جاوید غامدی صاحب کی بے ربطگیاں

Published On November 26, 2025
قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

تجلی خان میراموضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ...

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عزت مآب جناب عزیز ابن الحسن صاحب نے ایک صاحبِ علم کی تحریر پر میری رائے مانگی ہے۔ چند نکات پیش ِخدمت ہیںاول ۔ یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کے لیے قرآن ہی کی آیات سے استدلال مصادرہ مطلوب کا مغالطہ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جن آیات سے آپ قطعیت...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ گروہ غامدی کی تاویلات (دوم

ڈاکٹر زاہد مغل ان مخالف دلائل کے بعد اب غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کی چند تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ حضرات اپنےدفاع کے لیے پیش کرتے ہیں۔اول: کفر کا جوہر: ’انکار ایمان‘ یا ’عدم اقرار‘؟ درحقیقت غامدی صاحب کے نظریہ کفر کی بنیاد ہی غلط تصور پر قائم ہے۔ چنانچہ گروہ...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

علی کاظمی

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو ( جرگہ / سلیم صافی / 2020۔1۔12) میں موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے قرار دیا کہ 1945 دوسری جنگ عظیم ، اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایک مختصر اور عبوری عرصے کے لیے دنیا میں مساوات ، جمہوریت ، حق خود ارادیت ، حریت فکر ، آزادئی اظہار رائے ، اور حقوق انسانی کے فلسفے روبہ عمل رھے ۔
اور پھر اس کے بعد یہ چیزیں محض نعروں ، سلوگنز ، آدرشوں اور نظریوں تک محدود ھوگئی اور دنیا پھر ایک بار سلطنیت ، ملوکیت ، آمریت ، اجباریت وعصبیت کی طرف لوٹ آئی ۔
غامدی صاحب کا کہنا تھا حقوق ومساوات کے نعروں سے یورپ کے زمین اور ذہن بھی مکمل طور پر ہموار نہیں تھے بلکہ وہاں بھی ایسے قدامت پسند اور آمرانہ طبع طبقات موجود تھے جنھوں نے ایک مختصر عرصے بعد ھی ان اقدار کو تبدیل کیا اور اس نظریاتی طبقے کو شکست دے کر ، پھر دوبارہ اپنی رومی ومسیحی رومان پرور آمریت وملوکیت کی طرف لوٹ گئے ۔
چنانچہ موجودہ امریکہ ومغرب سیاسی سطح پر اسی مقدس رومی ایمپائر کی ایکسٹینشن ہیں ۔
اور اسی وجہ سے عالمی حالات میں ابتری پائی جاتی ہے ۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ھوئے جناب غامدی نے تاریخ سے مثال پیش کی اور کہا جیسے خلافت راشدہ کا آئیڈیل نظام ایک عبوری عرصے کے لیے ھی قائم رھا اورمحض چالیس سال بعد وہ اسی پرانی عصبیت پر لوٹ گیا ۔ کیونکہ لوگوں نے خلافت راشدہ کے نظام کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھے ۔ کہ ہمیں دوبارہ موقع ملے اور ھم وھی پرانی عصبیت بحال کر دیں ۔
اس سلسلہ میں غامدی صاحب نے صراحتا جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ انھوں نے خلافت کا نظام بدل دیا تھا ۔
یاد رھے کہ غامدی صاحب کی یہ تمام گفتگو سلبی پہلو سے ھو رھی تھی اور وہ ، در اصل نقد کر رھے تھے ، اس تبدیلی اور پرانی عصبیتوں اور ملوکیتوں کی بحالی پر ، اور اس تبدیلی کو ھی معاشرتی وسیاسی عدم توازن وبدتر صورتحال کا موجب بتا رھے تھے اور اس رجوع کے عمل کو ایجابی قرار نہیں دے رھے تھے کہ معروضی حالات کیا تھے ۔ سیاست کی ضروریات کیا تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وہ ایک اصولی سطح کی گفتگو کر رھے تھے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ھو یا نظام خلافت راشدہ یہ محض ایک مختصر عرصے تک قائم رھے اور اس کے بعد دنیا اصل حالت ، عصبیہ جاہلیہ ، سلطنت وبادشاہت کی طرف پلٹ گئی ۔
ھم غامدی صاحب کے موقف پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں سردست کہ یہ موقف کتنا صائب اور تاریخی حقیقتوں سے ھم آھنگ ہے ۔
البتہ غامدی صاحب کی تضاد بیانیوں ، فکری انتشاریوں ، بے ربط مواقیف ، اور غیر منہجی گفتگووں کے حوالے سے عرض کرنا چاھتے ہیں کہ یہی غامدی صاحب جب اپنی مجالس اور اپنے فورم پر واقعہ کربلا پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ اسی عصبیت وملوکیت کو ایک ایجابی چیز قرار دیتے ہیں اور اس کی تحسین کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب امام حسین کے اقدام کربلا کو سیاسی بے بصیرتی ، اور سماجی معروضیت سے مغایر ایک اجتہادی غلطی اور رخصت وگنجائش پر مبنی قدم قرار دیتے ہیں ۔
اور آج ایک قومی فورم پر اس عصبیت کو اخلاق ، قانون ، آدرش ، اقدار سے عاری اور ایک آئیڈل نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایک ٹول بتا رھے ہیں ۔
غامدی صاحب اور ان کے ھم خیال دیگر دانشوروں کا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ وہ ہر دینی امر کو بھی ریٹنگ اور فیشن زدگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق اس کا حل پیش کرتے ہیں ۔
ایسا اس لیے بھی ھوتا ہے کہ یہ حضرات دینی بلکہ دنیاوی علوم پر کوئی بامعنی دسترس اور رسوخ نہیں رکھتے اور ہر جگہ بےتکی اور غیر دائرہ جاتی گفتگو کرتے ہیں ۔
ان کی اصل پہچان بس میڈیا ٹیکنگ کی حد تک ھی ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…