غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

مولانا واصل واسطی ہم اس وقت ،، حدیث وسنت ،، کے موضوع سے ایک اور بحث کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جناب غامدی نے ،، حدیث اور سنت ،، نے مبحث کو مختلف مقامات میں پھیلا رکھاہے۔درمیان میں دیگر مباحث چھیڑ دیئے ہیں ، ہم بھی انہیں کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جاوید غامدی نے...

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

گل رحمان ہمدرد غامدی صاحب نے مقامات میں دبستانِ شبلی کے بارے بتایا ہے کہ اس کے دو اساسی اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ دین کی حقیقت جاننے کےلیۓ ہمیں پیچھے کی طرف جانا ہوگا ”یہاں تک کہ اُس دور میں پہنچ جاٸیں جب قرآن اتر رہا تھا اور جب خدا کا آخری پیغمبر خود انسانوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپر جناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے کہ ،، چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہوسکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیاجاسکتاہے (میزان ص15) میں نے کہیں جناب غامدی کا اپنا قول غالبا،، اشراق ،، کے کسی شمارے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی صاحب آگے اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں کہ  " دین لاریب انھی دوصورتوں میں ہے ۔ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جاسکتاہے ( میزان ص15)" ہم عرض کرتے ہیں کہ جناب غامدی نے دین کو بہت مختصر کر دیا ہے  کیونکہ جن 25 سنن کو انھوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 6)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 3)

مولانا واصل واسطی گذشتہ بحث سے معلوم ہوا کہ جناب غامدی نے ،، سنت ،، کی صرف الگ اصطلاح ہی نہیں بنائی ، بلکہ اس میں ایسے تصرفات بھی کیے ہیں جن کی بنا پر وہ بالکل الگ چیز بن گئی ہے ۔ دیکھئے کہ فقھاء اوراصولیین کی ایک جماعت نے بھی ،، حدیث ،، اور ،، سنت ،، میں فرق کیا ہے ۔...

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب  کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

وقار اکبر چیمہ   تعارف دینِ اسلام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انسان کو عطاء کئے گئے مال میں سے صرف ایک تہائی پر اسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کی وصیت جس کو چاہے کر سکتا ہے۔ جبکہ باقی مال اس کی موت کے بعد اسی وراثت کے قانون کے تحت تقسیم کیا جائے گا جسے اللہ نے...

علی کاظمی

عمار خان ناصر صاحب نے اپنی فاضلانہ کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں غامدی صاحب کی آراء کو مین سٹریم کرنے کی انتھک مساعی کی ہیں اور غامدی صاحب کی اصولی پوزیشن کی کہیں شافعی مکتب کے ساتھ مماثلت کے مظہر تراشے ہیں کہیں حنفی اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ھوسکی وہاں امام شاطبی کا سہارا لیا گیا ۔
اور ان تمام تر کاوشوں سے تاثر ایسا ابھرتا ہے گویا غامدی صاحب ایک کاسٹیوم ہیں اور عمار صاحب ان کو مختلف رنگ کے ” چولہ ” پہنا کر دیکھ رہے ہیں کہ اس چولہ میں وہ مین سٹریم ھوتے ہیں یا نہیں لیکن جب نہیں ھوتے تو دوسرا شافعی چولہ پہنا کر پھر دیکھتے ہیں اور بالاخر مایوسی سی ھونے لگتی ہے انہیں ۔
غامدی صاحب کے اصول اتنے زگ زیگ ہیں کہ وہ اصولی پوزیشن میں احناف کے قریب ھوتے ہیں ، جزوی وفرعی پوزیشن میں شوافع کے قریب ھوتے ہیں اور تطبیقی حیثیت میں امام شاطبی سے آنکھیں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ اور یہ تمام امور عمار صاحب نے لکھے ہیں ۔
لیکن حقیقتا اگر غامدی صاحب کا فہم سنت کسی اسکول سے گہری مماثلت رکھتا ہے تو وہ” خو ا ر ج ” ہیں ۔ خوارج کے فہم سنت کے بارے میں عمار صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اصالتا ۔لیکن اخبار آحاد کے ظاہر قران کے خلاف دکھائی دینے کے حوالے سے وہ ان اخبار کا” کلیتا ” انکار کرتے ہیں ۔
” خوارج مالکیہ اور احناف کے نقطہ نظر میں ایک
بنیادی فرق یہ تھا کہ خوارج ظاہر قران کے خلاف
دکھائی دینے والی اخبار آحاد کو رد کرنے میں اخبار
آحادکے درجہ ثبوت اور امت میں عمومی قبولیت سے
کلیتا صرف نظر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مسح علی
الخففین ، رجم اور نصاب سرقہ وغیرہ سے متعلق متفق
علیہ روایات کو بھی رد کر دیتے تھے ۔ جبکہ مالکیہ ،
احناف یہ سوال اس صورت میں اٹھاتے تھے جب ظاہر
قران کے معارض روایت کوئی غریب اور غیر معروف
روایت ھو ” ۔
قران وسنت کا باھمی تعلق/ ص78
مذکورہ بالا حوالہ کی روشنی میں اگر غامدی صاحب کا رویہ اخبار آحاد کے ساتھ تعمل کے طور پر ، اور پھر ان کو بڑی تعداد میں رد کرنے ( کلیتا تقریبا ) کے حوالے سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب کا اسکول صرف اور صرف خوارج کے ساتھ گہری مماثلت رکھتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…