایا اور جس نے قطعیت کو لازمی شرط نہیں بنایا، اس نے خبرِ واحد سے منقول اجماع کو بھی حجت مانا۔ امام الحرمین کا کہنا ہے کہ خبر واحد سے اجماع کو نقل کرنے پر اختلاف اس کی ظنی دلیل کے باوجود قائم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجماع غیر اجماع سے کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ اختلاف کی وجہ خبر واحد پر قیاس ہے۔ کیونکہ خبرِ واحد سے ظنی علم روایوں کی عدالت سے مشروط ہوتا ہے۔ یہ ظن، حالات و وقائع سے حاصل ظن سے اپنی نوع میں مختلف ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارے فقہاء اجماع کے موضوع پر متنوع آراء کے حامل تھے۔ البتہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق ہے۔ غامدی صاحب خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کس گروہ میں شامل ہیں۔ ہماری ادنی رائے میں اُن کا الگ فرقہ بنتا ہے، کیونکہ منکرینِ اجماع (نظام، شیعہ میں سے بعض حضرات اور خوارج) نے اجماع کے حجت ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے بدعت قرار نہیں دیا۔ جب کہ غامدی صاحب نے اِسے بدعت قرار دیا ہے۔ لہذا منکرین اجماع کی فہرست میں جاوید احمد صاحب غامدی کا نام الگ سے شامل کرلینا چاہیے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…