غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت میں نکاح کے متعلق جناب جاوید احمد غامدی اور جناب محمد حسن الیاس کی وڈیو کلپ پر میں نے تبصرہ کیا تھا اور ان کے موقف کی غلطیاں واضح کی تھیں۔ (حسب معمول) غامدی صاحب نے تو جواب دینے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے، لیکن حسن صاحب کی عذر خواہی آگئی ہے۔...

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے،...

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

مولانا محبوب احمد سرگودھا اسلامی عقائد انتہائی محکم ، واضح اور مدلل و مبرہن ہیں ، ان میں تشکیک و تو ہم کی گنجائش نہیں ہے۔ ابتدا ہی سے عقائد کا معاملہ انتہائی نازک رہا ہے، عقائد کی حفاظت سے اسلامی قلعہ محفوظ رہتا ہے۔ عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم ہی سے کئی افراد اور جماعتوں...

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

بنیاد پرست غامدی صاحب لکھتے ہیں :۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقعِ بیان کے باوجود اس واقعہ کی طرف کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں...

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

بنیاد پرست قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ” اللہ نے انہیں اپنی طرف بلند کر دیا “وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کے درجات بلند کر دیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلندی کا...

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

صفتین خان غامدی صاحب کا تازہ بیان سن کر صدمے اور افسوس کے ملے جلے جذبات ہیں۔ یہ توقع نہیں تھی وہ اس حد تک جا کر خاکی فصیل کا دفاع کریں گے۔ یہ خود ان کے اوپر اتمام حجت ہے۔ ان کے انکار کے باوجود فوجی بیانیہ کے خلاف ان کے تمام سابقہ فلسفے اس تازہ کلام سے منسوخ و کالعدم...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…