حدثنا ، اخبرنا اور غامدی صاحب کی تنگ نظری وتعصب

Published On November 26, 2025
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

علی کاظمی

کوئی بھی علمی ڈسپلن ایک مبلغ علمی (علمیات ) کے گرد تخلیق اور تشکیل پاتا ہے اس مبلغ علمی کو انگریزی زبان میں epistemology بھی کہتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ھوتا ہے کہ کوئی بھی علمی ڈسپلن جب خام مواد کے بعد اپنے دوسرے اور اھم ترین مرحلے (تدوین اور تبویب )میں ڈھلتا ہے تو ایک مجموعی علمی عقلیت اور ذھنیت پروان چڑھتی ہے اور وہ تمام تر مرحلہ تدوین وتخلیق اسی مجموعی سانچے میں ڈھلا ھوا ھوتا ہے ۔
یہ اصول دنیا کے تمام غالب علمی ادوار میں کارفرما رہا اور اسی ٹکسال میں تمام علمی روایتیں تشکیل پائی ہیں ۔
اسلامی علوم جس ذہنیت اور عقلیت اور جس سانچے میں مدون ھوئے اس ذہنیت یا اس مبلغ علمی کو بجا طور پر ” #وقار #روایت ” سے تعبیر کر سکتے ہیں یعنی اسلامی علوم کے تمام تر شعبہ ہائے علمی کا مقام مرتبہ اور استناد اس روایت کے وقار کے ساتھ وابستہ رہا ہے اور جتنا جتنا روایت میں علو ، بلندی اور وقار بڑھتا رہا اتنا اتنا ھی اس اسلوب علمی کا وقار اور استناد بلند ھوتا گیا ۔
اسی مذکورہ “وقار روایت” کا اسلامی علوم میں اس قدر گہرا عمل دخل تھا کہ شاعری جیسے جمالیاتی علم کی جمع وتدوین میں بھی اس کا اس قدر باریک بینی سے خیال رکھا گیا کہ جاہلی ادب کی جب تدوین نوع کی گئی تو اس روایت کے سب سے بڑے عالم ” حماد ” کو ” حماد الروایہ ” کا نام دیا گیا یعنی وہ حماد جس نے الادب الجاہلی کی روایت کی اور اس کی روایت کردہ شاعری ، استناد کے سب سے بڑے درجہ پر فائز سمجھی گئی ۔
اس مذکورہ “وقار روایت” کے اظہار اور اس کے ابلاغ کے لیے جو اصطلاحات وضع کی گئی ان میں جو دو مرکزی اصطلاحات تھیں!
وہ ” حدثنا اور اخبرنا ” تھیں ۔
ھم کہے سکتے ہیں کے تمام تر دینی ادب اس اخبرنا اور حدثنا کے گرد گھومتا ہے اور اسی کے تناظر میں تشکیل پایا ہے ۔
اور جب آپ اس “اخبرنا اور حدثنا” کو دینی ادب سے نکال دیں گے تو پورا دینی ادب ھی غیر مستند اور بےبنیاد رہ جائے گا ۔
گزشتہ دو تین صدیوں کی فکر استشراق کا مرکزی محور اس بنیاد کو ڈھانے میں صرف ھوا اور انہوں نے اس وقار روایت کو ھی نشانہ پر رکھ کر علوم اسلامیہ کے متعلق اپنے تمام تر شکوک وشبہات پھلائے اور ان کا بنیادی وظیفہ یہی رہا ۔
مشتسرقین پر دو علمی ادوار آئے جسے قدیم اور جدید استشراقی فکر کہا جاسکتا ہے بیسویں صدی میں جب فواد سیزگین ، ڈاکٹر حمید اللہ ، مصطفی اعظمی جیسے لوگوں کی علمی کاوشیں سامنے آئیں تو وہ مستشرقین جو غیر متعصب تھے انہوں نے قدیم استشراقی فکر سے رجوع کر لیا اور علوم اسلامیہ کے متعلق گزشتہ دو سوسالوں کے شکوک وشبہات کو غلط قرار دیتے ھوئے جو اعتراضات قائم کیے تھے وہ تقریبا ختم کردیے ۔
لیکن اس دو سو سالہ قدیم استشراقی فکر کے برصغیر میں جو خوشہ چین اور مرعوب ذہنیتیں تھی وہ آج بھی انہیں قدیم اعتراضات کو اپنا کل علمی سرمایہ سمجھتے ہیں اور اسی کے چربے کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر اپنی سکالرشپ کا رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
غامدی صاحب نے “اخبرنا اور حدثنا” کے خلاف جو زہر اگلا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ سرسید ، پرویز ، تمنا عمادی ، حبیب کاندھلوی کی اسی دو سوسالہ متروک اور گھسی پٹی چرب زبانی اور ملمع سازی کا تسلسل ھی ہے اور دینی علوم کی بنیاد پر حملہ ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…