یزید کا انتخاب : اھون البلیتین ؟

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی دوباتیں باربار دہراتے ہیں مگر ان کے لیے دلائل فراہم کرنا اپنی ذمہ داری نہیں مانتے ۔ایک بات جو ابھی ابھی گذری ہے  کہ قران کے الفاظ کی دلالات اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہیں ، وہ جوکچھ کہنا چاھتاہے  پوری قطعیت کے ساتھ کہتاہے اور کسی معاملے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 14)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی جیساکہ گزرا تمام الفاظ ، جمل ، اورتراکیب و اسالیب کو قطعی الدلالة قراردیتے ہیں ۔انھوں فخرِرازی کی ایک عبارت نقل کی ہے جو ان کے ،، استاد امام ،، نے بھی نقل کی ہے کہ کلامِ لفظی مفیدِقطع ویقین نہیں ہے ۔فخرِرازی کی اس بات پر جناب غامدی نے شاہ...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

ڈاکٹر خضر یسین ہر سنجیدہ متن میں "نظم کلام" بہت ضروری شے ہوتا ہے۔ متن کی نوعیت چاہے علمی ہو، عملی ہو، ادبی ہو یا روحانی، "نظم کلام" کے بغیر قابل فہم ہی نہیں، قابل قرآت بھی نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں بھی "نظم کلام" موجود ہے۔ یہ نظم "سیاق کلام" کا پیدا کردہ ہے۔ غامدی صاحب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 15)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 13)

مولانا واصل واسطی ہم نے گذشتہ پوسٹ میں قران کے قطعی الدلالة ہونے کی طرف اشارہ کیا تھا ، کہ قران کی تمام آیات اپنے مفہوم میں قطعی الدلالة نہیں ہیں ، بعض الفاظ ، اسالیب اور تراکیب ظنی الدلالة بھی ہوتے ہیں ، لیکن جناب غامدی قران کی تمام آیات اور تمام کلمات کو قطعی...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط نہم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب قرآن مجید کو ہدایت کے بجائے دعوت مانتے ہیں، نہیں صرف دعوت ہی نہیں بلکہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگزشت انذار کا عنوان دیتے ہیں۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مابعد دور رسالت میں قرآن مجید کی حیثیت الوہی ہدایت کے بجائے، نبی صلی اللہ علیہ...

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

بیان کی بحث پر غامدی صاحب اور ان کے مدافعین کا خلط مبحث

ڈاکٹر زاہد مغل اس پر ہم پہلے بھی روشنی ڈال چکے ہیں، مزید وضاحت کی کوشش کرتے ہیں۔ محترم غامدی صاحب کا فرمایا ہے کہ تبیین کا مطلب کلام کے اس فحوی کو بیان کرنا ہے جو ابتدا ہی سے کلام میں موجود ہو۔ کلام کے وجود میں آجانے کے بعد کیا جانے والا کسی بھی قسم کا تغیر تبیین نہیں...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے نزدیک یزید ملوکیت اور انارکیت میں سے اھون البلیتین کے تحت ملوکانہ انتخاب تھا ۔
اب اگر غامدی صاحب کے اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو دو سوال یہاں پیدا ھوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(یاد رہے کہ یہ سوال غامدی صاحب کی اس توجیہ پر کھڑے ھوتے ہیں ۔ ھمارا اصولی موقف اس سے الگ ہے )
۔۔۔۔۔۔۔
1) یزید سے قبل 20 سال کہ پر امن دور اقتدار ( جس میں کوئی داخلی چیلنج یا اپوزیشن موجود نہیں تھی ) کے باوجود اتنی انارکی اور انتشار کیوں تھا اور اگر کوئی ایسی چیز موجود تھی تو 20 سال میں اس پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا کہ اگلے امیر کے انتخاب کے لیے آپ کے پاس انارکی کے سوا کوئی آپشن ھی موجود نہیں تھے ؟
2) چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ انارکی اور انتشار کے خوف اور اس سے بچاو کے لیے یزید کو منتخب کر لیا گیا لیکن کیا یہ فیصلہ درست ثابت ھوا ؟ اور یہ انتشار ختم ھوگیا ؟ اور یزید کو منتخب کرنے سے انتشار انارکی اور لاقانونیت کا خاتمہ ھوگیا ۔ ؟
یقینا اس کا جواب نفی میں ہے ۔ یزید کے اقتدار میں آنے کے بعد اگلے صرف دس سال میں اتنے بڑے بڑے داخلی حادثے اور واقعات ھوئے کہ اس نے امت میں انارکی اور انتشار کی مستقل بنیادیں اور جڑیں کھود ڈالی ۔
زرا ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں
(1) 60 سے 65 ہجری کے درمیان مسلمانوں کے چار خلیفہ تبدیل ھوئے ۔
(2) دمشق ، عراق ، خراسان ، حجاز ، یمن تمام علاقوں میں پرتشدد اور خونی جھگڑے شروع ھوگئے ۔
(3) واقعہ کربلا ، واقعہ حرہ ، کعبہ پر سنگ باری ، توابین کے جنگی حملہ مختار ثقفی کا انتقام ، امویوں کی سفیانی ومروانی شاخ میں لڑائی ، معرکہ مرج راہط ، مروان کا بیڈ روم میں کنیزوں کے ساتھ داد سجاعت دیتے ھوئے اپنی بیوی کے ھاتھوں قتل ، حضرت ابن زبیر کا پورے عالم اسلامی کا کنترول اور پھر اس کا چھن جانا ۔
(4) مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے حج کے موقع پر ایک جھنڈے تلے جمع ھونے کی بجائے چار جھنڈوں کے تحت تقسیم کا عمل جس میں محمد بن حنفیہ کا علم الگ ، ابن زبیر کا علم الگ ، امویوں کا علم الگ اور خوارج کے علم الگ بلند ھوا ۔
تو ان حالات کے پیش نظر غامدی صاحب کا یہ نظری فلسفہ حقائق کی دنیا میں کہاں سٹینڈ کرتا ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.