اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

Published On March 27, 2026
غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک...

غامدی صاحب اور حدیث

غامدی صاحب اور حدیث

مقدمہ 1: غامدی صاحب اپنا ایک اصول حدیث لکھتے ہیں کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم 'حدیث' کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔" (...

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورنبوی کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں...

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف...

قرآن اور غامدی صاحب

قرآن اور غامدی صاحب

ایک تحریر میں ہم غامدی صاحب کی قرآن کی معنوی تحریف کی چند مثالیں پیش کرچکے مزید ایک تشریح ملاحظہ فرمائیں۔غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں: "موت كى سزا قرآن كى رو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى- اللہ...

رجم کی حد اور غامدی صاحب

رجم کی حد اور غامدی صاحب

اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے  اس پر دس سے زائد صحیح احادیث موجود ہیں  جن سے  واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ آزاد زانیوں پر کوڑوں کی بجائے رجم کی سزانافذ کی۔ ۔ غامدی صاحب اسکے انکاری ہیں ۔ وہ...

جہانگیر حنیف

اجماع کو بطور مصدر غامدی صاحب نے یوں پیش کیا ہے، جیسے ہماری فقہی روایت میں اس پر ہر لحاظ سے کامل اتفاق ہو۔ نہ کسی نے کوئی سوال پوچھا اور نہ اِس امر میں کوئی اختلافِ رائے ہوا۔ ’بالعموم‘ کے مبہم صیغہ کے ساتھ غامدی صاحب نے اپنے لیے جگہ بنائی ہے، تاکہ وہ بلا خوفِ تردید مبالغہ آرائی کر سکیں۔ لیکن یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ کیونکہ ’اجماع‘ کی تنقیح کا کام دورِ فقہاء ہی میں نہ صرف شروع ہوا، بلکہ اپنے تمام اطراف سمیت بخوبی پایۂ تکمیل کو بھی پہنچا۔ اِس اصول کے اطلاق میں مسائل دور فقہاء کے بعد شروع ہوئے۔ امام شوکانی کی عبارت سے اِس چیز کے قوی شواہد میسر آتے ہیں: یعنی اجماع پر فقہاء کا موقف بہت واضح اور دو ٹوک تھا اور بالکل دورِ اول ہی میں اِس مبحث کے تمام ضروری اطراف کا جائزہ لیا جا چکا تھا۔ کچھ چیزوں پر کلی اتفاق تھا۔ باقی امور پر اختلاف سامنے آیا اور ہر کسی نے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو اختیار کیا۔ غامدی صاحب اس کے بالکل برعکس تصویر کشی کرتے ہیں: ”لیکن جب دور فقہاء شروع ہوا، تو اس کے ساتھ ایک چوتھی چیز کا اضافہ کردیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
غامدی صاحب کے کہنے کا مطلب ہے کہ اجماع کے حوالے سے تمام فقہاء یکساں پوزیشن کے حامل تھے اور اُنھوں نے بغیر نقد و تمحیص اجماع کو اسلامی شریعت میں چوتھے مصدر کی حیثیت میں قبول کر لیا۔ ’بالعموم‘ سے ان کی یہی مراد ہے کہ ماسوائے معدودے چند کے تمام فقہاء اس پر یک زبان تھے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور غامدی صاحب جیسی شخصیت سے اس کی توقع نہیں تھی۔ غامدی صاحب تھوڑی زحمت فرماتے اور شوکانی ہی کی اجماع کی پر بحث کو دیکھ لیتے، تو بات بالکل واضح ہو جاتی۔ ’ارشاد الفحول‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع کا حجت ہونا زیر غور مسئلہ کی محض ایک جہت ہے۔ حجت کی نوعیت دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ اجماع کیا واقعتاً دین کی کسی بھی دور سے مناسبت میں رکاوٹ بنا ہے۔
فقہاء جن کے بارے میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے ’مسلمانوں کے اجماع‘ کو دین کا چوتھا ماخذ بنا دیا، اُن کی اجماع کے بارے میں رائے کیا ہے۔ شوکانی بتاتے ہیں کہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق تھا۔ لیکن حجت کی نوعیت میں آرا مختلف تھی۔ ایک جماعت کے نزدیک یہ قطعی حجت ہے۔ اس جماعت میں صیرفی، ابن برھان اور احناف میں سے دبوسی اور سرخسی شامل ہیں۔ دوسری جماعت جس میں رازی اور آمدی شامل ہیں، اُن کے نزدیک یہ ظنی حجت ہے۔ ایک تیسرا موقف اجماع کی حجیت کو اقسام میں تفصیل دیتا ہے۔ اُن کے نزدیک معتبرین کا اتفاق قطعی حجت ہوتا ہے اور اجماع سکوتی اور وہ اجماع جس سے شاذ و نادر اختلاف کیا گیا ہو، اس کی حجت ظنی ہوتی ہے۔
