غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

طارق محمود ہاشمی تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ...

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

ناقد : مفتی یاسر ندیم واجدی  تلخیص : زید حسن سائل  نوید افضل   : غامدی صاحب "اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے جوابات دے رہے ہیں ۔ جس میں ارتداد کی سزا کی بابت انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی سزا قتل نہیں ہے ۔ اسکی تین وجوہات انہوں نے ذکر کی ہیں ۔ اول  ۔ لا اکراہ فی الدین سے...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم میزان کے باب کلام کی دلالت پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ " دنیا کی ہر زندہ زبان کے الفاظ و اسالیب جن مفاہیم پر دلالت کرتے ہیں ، وہ سب متواترات پر مبنی اور ہر لحاظ سے بالکل قطعی ہوتے ہیں ۔ لغت و...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں جمع و تدوین قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا ہے ، غامدی صاحب نے ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ ، فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ، ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ.(القیامہ ۷۵:...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

مسرور اعظم فرخ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریاست کو اسلامی قرار دینے کے بعد غامدی صاحب کے نزدیک’’تفریق پیدا ہو جانے سے مسلمانوں میں فساد برپا ہو گیا ‘‘تو یہ تفریق یا فساد ریاست کو اسلامی قرار دینے کے تصور نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ اُنہی ’’بے توفیق فقیہان حرم کی‘‘...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…