جاوید غامدی صاحب کی بے ربطگیاں

Published On November 26, 2025
تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

حسان بن علی اور یہ واضح رہے کہ انکارِ حجیتِ حدیث کے حوالے سے غلام احمد پرویز، اسی طرح عبداللہ چکڑالوی کا درجہ ایک سا ہے کہ وہ اسے کسی طور دین میں حجت ماننے کے لیے تیار نہیں (غلام احمد پرویز حديث کو صرف سیرت کی باب میں قبول کرتے ہیں، دیکھیے کتاب مقام حدیث) اور اس سے کم...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ماضی کی ایک اور شخصیت غلام قادیانی، حدیث کے مقام کے تعین میں لکھتے ہیں : "مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لیے تین چیزیں ہیں. ١) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جسے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں "قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر...

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

ڈاکٹر زاہد مغل حدیث کی کتاب کو جس معنی میں تاریخ کی کتاب کہا گیا کہ اس میں آپﷺ کے اقوال و افعال اور ان کے دور کے بعض احوال کا بیان ہے، تو اس معنی میں قرآن بھی تاریخ کی کتاب ہے کہ اس میں انبیا کے قصص کا بیان ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ...

کیا غامدی صاحب منکرِ حدیث نہیں ؟

کیا غامدی صاحب منکرِ حدیث نہیں ؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے جو غالی معتقدین ان کی عذر خواہی کی کوشش کررہے ہیں، وہ پرانا آموختہ دہرانے کے بجاے درج ذیل سوالات کے جواب دیں جو میں نے پچھلی سال غامدی صاحب کی فکر پر اپنی کتاب میں دیے ہیں اور اب تک غامدی صاحب اور ان کے داماد نے ان کے جواب میں کوئی...

حدیث کی نئی تعیین

حدیث کی نئی تعیین

محمد دین جوہر   میں ایک دفعہ برہان احمد فاروقی مرحوم کا مضمون پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا ”قرآن مجید تاریخ ہے“۔ اب محترم غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ بخاری شریف تاریخ کی کتاب ہے۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو محترم غامدی صاحب قرآن مجید کو بھی تاریخ (سرگزشت انذار) ہی...

علی کاظمی

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو ( جرگہ / سلیم صافی / 2020۔1۔12) میں موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے قرار دیا کہ 1945 دوسری جنگ عظیم ، اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایک مختصر اور عبوری عرصے کے لیے دنیا میں مساوات ، جمہوریت ، حق خود ارادیت ، حریت فکر ، آزادئی اظہار رائے ، اور حقوق انسانی کے فلسفے روبہ عمل رھے ۔
اور پھر اس کے بعد یہ چیزیں محض نعروں ، سلوگنز ، آدرشوں اور نظریوں تک محدود ھوگئی اور دنیا پھر ایک بار سلطنیت ، ملوکیت ، آمریت ، اجباریت وعصبیت کی طرف لوٹ آئی ۔
غامدی صاحب کا کہنا تھا حقوق ومساوات کے نعروں سے یورپ کے زمین اور ذہن بھی مکمل طور پر ہموار نہیں تھے بلکہ وہاں بھی ایسے قدامت پسند اور آمرانہ طبع طبقات موجود تھے جنھوں نے ایک مختصر عرصے بعد ھی ان اقدار کو تبدیل کیا اور اس نظریاتی طبقے کو شکست دے کر ، پھر دوبارہ اپنی رومی ومسیحی رومان پرور آمریت وملوکیت کی طرف لوٹ گئے ۔
چنانچہ موجودہ امریکہ ومغرب سیاسی سطح پر اسی مقدس رومی ایمپائر کی ایکسٹینشن ہیں ۔
اور اسی وجہ سے عالمی حالات میں ابتری پائی جاتی ہے ۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ھوئے جناب غامدی نے تاریخ سے مثال پیش کی اور کہا جیسے خلافت راشدہ کا آئیڈیل نظام ایک عبوری عرصے کے لیے ھی قائم رھا اورمحض چالیس سال بعد وہ اسی پرانی عصبیت پر لوٹ گیا ۔ کیونکہ لوگوں نے خلافت راشدہ کے نظام کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھے ۔ کہ ہمیں دوبارہ موقع ملے اور ھم وھی پرانی عصبیت بحال کر دیں ۔
اس سلسلہ میں غامدی صاحب نے صراحتا جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ انھوں نے خلافت کا نظام بدل دیا تھا ۔
یاد رھے کہ غامدی صاحب کی یہ تمام گفتگو سلبی پہلو سے ھو رھی تھی اور وہ ، در اصل نقد کر رھے تھے ، اس تبدیلی اور پرانی عصبیتوں اور ملوکیتوں کی بحالی پر ، اور اس تبدیلی کو ھی معاشرتی وسیاسی عدم توازن وبدتر صورتحال کا موجب بتا رھے تھے اور اس رجوع کے عمل کو ایجابی قرار نہیں دے رھے تھے کہ معروضی حالات کیا تھے ۔ سیاست کی ضروریات کیا تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وہ ایک اصولی سطح کی گفتگو کر رھے تھے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ھو یا نظام خلافت راشدہ یہ محض ایک مختصر عرصے تک قائم رھے اور اس کے بعد دنیا اصل حالت ، عصبیہ جاہلیہ ، سلطنت وبادشاہت کی طرف پلٹ گئی ۔
ھم غامدی صاحب کے موقف پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں سردست کہ یہ موقف کتنا صائب اور تاریخی حقیقتوں سے ھم آھنگ ہے ۔
البتہ غامدی صاحب کی تضاد بیانیوں ، فکری انتشاریوں ، بے ربط مواقیف ، اور غیر منہجی گفتگووں کے حوالے سے عرض کرنا چاھتے ہیں کہ یہی غامدی صاحب جب اپنی مجالس اور اپنے فورم پر واقعہ کربلا پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ اسی عصبیت وملوکیت کو ایک ایجابی چیز قرار دیتے ہیں اور اس کی تحسین کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب امام حسین کے اقدام کربلا کو سیاسی بے بصیرتی ، اور سماجی معروضیت سے مغایر ایک اجتہادی غلطی اور رخصت وگنجائش پر مبنی قدم قرار دیتے ہیں ۔
اور آج ایک قومی فورم پر اس عصبیت کو اخلاق ، قانون ، آدرش ، اقدار سے عاری اور ایک آئیڈل نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایک ٹول بتا رھے ہیں ۔
غامدی صاحب اور ان کے ھم خیال دیگر دانشوروں کا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ وہ ہر دینی امر کو بھی ریٹنگ اور فیشن زدگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق اس کا حل پیش کرتے ہیں ۔
ایسا اس لیے بھی ھوتا ہے کہ یہ حضرات دینی بلکہ دنیاوی علوم پر کوئی بامعنی دسترس اور رسوخ نہیں رکھتے اور ہر جگہ بےتکی اور غیر دائرہ جاتی گفتگو کرتے ہیں ۔
ان کی اصل پہچان بس میڈیا ٹیکنگ کی حد تک ھی ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…