غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

سید خالد جامعی قرآ ن کی آیتوں کو صرف قرآن کے سواکوئی منسوخ نہیں کرسکتا: غامدی برہان ص ۲۰۱۳ء ص ۵۱ ، ۵۲قرآن کی آیتوں کوصرف اور صرف تحقیق سے منسوخ کیا جاسکتا ہے : غامدی، میزان ۲۰۱۵ء،ص ۴۹کتابیہ عورت سے نکاح کی اجازت مشرکانہ تہذیب پر دین کے غلبے سے مشروط تھی غامدی میزان ص...

ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (دوسری قسط)

ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (دوسری قسط)

شکیل عثمانی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اُن کی ویب سائٹ www.javedahmadghamidi.com پر ان کے ایک لیکچر کی وڈیو بعنوان Ghamidi on Ahmadiyya Prophethood claim موجود ہے، جس میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور تحریکِ احمدیت پر گفتگو کی ہے۔ ہم نے جب اس لیکچر...

ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (دوسری قسط)

ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (پہلی قسط)

شکیل عثمانی جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون  ’’اسلامی ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘ اُن کے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور دلفریب اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی سمجھاگیا اور اس پر بحثیں بھی...

تاصیلِ اصول اور غامدی صاحب

تاصیلِ اصول اور غامدی صاحب

حسن بن علی غامدى صاحب چاہے اپنی تعریفات اور اصطلاحات وضع کر لیں (لكل واحد ان يصطلح أو لا مشاحة في الاصطلاح) لیکن اختلاف صرف اصطلاحات كى تعریفات تک محدود نہیں بلکہ قول رسول كى حجیت كو تسلیم کرنے یا نہ تسلیم کرنے کا ہے تو جب غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ دین قرآن و سنت میں...

جناب جاویدغامدی صاحب کی دین فہمی اور اُن کے خود ساختہ اُصول

جناب جاویدغامدی صاحب کی دین فہمی اور اُن کے خود ساختہ اُصول

سید خالد جامعی کسی فکر کی درستگی کا پیمانہ، اصول ، منہاج، فرقان ،دینی فکر‘ امت کی علمی روایت سے مطابقت رکھتی ہو اور امت کے اجتماعی تعامل کے مطابق ہو۔ (پرویز صاحب کا فہم قرآن، غامدی صاحب کی تقریر ،ص: ۴۸۔دارالتذکیر ۲۰۰۴ئ) ۲:…سنت قرآن کے بعد نہیں، بلکہ قرآن سے مقدم ہے۔...

غامدی فکر کی بنیادی گمراہی

غامدی فکر کی بنیادی گمراہی

مولانا یحیی نعمانی ، لکھنئو             جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گمراہی اور اہل سنت واہل حق سے ان کا اصل انحراف کوئی معمولی قسم کا نہیں ہے۔ افسوس کہ وہ مقام رسالت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک بنیادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل ہی...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…