یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

Published On November 26, 2025
عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

مصنف : ڈاکٹر محمد قاسم مرکزی موضوع: جاوید احمد غامدی کے دین، حدیث، فقہ، اور جدید مسائل کے بارے میں نظریات کا تجزیہ کرنا.۔مصنف کا انداز: ڈاکٹر محمد قاسم فکتو نے غامدی کے نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، ان کے دلائل کا جواب دیا ہے، اور ان پر ہونے والے اعتراضات کو علمی...

محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

محترم غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب "میزان" پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب کی بنیادی فکر،...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے نزدیک یزید ملوکیت اور انارکیت میں سے اھون البلیتین کے تحت ملوکانہ انتخاب تھا ۔
اب اگر غامدی صاحب کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو دو سوال یہاں پیدا ھوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(یاد رہے کہ یہ سوال غامدی صاحب کی اس توجیہ پر کھڑے ھوتے ہیں ۔ ھمارا اصولی موقف اس سے الگ ہے )
۔۔۔۔۔۔۔
1) یزید سے قبل 20 سال کہ پر امن دور اقتدار ( جس میں کوئی داخلی چیلنج یا اپوزیشن موجود نہیں تھی ) کے باوجود اتنی انارکی اور انتشار کیوں تھا اور اگر کوئی ایسی چیز موجود تھی تو 20 سال میں اس پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا کہ اگلے امیر کے انتخاب کے لیے آپ کے پاس انارکی کے سوا کوئی آپشن ھی موجود نہیں تھے ؟
2) چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ انارکی اور انتشار کے خوف اور اس سے بچاو کے لیے یزید کو منتخب کر لیا گیا لیکن کیا یہ فیصلہ درست ثابت ھوا ؟ اور یہ انتشار ختم ھوگیا ؟ اور یزید کو منتخب کرنے سے انتشار انارکی اور لاقانونیت کا خاتمہ ھوگیا ۔ ؟
یقینا اس کا جواب نفی میں ہے ۔ یزید کے اقتدار میں آنے کے بعد اگلے صرف دس سال میں اتنے بڑے بڑے داخلی حادثے اور واقعات ھوئے کہ اس نے امت میں انارکی اور انتشار کی مستقل بنیادیں اور جڑیں کھود ڈالی ۔
زرا ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں
(1) 60 سے 65 ہجری کے درمیان مسلمانوں کے چار خلیفہ تبدیل ھوئے ۔
(2) دمشق ، عراق ، خراسان ، حجاز ، یمن تمام علاقوں میں پرتشدد اور خونی جھگڑے شروع ھوگئے ۔
(3) واقعہ کربلا ، واقعہ حرہ ، کعبہ پر سنگ باری ، توابین کے جنگی حملہ مختار ثقفی کا انتقام ، امویوں کی سفیانی ومروانی شاخ میں لڑائی ، معرکہ مرج راہط ، مروان کا بیڈ روم میں کنیزوں کے ساتھ داد سجاعت دیتے ھوئے اپنی بیوی کے ھاتھوں قتل ، حضرت ابن زبیر کا پورے عالم اسلامی کا کنترول اور پھر اس کا چھن جانا ۔
(4) مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے حج کے موقع پر ایک جھنڈے تلے جمع ھونے کی بجائے چار جھنڈوں کے تحت تقسیم کا عمل جس میں محمد بن حنفیہ کا علم الگ ، ابن زبیر کا علم الگ ، امویوں کا علم الگ اور خوارج کے علم الگ بلند ھوا ۔
تو ان حالات کے پیش نظر غامدی صاحب کا یہ نظری فلسفہ حقائق کی دنیا میں کہاں سٹینڈ کرتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ  کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE