اجماع اور غامدی صاحب کا سوئے فہم 1

Published On March 27, 2026
غامدی صاحب کا تصور سنت

غامدی صاحب کا تصور سنت

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کا اپریل ۲۰۰۸ء کا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں غامدی صاحب کے رفیق کار جناب محمد رفیع مفتی نے سوال و جواب کے باب میں دو سوالوں کے جواب میں سنت نبوی کے بارے میں غامدی...

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

مولانا واصل واسطی پانچویں بات اس سلسلے میں یہ ہے ۔ کہ جناب نے جوکچھ اوپر مبحوث فیہ عبارت میں لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ   ہم اس  فہرستِ سنت میں سے جس کا ذکر قران مجید میں آیا ہے ۔ اس کے مفہوم کاتعین ان روایات ہی کی روشنی میں کرتے ہیں محض قران مجید پراکتفاء نہیں کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 87)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اس عبارت میں جناب غامدی نے یہ لکھی ہے کہ "قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہواہے ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواترپر مبنی روایت سے متعین ہو ں گی ۔ انہیں قران سے براہِ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں جائے گی " ( میزان ص 47) اس بات پر بھی جناب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 86)

مولانا واصل واسطی اب دوسری مستثنی صورت کو دیکھتے ہیں: جناب غامدی لکھتے ہیں" دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگرقحبہ عورتیں ہوں توان سے نمٹنے کے لیے قران مجید کی روسے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں ۔ جو اس بات پر گواہی دیں کہ فلان عورت فی الواقع زنا کی عادی ایک...

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن...

