یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 59)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 59)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے اسی ملت یاسنتِ ابراہیمی کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ ،، زکوة ان کے ہاں بالکل اسی طرح ایک متعین حق تھی جس طرح اب متعین ہے ( میزان ص 45) اس بات کی ثبوت میں سورة المعارج کی آیت 27 ،، وفی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم ،، کا حوالہ دیا ہے ۔...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 59)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 58)

مولانا واصل واسطی روزہ میں مباشرت اورلزومِ کفارہ کی بات ہم اگے کرلیں گے   فی الحال ایک اوربات کی طرف ہم لوگوں  کو متوجہ کرنا چاھتے ہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ ،، تبیین ،، سنت ،، اور،، آحادیث ،،  کے متعلق ہم نے جناب غامدی کی طویل عبارتیں پہلے پیش کی ہیں جس میں انہوں نے چند...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 57)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 57)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی روزہ کو بھی ان سنن میں داخل کرتے ہیں   جوان کے بقول ،، دینِ ابراہیمی ،، کے باقیات میں سے ہے ۔ہم اس کے متعلق چند باتیں کرتے ہیں (1)  پہلی بات یہ ہے کہ جناب غامدی کو اس سنت کے اثبات کےلیے کہ ،، روزہ ،، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی نبوت سے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 57)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 56)

مولانا واصل واسطی ہم نے گذشتہ قسط میں روزہ کے متعلق جناب غامدی کے تصورکا جائزہ لیا ہے۔ اس میں بہت ساری دیگر باتیں آگئی ہیں   اس لیے بات پوری نہیں ہو سکی تھی۔ اب ہم اسی روزے کے تعلق سے چند مزید باتیں ادھر عرض کرتے ہیں  (1) پہلی بات یہ ہے کہ جناب غامدی نے روزہ کے بارے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 57)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 55)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم ، روزہ ، وغیرہ پر بات کریں گے ۔ جناب غامدی روزے کے متعلق لکھتے ہیں ،، وہ روزہ اسی طرح رکھتے تھے جس  طرح اب ہم رکھتے ہیں ( میزان ص 45) یہ بات بھی جناب غامدی نے حافظ محب کی کتاب سے لی ہے ۔مگر اس بات کے لیے حوالہ دینے میں خوب ڈندی ماری ہے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 57)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 54)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگلی چیز یعنی سنتِ ابراہیمی نمازِجنازہ کو قرار دیتے ہیں ۔لکھاہے کہ ،، نمازِجنازہ بھی وہ پڑھتے تھے ( میزان ص 45) اس بات کے لیے جناب نے جواد علی کی ،، المفصل فی تاریخ العرب ،، کاحوالہ دیا ہے ۔ یہ کتاب ہمارے پاس نہیں ہے ،نہ ہم نے دیکھی ہے  اس...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے نزدیک یزید ملوکیت اور انارکیت میں سے اھون البلیتین کے تحت ملوکانہ انتخاب تھا ۔
اب اگر غامدی صاحب کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو دو سوال یہاں پیدا ھوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(یاد رہے کہ یہ سوال غامدی صاحب کی اس توجیہ پر کھڑے ھوتے ہیں ۔ ھمارا اصولی موقف اس سے الگ ہے )
۔۔۔۔۔۔۔
1) یزید سے قبل 20 سال کہ پر امن دور اقتدار ( جس میں کوئی داخلی چیلنج یا اپوزیشن موجود نہیں تھی ) کے باوجود اتنی انارکی اور انتشار کیوں تھا اور اگر کوئی ایسی چیز موجود تھی تو 20 سال میں اس پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا کہ اگلے امیر کے انتخاب کے لیے آپ کے پاس انارکی کے سوا کوئی آپشن ھی موجود نہیں تھے ؟
2) چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ انارکی اور انتشار کے خوف اور اس سے بچاو کے لیے یزید کو منتخب کر لیا گیا لیکن کیا یہ فیصلہ درست ثابت ھوا ؟ اور یہ انتشار ختم ھوگیا ؟ اور یزید کو منتخب کرنے سے انتشار انارکی اور لاقانونیت کا خاتمہ ھوگیا ۔ ؟
یقینا اس کا جواب نفی میں ہے ۔ یزید کے اقتدار میں آنے کے بعد اگلے صرف دس سال میں اتنے بڑے بڑے داخلی حادثے اور واقعات ھوئے کہ اس نے امت میں انارکی اور انتشار کی مستقل بنیادیں اور جڑیں کھود ڈالی ۔
زرا ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں
(1) 60 سے 65 ہجری کے درمیان مسلمانوں کے چار خلیفہ تبدیل ھوئے ۔
(2) دمشق ، عراق ، خراسان ، حجاز ، یمن تمام علاقوں میں پرتشدد اور خونی جھگڑے شروع ھوگئے ۔
(3) واقعہ کربلا ، واقعہ حرہ ، کعبہ پر سنگ باری ، توابین کے جنگی حملہ مختار ثقفی کا انتقام ، امویوں کی سفیانی ومروانی شاخ میں لڑائی ، معرکہ مرج راہط ، مروان کا بیڈ روم میں کنیزوں کے ساتھ داد سجاعت دیتے ھوئے اپنی بیوی کے ھاتھوں قتل ، حضرت ابن زبیر کا پورے عالم اسلامی کا کنترول اور پھر اس کا چھن جانا ۔
(4) مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے حج کے موقع پر ایک جھنڈے تلے جمع ھونے کی بجائے چار جھنڈوں کے تحت تقسیم کا عمل جس میں محمد بن حنفیہ کا علم الگ ، ابن زبیر کا علم الگ ، امویوں کا علم الگ اور خوارج کے علم الگ بلند ھوا ۔
تو ان حالات کے پیش نظر غامدی صاحب کا یہ نظری فلسفہ حقائق کی دنیا میں کہاں سٹینڈ کرتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.