قرآن و سنت کا باہمی تعلق

Published On November 26, 2025
شیخ ابن عربی کے تصور “نبوت عامہ” پر غامدی صاحب کا تبصرہ

شیخ ابن عربی کے تصور “نبوت عامہ” پر غامدی صاحب کا تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے شیخ کے تصور نبوت عامہ اور تصوف متبادل دین ہونے کے اپنے دعوے پر ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کی اس نئی ویڈیو میں ایسی کوئی نئی علمی بات نہیں جس کا جواب کتاب میں نہ دے دیا گیا ہو اور اس لئے کسی تفصیلی جواب کی ضرورت نہیں۔...

دانش کی کرپشن: غامدی صاحب کے موقف پر ایک نظر

دانش کی کرپشن: غامدی صاحب کے موقف پر ایک نظر

محمد دین جوہر غامدی صاحب: سوسائٹی کی دانش ہی کرپٹ ہو جاتی ہے، بے بصیرت ہو جاتی ہے۔ سوال: دانش کیسے کرپٹ ہوتی ہے؟ جواب: دانش ہی کرپٹ ہوتی ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کو خدا نے پیدا کیا ہوتا ہے برتر ذہانت دے کر، جو صاحب مطالعہ ہوتے ہیں، چیزوں پر غور و خوض کرتے ہیں، جو رہنمائی کے...

قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ میں پیش کردہ مختلف اصولی تصورات، مثلاً ’تصور کتاب‘،’تصور سنت‘ اور ’تصور فطرت‘ کا علمی وتنقیدی جائز ہ ہم اپنے سابقہ مضامین میں تفصیلاً لے چکے ہیں۔ اسی ضمن میں ہم ان کے’ تصور قرآن ‘کی کجی کو بھی واضح...

اسلام اور تجدد پسندی

اسلام اور تجدد پسندی

ڈاکٹر محمد امین مغربی تہذیب کے غلبے کے نتیجے میں جب اہل مغرب نے مسلمان ممالک پر قبضہ کر لیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اس وقت تک جو صورت حال ہے کہ مغربی استعمار بظاہر مسلم ممالک سے نکل گیا ہے لیکن اپنا تہذیبی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی تسلط بہرحال اس نے مسلم دنیا پر...

معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں

معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی کے بعض ارشادات کے حوالے سے جو گفتگو کچھ عرصے سے چل رہی ہے اس کے ضمن میں ان کے دو شاگردوں جناب معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں کچھ مزید خیالات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں...

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط چہارم

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط چہارم

(ڈاکٹر حافظ محمد زبیر) امام ابن قیمؒ کا موقف امام صاحب سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کے قائل نہیں ہیں اور سنت کو ہر صورت میں قرآن کا بیان ہی ثابت کرتے ہیں۔ امام ابن قیمؒ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ متقدمین علمائے سلف تخصیص ‘تقیید وغیرہ کے لیے بھی نسخ کا لفظ استعمال کر...

علی کاظمی

قران وسنت ( حدیث ) کا باھمی تعلق تابع ومتبوعیت یا حاکم ومحکومیت کا نہیں ، دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ہیں۔
جاوید احمد غامدی صاحب کا ایک کلپ آج کل گردش میں ہے جس میں وہ “اہل بیت کی تعیین اور مصداق” کے حوالے سے موجود احادیث وروایات کو قران کے” تابع اور محکوم” قرار دے کر ان کو خلاف قران ثابت کرتے ہیں پھر ان کی اس بنیاد پر نفی کرتے ہیں ۔
اس حوالہ سے اصولی بات یہ ہے کہ سنت واحادیث کا قران سے باھمی تعلق تابع ومتبوعیت کا نہیں ہے بلکہ دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ومطاع کی حیثیت رکھتے ہیں ( ثقاھت واستناد کے حوالہ سے احادیث کے درجات میں تفاوت کا اعتبار کرتے ھوئے )
اور حدیث کے زریعہ قران سے کسی زائد موقف کا مستقلا استدلال استخراج واستنباط کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک اصولی مسلمہ ہے۔اور اس طرح کی ہزاروں مثالیں فقہ وکلام میں موجود ہیں جس میں حدیث کے زریعہ قران سے زائد واضافہ پر مبنی احکام کی تخریج کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حدیث قران کے اجمال وابہام کی تشریح وتفسیر ، اس کے عموم کی تخصیص ، اس کے مطلق کی تقیید ، اس کے اماکن ورجال کی تعیین کا بھی ایک مستقل مربوط واصولی نظم رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب کی حال ھی میں آنے والی کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں عمار صاحب نے اس طرح کی تابعیت ومتبوعیت کے نظریہ کو “خارجیانہ حرفیت پسندی” قرار دیا ہے جس میں حدیث یہاں تک خبر واحد کے زریعہ بھی کیے جانے والے زوائد واضافہ جات کے انکار کا رویہ اپنایا گیا ھو۔
عمار صاحب نے کم وبیش دس ایسی مثالیں ذکر کرنے کے بعد جس میں خوارج نے قران کے ظاہر سے ٹکرانے والی احادیث اور اس سے مستنبط شدہ احکام کا انکار کرتے ھوئے ایسی کمی بیشی کا انکار کیا ہے کے طرز عمل پر نقد کیا ہے۔اور اس کے مقابلے میں صحابہ وتابعین کے عمل کو معیاری قرار دیا گیا ہے ۔
غامدی صاحب اگرچہ سنت کو اپنے مخصوص فہم میں قران سے مقدم مانتے ہیں اور ایک مخصوص دائرہ میں خبر واحد کی حجیت کے بھی قائل ہیں لیکن ان کی “حقیقی اصول پسندی” یہ ہے کہ “غامدی صاحب کے کوئی اصول نہیں” اور اپنی قطعی ، سنت متواترہ ، اتمام حجت ، جیسی مصطلحات سے وہ کسی دینی امر کو چیستاں بنانے کے علاوہ کسی اور دینی تحقیق ، اور اسکالر شپ کا فریضہ انہوں نے سرانجام نہیں دیا ۔
اور ان مصطلحات کو انہوں کیمو فلاج اور شکار کرنے کے لیے اپنا رکھا ہے ورنہ ان کا اصل اصول ” تناظر اور سیچویشن ” ہے ۔ وہ ایک تناظر میں کوئی اور بات کہتے ہیں دوسری صورتحال موجود ھو تو اپنی استدلالی ملمع سازی کے ساتھ پورے اہتمام و ثقاھت کے ساتھ دوسرا نقطہ نظر اپنا لیتے ہیں۔
مذکورہ وڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی ابہام گوئی اپنے عروج پر ہے اور وہ اھل بیت کی تعیین میں حدیث کساء اور دیگر روایات کو ایک عمومی غیر اصولی اصطلاح کی بھینٹ چڑھا کر ( قران کی تابعیت نامی ) آگے بڑھ جاتے ہیں اور اس امر کی کوئی تنقیح نہیں کرتے کہ خود ان کی “مصطلحات ” ( برہان ومیزان ) میں خبر واحد کے جو مستعملات ہیں تبیین تخصیص تنسیخ زیادت ان مصلحات واصول کی رو سے یہ حدیث کس درجہ پر فائز ہے اور اس کے انکار کی وجوھات واسباب کیا ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…