جہانگیر حنیف

اجماع کو بطور مصدر غامدی صاحب نے یوں پیش کیا ہے، جیسے ہماری فقہی روایت میں اس پر ہر لحاظ سے کامل اتفاق ہو۔ نہ کسی نے کوئی سوال پوچھا اور نہ اِس امر میں کوئی اختلافِ رائے ہوا۔ ’بالعموم‘ کے مبہم صیغہ کے ساتھ غامدی صاحب نے اپنے لیے جگہ بنائی ہے، تاکہ وہ بلا خوفِ تردید مبالغہ آرائی کر سکیں۔ لیکن یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ کیونکہ ’اجماع‘ کی تنقیح کا کام دورِ فقہاء ہی میں نہ صرف شروع ہوا، بلکہ اپنے تمام اطراف سمیت بخوبی پایۂ تکمیل کو بھی پہنچا۔ اِس اصول کے اطلاق میں مسائل دور فقہاء کے بعد شروع ہوئے۔ امام شوکانی کی عبارت سے اِس چیز کے قوی شواہد میسر آتے ہیں: یعنی اجماع پر فقہاء کا موقف بہت واضح اور دو ٹوک تھا اور بالکل دورِ اول ہی میں اِس مبحث کے تمام ضروری اطراف کا جائزہ لیا جا چکا تھا۔ کچھ چیزوں پر کلی اتفاق تھا۔ باقی امور پر اختلاف سامنے آیا اور ہر کسی نے دلائل کی بنیاد پر اپنے موقف کو اختیار کیا۔ غامدی صاحب اس کے بالکل برعکس تصویر کشی کرتے ہیں: ”لیکن جب دور فقہاء شروع ہوا، تو اس کے ساتھ ایک چوتھی چیز کا اضافہ کردیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
غامدی صاحب کے کہنے کا مطلب ہے کہ اجماع کے حوالے سے تمام فقہاء یکساں پوزیشن کے حامل تھے اور اُنھوں نے بغیر نقد و تمحیص اجماع کو اسلامی شریعت میں چوتھے مصدر کی حیثیت میں قبول کر لیا۔ ’بالعموم‘ سے ان کی یہی مراد ہے کہ ماسوائے معدودے چند کے تمام فقہاء اس پر یک زبان تھے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور غامدی صاحب جیسی شخصیت سے اس کی توقع نہیں تھی۔ غامدی صاحب تھوڑی زحمت فرماتے اور شوکانی ہی کی اجماع کی پر بحث کو دیکھ لیتے، تو بات بالکل واضح ہو جاتی۔ ’ارشاد الفحول‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع کا حجت ہونا زیر غور مسئلہ کی محض ایک جہت ہے۔ حجت کی نوعیت دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ اجماع کیا واقعتاً دین کی کسی بھی دور سے مناسبت میں رکاوٹ بنا ہے۔
فقہاء جن کے بارے میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے ’مسلمانوں کے اجماع‘ کو دین کا چوتھا ماخذ بنا دیا، اُن کی اجماع کے بارے میں رائے کیا ہے۔ شوکانی بتاتے ہیں کہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق تھا۔ لیکن حجت کی نوعیت میں آرا مختلف تھی۔ ایک جماعت کے نزدیک یہ قطعی حجت ہے۔ اس جماعت میں صیرفی، ابن برھان اور احناف میں سے دبوسی اور سرخسی شامل ہیں۔ دوسری جماعت جس میں رازی اور آمدی شامل ہیں، اُن کے نزدیک یہ ظنی حجت ہے۔ ایک تیسرا موقف اجماع کی حجیت کو اقسام میں تفصیل دیتا ہے۔ اُن کے نزدیک معتبرین کا اتفاق قطعی حجت ہوتا ہے اور اجماع سکوتی اور وہ اجماع جس سے شاذ و نادر اختلاف کیا گیا ہو، اس کی حجت ظنی ہوتی ہے۔
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماعِ صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی طرح ہے۔ اُن کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبر واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
وَقَالَ الْبَزْدَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ: الْإِجْمَاعُ مَرَاتِبُ، فَإِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ مِثْلُ الْكِتَابِ وَالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ، وَإِجْمَاعُ مَنْ بَعْدَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمَشْهُورِ مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَالْإِجْمَاعُ الَّذِي سَبَقَ فِيهِ الْخِلَافُ فِي الْعَصْرِ السَّابِقِ بِمَنْزِلَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ فِي الْكُلِّ أَنَّهُ مَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لَا الْعِلْمَ
امام بزدوی اور احناف میں سے ایک جماعت کا موقف ہے کہ اجماع کے درجات ہیں۔ اجماع صحابہ کتاب اللہ اور خبرِ متواتر کی مانند ہے۔ ان کے بعد والوں کا اجماع حدیث مشہور کی منزلت ہے۔ اور وہ اجماع جس میں اختلاف شروع ہوگیا، خبرِ واحد کی طرح ہے۔ بعض نے یہ موقف اختیار کیا کہ اجماع کی ہر صورت عمل کی موجب ہے، علم کو لازم نہیں کرتی۔
پھر اسی پر اجماع کے خبر واحد یا ظواہر سے ثابت ہونے کا مسئلہ متفرع ہوتا ہے۔ جمہور کا موقف ہے کہ اجماع ان دونوں سے ثابت نہیں ہوتا. چونکہ جمہور کے نزدیک اجماع کی حجت قطعی ہے، لہذا اجماع خود ظنی واسطہ سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن جن اصحاب نے اس کی حجت کو ظنی قرار دیا، ان کے نزدیک اجماع بطریق آحاد بھی موجبِ عمل ہے۔ جمہور اجماع کو آحاد پر قیاس کرنے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ اصول کو اصول پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ اصول شرعیہ اپنا اثبات محض قیاس سے حاصل نہیں کرتے۔ اسی موقف کی ترجمانی قاضی عبد الجبار اور امام غزالی نے کی ہے۔ امام رازی نے المحصول میں البتہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اجماع جو بطریق آحاد ثابت ہو، وہ بھی عمل کے حق میں حجت ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ایک ظنی ضرر رفع ہوتا ہے۔
علامہ آمدی کے الفاظ میں مذکورہ مسئلہ میں بنیادی حیثیت اجماع کو ثابت کرنی والی شرط کو حاصل ہے۔ جس نے اس شرط کے قطعی ہونے کو لازمی قرار دیا، اُس نے اجماع کے خبرِ واحد سے نقل ہونے کو ممتنع بتایا اور جس نے قطعیت کو لازمی شرط نہیں بنایا، اس نے خبرِ واحد سے منقول اجماع کو بھی حجت مانا۔ امام الحرمین کا کہنا ہے کہ خبر واحد سے اجماع کو نقل کرنے پر اختلاف اس کی ظنی دلیل کے باوجود قائم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجماع غیر اجماع سے کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ اختلاف کی وجہ خبر واحد پر قیاس ہے۔ کیونکہ خبرِ واحد سے ظنی علم روایوں کی عدالت سے مشروط ہوتا ہے۔ یہ ظن، حالات و وقائع سے حاصل ظن سے اپنی نوع میں مختلف ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارے فقہاء اجماع کے موضوع پر متنوع آراء کے حامل تھے۔ البتہ نظام، بعض شیعہ اور خوارج کے علاوہ سب کا اجماع کے حجت ہونے پر اتفاق ہے۔ غامدی صاحب خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کس گروہ میں شامل ہیں۔ ہماری ادنی رائے میں اُن کا الگ فرقہ بنتا ہے، کیونکہ منکرینِ اجماع (نظام، شیعہ میں سے بعض حضرات اور خوارج) نے اجماع کے حجت ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے بدعت قرار نہیں دیا۔ جب کہ غامدی صاحب نے اِسے بدعت قرار دیا ہے۔ لہذا منکرین اجماع کی فہرست میں جاوید احمد صاحب غامدی کا نام الگ سے شامل کرلینا چاہیے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…