یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

Published On November 26, 2025
سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

حسن بن علی غامدی صاحب کا فکر فراہی کے تحت یہ دعوی ہے کہ حدیث قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کر سکتی (نہ تخصیص کر سکتی ہے نہ تنسیخ) اور چونکا رسول کی ذمہ داری بیان احکام مقرر کی گئی ہے (لتبين للناس ما نزل عليهم؛ ترجمہ: تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کر دیں جو آپ پر نازل ہوا) اور...

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

مفتی منیب الرحمن معراج کب ہوئی‘ اس کے بارے میں ایک سے زائدا قوال وروایات ہیں ‘ لیکن روایات کا یہ اختلاف واقعہ کی حقانیت پر اثرانداز نہیں ہوتا‘ کیونکہ اصل مقصود واقعے کا حق ہونا اور اس کا بیان ہے‘ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے تاریخ کا بیان ثابت نہیں ہے‘...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

مفتی منیب الرحمن جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :۔ چوں فنا اندر رضائے حق شود  بندۂ مومن قضائے حق شود  یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروقؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

مفتی منیب الرحمن دعا بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہوحتیٰ کہ گونگا بھی ہو‘ وہ اپنے رب سے براہِ راست التجا کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی...

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

ناقد : کاشف علی تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو...

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء   غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے نزدیک یزید ملوکیت اور انارکیت میں سے اھون البلیتین کے تحت ملوکانہ انتخاب تھا ۔
اب اگر غامدی صاحب کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو دو سوال یہاں پیدا ھوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(یاد رہے کہ یہ سوال غامدی صاحب کی اس توجیہ پر کھڑے ھوتے ہیں ۔ ھمارا اصولی موقف اس سے الگ ہے )
۔۔۔۔۔۔۔
1) یزید سے قبل 20 سال کہ پر امن دور اقتدار ( جس میں کوئی داخلی چیلنج یا اپوزیشن موجود نہیں تھی ) کے باوجود اتنی انارکی اور انتشار کیوں تھا اور اگر کوئی ایسی چیز موجود تھی تو 20 سال میں اس پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا کہ اگلے امیر کے انتخاب کے لیے آپ کے پاس انارکی کے سوا کوئی آپشن ھی موجود نہیں تھے ؟
2) چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ انارکی اور انتشار کے خوف اور اس سے بچاو کے لیے یزید کو منتخب کر لیا گیا لیکن کیا یہ فیصلہ درست ثابت ھوا ؟ اور یہ انتشار ختم ھوگیا ؟ اور یزید کو منتخب کرنے سے انتشار انارکی اور لاقانونیت کا خاتمہ ھوگیا ۔ ؟
یقینا اس کا جواب نفی میں ہے ۔ یزید کے اقتدار میں آنے کے بعد اگلے صرف دس سال میں اتنے بڑے بڑے داخلی حادثے اور واقعات ھوئے کہ اس نے امت میں انارکی اور انتشار کی مستقل بنیادیں اور جڑیں کھود ڈالی ۔
زرا ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں
(1) 60 سے 65 ہجری کے درمیان مسلمانوں کے چار خلیفہ تبدیل ھوئے ۔
(2) دمشق ، عراق ، خراسان ، حجاز ، یمن تمام علاقوں میں پرتشدد اور خونی جھگڑے شروع ھوگئے ۔
(3) واقعہ کربلا ، واقعہ حرہ ، کعبہ پر سنگ باری ، توابین کے جنگی حملہ مختار ثقفی کا انتقام ، امویوں کی سفیانی ومروانی شاخ میں لڑائی ، معرکہ مرج راہط ، مروان کا بیڈ روم میں کنیزوں کے ساتھ داد سجاعت دیتے ھوئے اپنی بیوی کے ھاتھوں قتل ، حضرت ابن زبیر کا پورے عالم اسلامی کا کنترول اور پھر اس کا چھن جانا ۔
(4) مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے حج کے موقع پر ایک جھنڈے تلے جمع ھونے کی بجائے چار جھنڈوں کے تحت تقسیم کا عمل جس میں محمد بن حنفیہ کا علم الگ ، ابن زبیر کا علم الگ ، امویوں کا علم الگ اور خوارج کے علم الگ بلند ھوا ۔
تو ان حالات کے پیش نظر غامدی صاحب کا یہ نظری فلسفہ حقائق کی دنیا میں کہاں سٹینڈ کرتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.