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماعِ صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی طرح ہے۔ اُن کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبر واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
وَقَالَ الْبَزْدَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ: الْإِجْمَاعُ مَرَاتِبُ، فَإِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ مِثْلُ الْكِتَابِ وَالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ، وَإِجْمَاعُ مَنْ بَعْدَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمَشْهُورِ مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَالْإِجْمَاعُ الَّذِي سَبَقَ فِيهِ الْخِلَافُ فِي الْعَصْرِ السَّابِقِ بِمَنْزِلَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ فِي الْكُلِّ أَنَّهُ مَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لَا الْعِلْمَ
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماع صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی مانند ہے۔ ان کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبرِ واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
پھر اسی پر اجماع کے خبر واحد یا ظواہر سے ثابت ہونے کا مسئلہ متفرع ہوتا ہے۔ جمہور کا موقف ہے کہ اجماع ان دونوں سے ثابت نہیں ہوتا. چونکہ جمہور کے نزدیک اجماع کی حجت قطعی ہے، لہذا اجماع خود ظنی واسطہ سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن جن اصحاب نے اس کی حجت کو ظنی قرار دیا، ان کے نزدیک اجماع بطریق آحاد بھی موجبِ عمل ہے۔ جمہور اجماع کو آحاد پر قیاس کرنے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ اصول کو اصول پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ اصول شرعیہ اپنا اثبات محض قیاس سے حاصل نہیں کرتے۔ اسی موقف کی ترجمانی قاضی عبد الجبار اور امام غزالی نے کی ہے۔ امام رازی نے المحصول میں البتہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اجماع جو بطریق آحاد ثابت ہو، وہ بھی عمل کے حق میں حجت ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ایک ظنی ضرر رفع ہوتا ہے۔
علامہ آمدی کے الفاظ میں مذکورہ مسئلہ میں بنیادی حیثیت اجماع کو ثابت کرنی والی شرط کو حاصل ہے۔ جس نے اس شرط کے قطعی ہونے کو لازمی قرار دیا، اُس نے اجماع کے خبرِ واحد سے نقل ہونے کو ممتنع بتایا اور جس نے قطعیت کو لازمی شرط نہیں بنایا، اس نے خبرِ واحد سے منقول اجماع کو بھی حجت مانا۔ امام الحرمین کا کہنا ہے کہ خبر واحد سے اجماع کو نقل کرنے پر اختلاف اس کی ظنی دلیل کے باوجود قائم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجماع غیر اجماع سے کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ اختلاف کی وجہ خبر واحد پر قیاس ہے۔ کیونکہ خبرِ واحد سے ظنی علم روایوں کی عدالت سے مشروط ہوتا ہے۔ یہ ظن، حالات و وقائع سے حاصل ظن سے اپنی نوع میں مختلف ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارے فقہاء اجماع کے موضوع پر متنوع آراء کے حامل تھے۔ البتہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق ہے۔ غامدی صاحب خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کس گروہ میں شامل ہیں۔ ہماری ادنی رائے میں اُن کا الگ فرقہ بنتا ہے، کیونکہ منکرینِ اجماع (نظام، شیعہ میں سے بعض حضرات اور خوارج) نے اجماع کے حجت ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے بدعت قرار نہیں دیا۔ جب کہ غامدی صاحب نے اِسے بدعت قرار دیا ہے۔ لہذا منکرین اجماع کی فہرست میں جاوید احمد صاحب غامدی کا نام الگ سے شامل کرلینا چاہیے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…