غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم غامدی صاحب کے اصول تدبر قرآن میں میزان و فرقان میں قرات کے اختلاف پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب لکھتے ہیں۔۔۔ایک یہ کہ قرآن میں بعض مقامات پر قراء ت کے اختلافات ہیں ۔یہ اختلافات لفظوں کے اداکرنے ہی میں نہیں...

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم، حصہ دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں زبیر احمد صاحب غامدی صاحب کے نظریہِ تفہیم و تبیین پر گفتگو فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ غامدی صاحب کا ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے ہاں البتہ تفہیم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی آگے اپنی تائید میں اپنے استاد کی عبارت پیش کرتے ہیں کہ " استاد امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " نظم کے متعلق یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ محض علمی لطائف کی قسم کی ایک چیز ہے جس کی قران کے اصل مقصد کے نقطہ نظر سے کوئی خاص قدروقیمت نہیں ہے "...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 99)

مولانا واصل واسطی آگے جناب غامدی"نظمِ قران " کے عنوان کے متعلق خیالات کااظہار کرتے ہیں کہ " آٹھویں چیز یہ ہے کہ قران کی ہرسورہ کا ایک متعین نظمِ کلام ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی طرف سے الگ الگ اورمتفرق ہدایات  کا کوئی مجموعہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا ایک موضوع اور اس کی تمام...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 98)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اتمامِ حجت کے بعد عذاب کی دوقسمیں مقرر کرتے ہیں (1) اول قسم کے متعلق لکھتے ہیں کہ " پہلی صورت میں رسول کے قوم کوچھوڑدینے کے بعدیہ ذلت ان پراس طرح مسلط کی جاتی ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتی ، ساف وحاصب کاطوفان اٹھتا اورابروباد کے لشکران...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 97)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی  پیغمبر کی سرگذشت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں " رسالت ایک خاص منصب ہے جونبیوں میں چند ہی کو حاصل ہواہے ۔ قران میں اس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کےلیے خداکی عدالت بن کرآتا ہے اور ان کافیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ قران بتاتا...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…