غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 25)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 25)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے اسی مبحث میں اگے ،، سبعةاحرف ،، والی روایت کو تختہِ مشق بنایا ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ ،، یہاں ہوسکتاہے کہ ،، سبعة احرف ،، کی روایت بھی بعض لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنے ، موطا میں یہ روایت اس طرح بیان ہوئی ہے ،، عن عبدالحمن بن عبدالقاری...

نیشن سٹیٹ اور غامدی صاحب

نیشن سٹیٹ اور غامدی صاحب

ڈاکٹر تزر حسین غامدی صاحب اور حسن الیاس جب نیشن سٹیٹ کی بات کرتے ہیں تو وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ہم نشین سٹیٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے دینی فکر میں موجود اصظلاحات جدید دور میں قابل عمل نہیں اور اس چیز نے دینی فکر کو جمود کا شکار کردیا ہے۔ انکی...

غامدی صاحب کے تصور بیان کی اصولی مشکلات: “تاخیر البیان” کی روشنی میں

غامدی صاحب کے تصور بیان کی اصولی مشکلات: “تاخیر البیان” کی روشنی میں

ڈاکٹر زاہد مغل برادر عمار خان ناصر صاحب نے اپنی کتاب "قرآن و سنت کا باہمی تعلق" کا ایک باب مولانا حمید الدین فراہی و مولانا امین احسن اصلاحی صاحبان اور ایک جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور بیان پر لکھ کر ان کی خصوصیات لکھی ہیں۔ آپ نے امام شافعی کے لسانیاتی منہج بیان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 25)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 24)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اپنے مدرسہِ فکر کی تعریف میں یوں مدح وثنا کی حدکرتے ہیں کہ ،، قران مجید پراگر اس کی نظم کی روشنی میں تدبّر کیا جائے تو اس کے داخلی شواہد بھی پوری قطعیت کے ساتھ یہی فیصلہ سناتے ہیں ۔مدرسہِ فراہی کے اکابر اہلِ علم نے جو کام اس زمانے میں قران...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 25)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 23)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے جو روایت ابوعبدالرحمن السلمی کے نام سے پیش کی ہے  اس کے اخر میں یہ الفاظ ہیں ،، وکان زید قدشھد العرضة الاخیرة وکان یقرئ الناس بھا حتی مات ( میزان ص 29) اس روایت کی ابتدا میں بھی زید بن ثابت کا نام موجودہے مگر احباب کو یہ دیکھ کر بہت لطف...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 25)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 22)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اسی سلسلے میں اگے لکھتے ہیں کہ ،، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کی قراءت یہی تھی ۔ آپ کے بعد خلفاء راشدین تمام صحابہ ، مہاجرین وانصار اسی کے مطابق قران کی تلاوت کرتے تھے ، اس معاملے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا ،...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…