قرآن و سنت کا باہمی تعلق

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے اسی مسئلے پرآگے لکھا ہے کہ بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ، چنگال والے پرندوں ، اورپالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایاہے ۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے   جس کا علم انسان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 39)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی ،،طیبات اورخبائث ،، کی اس مبحث کو بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ،، جانوروں کی حلت وحرمت میں شریعت کا موضوع اصلا یہی چارہی چیزیں ہیں ۔چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ،، قل لااجد فی ما اوحی الیّ ،، اور بعض جگہ ،، انما ،، کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 38)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی طیبات اورخبائث کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے اگے لکھتے ہیں ،، چانچہ شریعت کا موضوع اس باب میں صرف وہ جانوراور ان کے وہ متعلقات  ہیں   جن کی حلت وحرمت کا فیصلہ تنہا عقل وفطرت کی راہنمائی میں کرلینا انسان کےلیے ممکن نہ تھا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 37)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ  جناب غامدی صاحب  اپنی  باتیں اس طرح پیش کرتے ہیں  جیسے وہ دنیا کے مسلمہ حقائق ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ،، انسانوں کی عادات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی بڑی تعداد اس معاملے   یعنی طیبات اور خبائث کے پہچاننے کے معاملے ،،...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 36)

مولانا واصل واسطی جمہورامت اس بات پر متفق ہیں  کہ مذکورہ تحریر میں درج  قرانی آیت مخصوص بالحدیث ہے۔  حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے مقامات میں جمع بین الصلواتین ثابت ہے ، جمع تقدیم بھی ثابت ہے اورجمع تاخیر بھی ۔ ہاں اس میں بحث بہرحال موجود ہے کہ یہ سنت ہے یا مستحب ہے یا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 40)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 35)

مولانا واصل واسطی اب ان مذکورہ سوالات کے بعد ایک اور بات کی طرف ہم دوستوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں ۔ اس کےبعد ہم اس دوسرے مسئلے کی طرف متوجہ ہونگے  جو جناب غامدی نے اس ،، قاعدے ،، کی مدد سے حل کیا ہے ۔ وہ بات یہ ہے کہ ہم جناب غامدی سے اس بات میں ( کچھ وقت کےلیے )...

علی کاظمی

قران وسنت ( حدیث ) کا باھمی تعلق تابع ومتبوعیت یا حاکم ومحکومیت کا نہیں ، دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ہیں۔
جاوید احمد غامدی صاحب کا ایک کلپ آج کل گردش میں ہے جس میں وہ “اہل بیت کی تعیین اور مصداق” کے حوالے سے موجود احادیث وروایات کو قران کے” تابع اور محکوم” قرار دے کر ان کو خلاف قران ثابت کرتے ہیں پھر ان کی اس بنیاد پر نفی کرتے ہیں ۔
اس حوالہ سے اصولی بات یہ ہے کہ سنت واحادیث کا قران سے باھمی تعلق تابع ومتبوعیت کا نہیں ہے بلکہ دونوں مستقل بالذات تشریعی ماخذ ومطاع کی حیثیت رکھتے ہیں ( ثقاھت واستناد کے حوالہ سے احادیث کے درجات میں تفاوت کا اعتبار کرتے ھوئے )
اور حدیث کے زریعہ قران سے کسی زائد موقف کا مستقلا استدلال استخراج واستنباط کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک اصولی مسلمہ ہے۔اور اس طرح کی ہزاروں مثالیں فقہ وکلام میں موجود ہیں جس میں حدیث کے زریعہ قران سے زائد واضافہ پر مبنی احکام کی تخریج کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حدیث قران کے اجمال وابہام کی تشریح وتفسیر ، اس کے عموم کی تخصیص ، اس کے مطلق کی تقیید ، اس کے اماکن ورجال کی تعیین کا بھی ایک مستقل مربوط واصولی نظم رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب کی حال ھی میں آنے والی کتاب ” قران وسنت کا باھمی تعلق ” میں عمار صاحب نے اس طرح کی تابعیت ومتبوعیت کے نظریہ کو “خارجیانہ حرفیت پسندی” قرار دیا ہے جس میں حدیث یہاں تک خبر واحد کے زریعہ بھی کیے جانے والے زوائد واضافہ جات کے انکار کا رویہ اپنایا گیا ھو۔
عمار صاحب نے کم وبیش دس ایسی مثالیں ذکر کرنے کے بعد جس میں خوارج نے قران کے ظاہر سے ٹکرانے والی احادیث اور اس سے مستنبط شدہ احکام کا انکار کرتے ھوئے ایسی کمی بیشی کا انکار کیا ہے کے طرز عمل پر نقد کیا ہے۔اور اس کے مقابلے میں صحابہ وتابعین کے عمل کو معیاری قرار دیا گیا ہے ۔
غامدی صاحب اگرچہ سنت کو اپنے مخصوص فہم میں قران سے مقدم مانتے ہیں اور ایک مخصوص دائرہ میں خبر واحد کی حجیت کے بھی قائل ہیں لیکن ان کی “حقیقی اصول پسندی” یہ ہے کہ “غامدی صاحب کے کوئی اصول نہیں” اور اپنی قطعی ، سنت متواترہ ، اتمام حجت ، جیسی مصطلحات سے وہ کسی دینی امر کو چیستاں بنانے کے علاوہ کسی اور دینی تحقیق ، اور اسکالر شپ کا فریضہ انہوں نے سرانجام نہیں دیا ۔
اور ان مصطلحات کو انہوں کیمو فلاج اور شکار کرنے کے لیے اپنا رکھا ہے ورنہ ان کا اصل اصول ” تناظر اور سیچویشن ” ہے ۔ وہ ایک تناظر میں کوئی اور بات کہتے ہیں دوسری صورتحال موجود ھو تو اپنی استدلالی ملمع سازی کے ساتھ پورے اہتمام و ثقاھت کے ساتھ دوسرا نقطہ نظر اپنا لیتے ہیں۔
مذکورہ وڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی ابہام گوئی اپنے عروج پر ہے اور وہ اھل بیت کی تعیین میں حدیث کساء اور دیگر روایات کو ایک عمومی غیر اصولی اصطلاح کی بھینٹ چڑھا کر ( قران کی تابعیت نامی ) آگے بڑھ جاتے ہیں اور اس امر کی کوئی تنقیح نہیں کرتے کہ خود ان کی “مصطلحات ” ( برہان ومیزان ) میں خبر واحد کے جو مستعملات ہیں تبیین تخصیص تنسیخ زیادت ان مصلحات واصول کی رو سے یہ حدیث کس درجہ پر فائز ہے اور اس کے انکار کی وجوھات واسباب کیا ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…